Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ادب اور شعور …..تحریر:تقدیرہ خان

شیئر کریں:

فرائیڈ نے انسانی ذہن کو نفسیاتی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ فرائیڈ کے اس نظریے پر محققین نے بھرپور محنت کی مگر شعور، تحت الشعور اور لاشعور کی حدوں کو پھلانگنے میں ناکام رہے۔ سگمنڈ فرائیڈ پہلا شخص نہیں جس نے انسانی ذہن پر تحقیق کی اور اسے تین حصوں میں تقسیم کیا۔ فرائیڈ سے پہلے بابلی، یونانی، چینی، مصری، ہندی، ایرانی اور مسلمان حکمأ، علمأ اور فلاسفہ نے انسانی عقل و شعور اور اس کی تخلیقی، تعمیری اور تخریبی صلاحیتوں اور بنیادی جبلت پر سینکڑوں کتابیں لکھیں جس کی وجہ سے آنے والے ادوار میں علمأ و محققین کو ایک ایسے علم کی مضبوط بنیاد میسر آگئی جس پر علمیت کی عمارت تعمیر کرنا قدرے آسان تھا۔

سقراط، افلاطون اور ارسطو نے روح کو ذہن سے منسلک کیا ہے اور ان کے مطابق نفسیات کا تعلق براہ راست انسانی دماغ سے ہے۔ ماہرین نفسیات نے اسے ذہنی اعمال کے مطالعے کا نام دیا جبکہ یونانیوں نے اسے روح کے مطالعہ سے منسوب کیا ہے۔ ماہرین نفسیات نے نفسیاتی علوم اور مطالعہ کو انسانی اعمال و افعال کے پیش نظر عمومی، معاشرتی، مجرمانہ، طبی، تعلیمی، عضویاتی اور صنعتی نفسیات میں تقسیم کیا تاکہ اس علم کی افادیت ومضریت پر بحث آسان ہو اور ماہرین نفسیات مشکلات اور معمولات کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے افادیت کے عمل کو ترجیح دیں اور مضریت کے اثرات کو کم کرنے کے طریقہ کار کو اپنا سکیں۔
فرائیڈ کہتا ہے کہ شعور تخلیقی عمل کو اجاگر کرتا ہے۔ ناول نگار، ادیب، افسانہ نگار اور تخلیق کار اپنے شعور میں جمع شدہ مواد کو اپنی تحریروں کے ذریعے سامنے لاتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ ادب اور نفسیات کا باہم رابطہ نہ ہو تو تخلیقی عمل کا اظہار نا ممکن ہوتا ہے۔ ناول نگار، افسانہ نگار یا کہانی نویس اپنی کہانی کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ ناول، ڈرامہ، افسانہ، کہانی یا ادب کی کوئی بھی صنف ہو اگر تخلیق کار کی آب بیتی نہیں تو وہ اس کے مشاہدے، سوچ و فکر، سیاسی، معاشرتی اور معاشی حالات کا المیہ یا نوحہ ہوتا ہے۔
جس طرح شعور، تحت الشعور اور لاشعور ہر انسان کے ذہن کا حصہ ہے ویسے ہی سوچ و فکر، مشاہد، تخیل اور تصور انسانی عقل و شعور کا خاصہ ہے۔ جو چیز انسانی شعور میں ہو وہ کسی نہ کسی صورت میں اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ لوگ جو کاغذ و قلم کا استعمال نہیں جانتے وہ اپنے عمل سے اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ انسانی عمل اور ردعمل کا انحصاراس کی بنیادی تربیت، معاشرتی، سیاسی، اخلاقی اور روحانی اقدار و روایات، ملکی معاشی حالات اور قانون کے یکساں نفاذ پر ہوتا ہے۔ مثالی معاشرہ اور مثالی ریاست کا تصور (یوٹوپیا) تو موجود ہے مگر قدرت کے قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں۔ اسی طرح انسانی خواہشات اور تصورات کی طغیانی اخلاقیات اور روحانی تعلیمات سے کم تو کی جاسکتی ہیں مگر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔
جدید معاشرے میں دیگر اصلاحات کی طرح تخلیقی عمل کی اصلاح بھی ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو تفریح کے ساتھ تعمیری سوچ و فکر کی ترغیب دی جائے۔ موجودہ دور میں ہر شخص میڈیا کے ذریعے ادب سے منسلک ہے۔ ڈرامہ، ناول، تھیٹر، فلم، مشاعرے، علمی، ادبی، سیاسی، دینی اور روحانی مباحثے، کھیل، جسمانی ورزشیں، یوگا اور دیگر سرگرمیاں ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

دیکھا جائے تو بیان کردہ اصناف میں میڈیا کی ترقی نے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ علمی، ادبی، سیاسی، سماجی اور دیگر سرگرمیوں میں تنرلی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ اصلاحی اور فکری عمل اگرچہ ُرکا نہیں مگراس کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ ادب میں تخلیقی عمل نے نئی سمت کا تعین کر لیا ہے جس کی وجہ سے لکھنے اور اظہار خیال کرنے والوں کی ایک نئی پود سامنے آئی ہے جس پر تبصرہ ممکن ہی نہیں رہا۔
اردو ادب میں منٹو، رحیم گل، خان فضل الرحمن خان، جمیلہ ہاشمی، خشونت سنگھ، مرزا ہادی رسوا، قراۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، کشور نائیداور کئی دوسرے قلم کاروں نے نفسیات، جنسیات، تصورات و خواہشات پر کہانیاں، افسانے اور ناول لکھے مگر اصلاحی اور تنقیدی پہلوؤں پر گرفت ڈھیلی نہ ہونے دی۔ بہت سے قلمکاروں پر مقدمات بھی بنے مگر جو کچھ وہ کتابوں میں نہ لکھ سکے اس کا اظہار عدالت میں کیا تو باعزت بری ہوگئے۔

بیان کردہ اہل قلم نے اپنی ذات کا رونا نہیں رویا۔ انہوں نے اپنے اردگردکے ماحول اور معاشرتی برائیوں کا پردہ چاک کیا اور بھرپور انداز میں تنقید کی۔ اگر قلم کار اپنی تسکین یا خواہشات کی تکمیل میں ناکامی کا اظہار کرے تو اس سے معاشرے یا فرد پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کچھ عرصہ پہلے یک مشہور ٹیلیویژن اینکر نے مرحوم قاضی حسین احمد کے سامنے تہمینہ درانی کے ناول بلس فہمی کا ذکر چھیڑا اور قاضی صاحب سے اس پرتبصرہ کرنے پر زور دیا۔ قاضی صاحب نے کہا کہ میں نے یہ ناول پڑھا ہی نہیں تو اس پر تبصرہ کیسے کر سکتا ہوں۔ اینکر بار بار اس ناول کا ذکر چھیڑ دیتا تو قاضی صاحب نے تنگ آکر کہا کہ آپ نوجوان ہیں، جدید تعلیم سے آراستہ ہیں اور باخبر صحافی ہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ اس ناول پر تبصرہ کریں تاکہ میرے علاوہ جن لوگوں نے یہ ناول نہیں پڑھا وہ بھی اس کے مندرجات سے فیض یاب ہوں۔ قاضی صاحب کے اس بیان پر صحافی نے کہا کہ جو کچھ اس ناول میں لکھا ہے وہ بذات خود بلس فہمی کے مترادف ہے جس پر کھلے عام تبصرہ ممکن نہیں۔

بولڈ لکھنے والوں میں واجدہ تبسم سرفہرست ہے مگر اس کی تحریروں میں سچائی ہے۔ بارھویں صدی میں الحاحظ ا اور اسحاق الکندی نے عورتوں، کنیزوں، غلاموں، ناچنے اور گانے والیوں، طوائفوں، امیر ذادیوں، نوابوں اور جاگیر داروں کی نفسیات پر جو کچھ لکھا وہ تقسیم ہند سے پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ واجدہ تبسم کی تحریروں پر تبصرہ ممکن ہے مگر تہمینہ درانی کی بلس فہمی اور ریحام خان کے ریحام نامے پر نہیں۔ تہمینہ درانی کی پہلی تحریر “مائی فیوڈل لارڈ” اس کی سوانح حیات ہے جو کھلے انداز میں تمامتر سچائیوں کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ عاصمہ جہانگیر نے لکھا جو کل نو ابواب پر مشتمل ہے۔ لیڈر، کھر بمقابلہ کھر، جہنم کی ٹیکریاں، سیاسی جانور، ماں کے پیٹ پر پردہ، مائی نیوڈل لارڈ، بروٹوس یوٹو، آؤٹ آف شیڈو اور دغا کے عنوان سے لکھے گئے ابواب میں تہمینہ نے پیپلز پارٹی کی سیاست، غلام مصطفی کھر کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی کردار، اپنی ماں بیگم درانی، بہن، سابقہ خاوند انیس اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو بھرپور انداز میں بیان کیا۔ تہمینہ نے اپنی تحریر میں اپنے کردار و عمل پر کوئی پردہ نہ ڈالا اور نہ ہی اپنی ماں اور بہن کا دفاع کیا۔ اس نے اپنے سابق خاوند انیس کی سادگی، مجبوری اور سفید پوشی پر ندامت کا اظہار کیا جس کی سزا اسے کھر کی صورت میں ملی۔

مائی فیوڈل لارڈ کے مقابلے میں ریحام نامہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کی زندگی کا کوئی اصول یا ضابطہ نہیں۔ جنسی اور مادی خواہشات کے دلدل میں ڈوبی ایک ایسی عورت کی کہانی جیسے بیان کرنا ممکن نہیں۔

آج ہمارے معاشرے کو اصلاحی ادب کی اشد ضرورت ہے اور ہمارے ہاں ایسے تخلیق کاروں کی کمی نہیں۔ امید ہے کہ ہمارا میڈیا اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور مثبت سوچ و فکر کے حامل قلمکاروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے لائحہ عمل تیار کریگا۔


شیئر کریں: