Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بیرونی خاتون سیاح کو چترال داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، براڈام میں رات گزارنے کے بعد ٹنل سے واپس

شیئر کریں:

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) ضلعی انتطامیہ لوئیر چترال نے ایک غیر ملکی خاتون سیاح کو لواری ٹنل پر روک کر براڈام میں رات گزارنے پر مجبورکیا جوکہ انسانی حقوق کی سراسر ناانصافی اورضلعی انتظامیہ کی نااہلی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف دوسرے اضلاع سے گداگروں کے ٹولوں کو چترال انےکی اجازت دیکر کورونا وابا کو خود ہی دعوت دیے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چترال کے معروف نوجوان سماجی کارکن عمیر خلیل اللہ ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان کیا ۔

انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے دوسرے اضلاع سے پروفشنل گداگر چترال پہنچ کر بغیر ماسک اور ایس او پی کے گھوم پھر رہے ہیں۔اورساتھ سفارش کی بنیاد پرملکی اور غیر ملکی سیاح بھی چترال میں موجود ہیں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایک سیاح خاتون تمام تر قانونی ضوابط پورا کرنے کے باوجود اسلام آباد سوات اپر دیر کا دورہ کرچکی ہیں ۔ ۔مگر چترال میں داخل ہونے کی اس کو اجازت نہیں مل رہی۔جوکہ تعجب خیز ہے۔ اگر ملاکنڈ میں مکمل پابندی ہے تو انھیں درگئی سے آگے آنا ہی نہیں دینا چاہیے تھا مگرانھوں نے پندرہ دن سوات میں گزاری کسی نے نہیں پوچھاپھر دیر کا دورہ کیا وہیں پر بھی کوئی مزاحمت نہیں ہوئی جبکہ یہ دونوں اضلاع بھی ملاکنڈ ڈویژن کے حصے ہیں۔

عمیر خلیل نے مذید بتایا کہ پولش خاتون سیاح کی چترال انٹری کیلئے ڈی سی لوئیر چترال کو باقاعدہ درخواست دی گئی مگر ڈی سی نے یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحوں کا داخلے پر پابندی ہے ۔ اوربراڈام میں لیویز اہلکاروں نے خاتون کو کئی گھنٹوں روکے رکھا ۔ اور وہیں پر رات گزارنے پر مجبور کیا۔ اگلی صبح ٹنل سے خاتون کو واپس کردیا گیا ۔

عمرخلیل نے مذید کہا کہ چترال کے عوام مہمان نوازہیں اورحکومتی اہلکاربھی سیاحت کی ترقی اور سیاحوں کو ان علاقوں کی طرف راغب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے مگردوسری طرف چترال انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک خاتوں سیاح کو تقریبا چوبیس گھنٹے لواری ٹنل کے مقام پر روکے رکھنے کے بعد واپس کردیا گیا جوکہ انتہائی زیادتی اورنااہلی ہے ۔ جس سے حکومت کی امیچ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔

انھوں نے مذید بتایا کہ مذکورہ خاتون سیاح مارچ کے اوائل میں اسلام آباد پہنچی تھی اورکورونا کی وجہ سے وہیں پر قیام پذیر تھی جونہی حکومت کی طرف سے سیاحت پر پابندی نرم کردی گئی انھوں نے باقاعدہ اجازت لیکر سوات اور دیر کا دورہ کیا۔ مگرنامعلوم وجوہات کی بنا پر ڈی سی لوئیر چترال نے انھیں چترال داخلے پر پابندی لگادی ۔

عمیر خلیل ایڈوکیٹ نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، وزیرسیاحت خیبرپختونخوا اوروزیر اعلیٰ کے پی سے پرزوراپیل کی ہے کہ بیرونی خاتون سیاح کی لواری ٹنل سے واپس کرنے کا نوٹس لیا جائے۔


شیئر کریں: