Chitral Times

Feb 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 29پراجیکٹس کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی(پی ڈی ڈبلیو ڈی)کا اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا شکیل قادر خان کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو ڈی اور متعلقہ محکموں کے ممبران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کیلئے شعبہ ہائے صحت، سماجی بہبود، سڑکوں، پلوں، زراعت، واٹر اور ڈی ڈبلیو ایس ایس سے متعلق 30پراجیکٹس پر غور کیا۔ فورم نے 33819.208ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے 29پراجیکٹس کی منظوری دی جبکہ تین منصوبے ملتوی کئے گئے اور اصلاح کیلئے انہیں متعلقہ محکموں کو واپس بھیج دیا گیا۔صحت کے شعبے کے منظور شدہ منصوبوں میں فاٹا میں انٹیگریٹڈ ویکٹر منیجمنٹ پروگرام، چلڈرن و میٹرنٹی ہسپتال چارسدہ کی تعمیر، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں موجودہ ایکسیڈنٹ و ایمر جنسی یونٹ اور آئی سی یو کی درجہ بلندی،محکمہ صحت میں انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی تعمیرموجودہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مٹہ کی کیٹگری Bہسپتال اور (لیولII)ٹراما سنٹر ایکسیڈنٹ و ایمرجنسی سنٹر ضلع سوات کی درجہ بلندی، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ایبٹ آباد کی درجہ بلندی، بائیو میٹرک سسٹم /سرویلنس کیمروں کی فراہمی، زچگی اور شیر خوار بچوں کی زندگیوں کو بچانے جیسے منصوبے شامل ہیں۔شعبہ سماجی بہبود کے منظور شدہ منصوبوں میں خیبر پختونخوا میں ڈیٹوکس یونٹ اور موجودہ الیون ڈرگ ایڈکٹ بحالی مراکزکی استعداد بڑھانا، ضلع سوات، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں ماڈل انسٹیٹیوٹ (زمونگ کور) فارسٹیٹ چلڈرن کے بوائز کیمپس کی تعمیر اور ضلع پشاور میں (نان ADP) ایک گرلز کیمپس کی تعمیر جیسے منصوبے شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریں اثنا صوابی کے ہسپتالوں میں صحت سہولیات کا جائزہ لینے اور انہیں مزید بہتر اور مربوط بنانے کے لیے ایک اجلاس زیر صدارت وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم خان جھگڑا پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر طاہر ندیم، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی، ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان، باچا خان میڈیکل کمپلیکس کے سی ای او اور میڈیکل ڈائریکٹر نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر صحت کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں صحت سہولیات اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہسپتال انتظامیہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر اندر کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹری کو فعال بنائے گی۔ اسی طرح صحت سے متعلق مشنری جن میں ڈائیلاسز مشین، ای سی جی مشین، پورٹیبل الٹراساؤنڈ مشین اور لیب کے لیے بائیو سیفٹی کیبنیٹ بھی جلد فراہم کر دئیے جا ئیں گے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہسپتال میں صحت عملے کی کمی کو دور کرنے کے بھرتیاں کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ہسپتالوں سے عملہ وہاں تبدیل بھی کیا جائے گا جبکہ کلاس فور ملازمین کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت صحت کے شعبے پر توجہ دے رہی ہے اور اس کورونا وباء کے دوران ہماری ساری توجہ ہی محکمہ صحت پر ہے۔ انہوں نے کہا تمام صحت عملہ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر عوام کی جان بچانے میں مصروف ہے۔ دریں اثناء انہوں نے گزشتہ روز حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پیش آنے والے واقعہ کو انتہائی افسوناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت رنجیدہ ہیں کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر پر ایک شخص نے تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹرز کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ عوام الناس سے اپیل ہے کہ بے صبری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے صبر سے اور احتیاط سے کام لیں اور صحت عملے سے تعاون کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: