Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امیدوبیم کی کیفیت ….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی عالمی وبا ء کے تناظر میں کم تر شرحِ اموات اور اس بیماری کو شکست دے کر صحت یاب ہوجانے والوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 210 سے زائد ممالک میں 19ویں نمبر پر آگیا۔پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 65 ہزار تک پہنچ چکی ہے البتہ اب تک کیے گئے 508086 ٹیسٹوں کے مقابلے میں یہ تعداد صرف 12 فیصد بنتی ہے۔ پاکستان میں کوروناکی بیماری میں مبتلا ہونے والے 20231 مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اورکورونا کو شکست دینے والے مریضوں کی شرح 33 فیصد بنتی ہے۔آبادی کے تناظر میں کورونا وائرس سے متاثرہ پاکستانیوں کی شرح دس لاکھ میں سے 278 ہے جو عالمی اوسط 745 فی دس لاکھ سے بہت کم ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے کورونا وائرس کے ہاتھو ں لقمہ اجل بننے والوں کا تناسب دس لاکھ میں سے صرف 6بنتا ہے۔ یہ بھی عالمی اوسط 45.9 فی دس لاکھ سے بہت کم ہے۔اس کامیابی کے پیچھے ہماری کوئی کاوش روبہ عمل نہیں۔ہم نے خود کو، اپنے خاندان اور دوست احباب کو کورونا سے متاثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔اس کے باوجود پاکستان میں اس عالمی وباء میں مبتلا اور اس کا شکار ہونے والوں کی شرح کم رہنا اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ حکومت، ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی طرف سے مسلسل ہدایات کے باوجود بہت کم لوگ حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔یورپ میں بھی ابتداء میں یہی صورتحال بنی تھی۔ لوگوں نے اس مرض کو کوئی بیماری سمجھا ہی نہیں تھا۔ لیکن جب ہسپتال اور سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں تو ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ ہماری آبادی کا چالیس فیصد غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذار رہا ہے حکومت نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاون سے گریز کیا تاکہ دیہاڑی دار لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکج بھی دیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں میں بارہ ہزار روپے کی امدادی رقم تقسیم کی گئی۔ حکومت، فلاحی اداروں اور مخیر لوگوں کی طرف سے امدادی سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ عالمی وباء کے پھیلاو میں شدت نہ آنے پر حکومت نے دکانیں، ہوٹل اور کاروباری ادارے ایس او پیز کے تحت کھولنے کا جب اعلان کیا تو کروڑوں کی تعداد میں لوگ عید شاپنگ کے لئے بازاروں میں امڈ آئے۔کاروباری مراکز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی نوے فیصد سے زیادہ لوگوں نے فیس ماسک اور دستانے بھی نہیں پہنے تھے۔حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ بھی کھولنے کا اعلان کیا۔مگر وہاں بھی حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے اندر لوگوں نے سمارٹ لاک ڈاون کا جو حشر کیا ہے اس کے تناظر میں اگلا ہفتہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پشاور کے تدریسی ہسپتالوں نے اعلان کیا ہے کہ ایمرجنسی کیسز کے علاوہ صرف کورونا کے مریضوں کو داخل کیا جائے گا۔ محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے اندر کورونا کیسز میں پندرہ سے بیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ تناسب تیس فیصد سے تجاوز کرجائے تو لاک ڈاون میں سختی کرنے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوگا۔کیونکہ گذشتہ روز ایک ہی دن ملک بھر میں 65افراد کے کورونا سے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اسی روز 1557نئے کیسز سامنے آئے ہیں اب تک ملک میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار چار سو کے لگ بھگ ہے۔یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں خاندان کو شریک نہیں کیا جاتا۔عام لوگوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ کوئی شخص دل، گردے کی تکلیف، پیٹ میں درد، ٹائیفائڈ اور ملیریا کی شکایت لے کرسرکاری ہسپتال جائے تو اسے بھی کورونا کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود ہسپتال جانے سے گریزاں ہیں جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ قرنطینہ مراکز میں سہولیات کم پڑنے لگی ہیں زیادہ تر لوگ گھروں پر ہی آئسولیشن میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ بات طے ہے کہ اس عالمی وباء پر قابو پانا صرف حکومت یا محکمہ صحت کے بس کی بات نہیں، ہر شہری کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔اگر ہم میں سے ہر شہری اپنی جان بچانے اور اپنے خاندان کی حفاظت کی خاطر احتیاطی تدابیر پر عمل کرے تب ہی اس وباء کے خلاف قومی سطح پر محاذ قائم کیا جاسکتا ہے اور اسے شکست دی جاسکتی ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
36258