Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا کا سالانہ بجٹ برائے سال 2020-21، ۱۹جون کو پیش کیا جائیگا

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)خیبرپختونخوا کا سالانہ بجٹ برائے سال2020-21 19 جون کو سہ پہر تین بجے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ تیمور سلیم جھگڑا بجٹ پیش کریں گے۔ کرونا وائرس کے غیر معمولی حالات کے پیش نظر بجٹ سیشن کو 28 جون تک محدود کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے لیے تمام ممبران کو ایس او پیز جاری کر دی گء ہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اور اجلاس سے ایک ہفتہ قبل تمام ممبران کے ٹیسٹ ہونگے۔ ایوان میں سماجی فاصلے سوشل ڈسٹنسگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تمام ممبران ماسک پہن کر اسمبلی میں آئیں گے۔ جب کہ اجلاس کے دوران مہمانوں کی آمد پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات میں گزشتہ روز ہونے والے فیصلوں کے بارے میں صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ ملاقات میں حکومت کی طرف سے وزیر محنت اور ثقافت شوکت یوسفزئی، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر تعلیم اکبر ایوب، وزیر قانون سلطان محمد خان اور کامران بنگش جبکہ اپوزیشن کی طرف سے لطف الرحمن، سردار حسین بابک، شیر اعظم وزیر اور سردار نے شرکت کی۔ شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ اپوزیشن اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات بہت مفید رہے۔ اور اس بات پر اتفاق رہا کہ اس مشکل صورتحال میں متفق ہو کر بہتری کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حفاظتی اقدامات کرونا وائرس کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں۔ تاکہ بجٹ اجلاس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ملاقات میں فنڈ کی تقسیم کے حوالے سے بھی گورنمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت ہوئی۔ حکومتی وفد نے اپوزیشن کے تحفظات سنے اور ان سے وقت مانگا کہ وہ وزیر اعلی محمود خان سے ملاقات کرکے منگل کو اپوزیشن کو جواب دیں گے۔مذاکرات کے دو سیشن ہوئے پہلے سیشن میں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے بھی شرکت کی۔اور اسمبلی اجلاس کے معاملات طے کیے۔ جبکہ دوسرے سیشن میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان فنڈز کی تقسیم کے معاملے پر مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے آئندہ سیشن میں منگل کے روز صوبائی اسمبلی کی تحلیل کردہ کمیٹیوں کو دوبارہ بنانے کے لیے فارمولے پر بات چیت ہو گی۔

……..

دریں اثنا خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ رواں سال اپریل تک وفاق سے صوبے کو 294 ارب روپے ملے۔ اور خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے تحت 14 ارب روپے اپریل تک وصول کیے گئے۔ ترقیاتی منصوبوں میں صوبہ کا اپنا حصہ 108 ارب روپے رہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث پن بجلی کی مد میں وفاق سے ملنی والی رقم متاثر ہوئی۔ اور پچھلے تین مہینوں میں کورونا وائرس کے باعث ریونیو میں سو ارب روپے کا فرق آیا۔ اگلے بجٹ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے خصوصی رقم مختص کی جائے گی۔ اورصحت کے لئے ریکارڈ فنڈز مختص کرینگے،انہوں نے کہا کہ اگلے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائینگے،آئندہ بجٹ میں سروس ڈیلوری پر زیادہ توجہ دی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر کے ساتھ مالی سال 21-2020 کے بجٹ حکمت عملی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب تمام فنڈز استعمال کیے ہیں اور ایک روپے بجٹ بھی لیپس نہیں ہوا۔ آئندہ بجٹ میں سروس ڈیلوری پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اگلے مالی سال بجٹ میں صوبہ کی پوری آبادی کو صحت انصاف کارڈ دینگے۔اور یہ بجٹ پاکستان کی تاریخ میں صوبے کا منفرد بجٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019–20 خیبرپختونخوا کے لیے اچھا سال تھا۔صوبے کے ایف بی آر شئیر میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔صوبائی ٹیکس کولیکشن اتھارٹی نے 73 فیصد اضافی ٹیکس محاصل حاصل کیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ رواں مالی سال کی دوران پنش ریفارمز کے تحت 20 ارب کی بچت کی گئی، کورونا کے باعث وفاق کو ایف بی آر وصولیوں کی مد میں کمی کے باعث صوبائی بجٹ بھی متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے بجٹ میں 31 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، مشیر اطلاعات اجمل وزیرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے کورونا صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور فرنٹ لائن پر قومی جذبے کیساتھ موجود ہے۔ صحافیوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں سب نے ملکر کورونا وائرس کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا مشکلات سے باخبر ہے۔ جن کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مشیر اطلاعات نے کہا کہ قبائلی اضلاع بھی ہمارے ہیں ان کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔


شیئر کریں: