Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیسے کیسے لوگ تھے جو پنہاں ھوگۓ۔۔ گل عدن

شیئر کریں:

آج چترال نے اک اور اسامہ کھو دیا۔ انجنیر خالد کوروم غار کے نام سے اپنی خدمات کا آغاز کرنے والا ایک نہایت قابل اور ذہین جوان کرونا جیسے موذی مرض کا شکار ھو کر  مختصر علالت کے بعد ھم سے جدا ھو گیا۔اس قدر عظیم سوچ اور ارادے رکھنے والے جوان کی اتنی کم عمری کی موت صرف اک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے چترال کے لۓ باعث صدمہ ہے ۔

جب کوروم غار کا آغاز ہوا تو اس سروس کی بنیاد رکھنے والے عظیم افراد کے لیے مجھ سمیت چترال کی کتنی بیٹیاں ھوں گی جن کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔جب جب ھمارے گھروں میں کوروم غار کے زریعۓ سودا سلف آتا ہے تو ان أن دیکھے لوگوں کے لیے ھمارے دل میں عزت روز بروز بڑھتی جاتی ہے کیونکہ چترال جیسے پسماندہ علاقوں کی خواتین کے لۓ سب سے بڑا مسئلہ سودا سلف منگوانا ہے جو کوروم غار کی بدولت انتہائی آسان ہو گیا تھا ۔مجھے ھمیشہ یہ سوچ کر خوشی ھوتی تھی کہ جن عظیم لوگوں نے سب سے پہلے کوروم غار کی بنیاد رکھ کر اتنا شاندار قدم اٹھایا ہے وہ  مزید آگے چترال کی ترقی کے لۓ اور کتنے   با مقصد کام کریں گے۔ ۔

اللہ نے اسامہ وڑائچ کے بعد انجنئر خالد کو فرشتہ بنا کر ھماری مدد کے لۓ بیھجا مگر افسوس اسے ھماری ہی نظر کھا گئ۔خالد جیسے جوان  پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں اسکے  ھم عمر  موج مستی میں مگن تھے تو یہ جوان ھماری مشکلات دور کرنے کے لۓ سوچتا تھا ۔ھمارے مسائل حل کرنے کی کوششوں میں لگا ھوا تھا ۔خالد کی موت چترال کا عظیم ترین نقصان ہے ۔جسے پورا کرنے میں سالوں لگ جائیں گے۔میری دعا ہے کے اللہ ھمارے اس عظیم بھائی کو شہید کا درجہ عطاء فرماۓ اور انکے عظیم والدین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔آمین ثم آمین


شیئر کریں: