Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بدقسمت طیارہ یا قاتل طیارے؟؟ ….تحریر:گل عدن چترال

شیئر کریں:

پی آئی اے کے مسلسل ھونیوالے حادثات نے اس ادارہ کی نا اہلی کو ثابت کردیا ہے۔پچھلے 50 سالوں میں تقریبا20 سے زائد حادثات ہو چکے ہیں لیکن آج تک کسی بھی حادثے کی تحقیقات کسی مفید انجام تک نھیں پہنچ سکیں۔ہزاروں قیمتی جانیں انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کی نذر ہو گئیں۔لیکن آج تک اس نام نہاد ادارے نے کسی حادثہ کی زمہ داری قبول نہیں کی۔جتنے بھی طیارے تباہ ہو ۓ’ حادثے کی نذر ہو نے سے پہلے ‘ عملے کی طرف سے ان طیاروں کی خراب حالت کی شکایات مسلسل موصول ہو تے رہے مگر حکام نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کبھی بھی ان شکایات پر توجہ نہ دی۔ھمیشہ سنی ان سنی کرتے ہو ۓ معصوم عملہ سے ڈیو ٹی کے نام پر  ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر  دستخط لیتے رہے اور اپنی قاتل پروازیں اڑاتے رہے ۔اور یہ عظیم عملہ  ہزاروں مشکلات کا سامنہ کرتے ہو ۓ بھی ادارہ کے خلاف کبھی اف تک نھیں کرتے۔۔

ایک شخص فضاؤں میں اڑان بھرنے کا جذبہ لیکر پیدا ھوتا ہے تب جا کر اپنی خوش قسمتی سے پائلٹ بن جاتا ہے مگر اسکی بد قسمتی اسے پی آئی اے جیسے ادارے کی طرف لے آتی ہے جو ان روشن آنکھوں میں اندھیر بھرنے کا کام بڑے لگن سے کر رہا ہے ۔آخر ایسا کب تک چلے گا؟؟؟

کیا یونہی ھمیشہ دیکھتے ہی دیکتھے اک لمحہ میں حادثہ ہو گا- پل بھر میں 100 جانیں ظائع ہوں گی-تحقیقات کا حکم دیاجائے گا – میڈیا اپنی بھر پور کوریج سے کچھ دن ہمیں دردناک کہانیاں سناۓگا اور پھر قصہ ماضی کا حصہ بن جاۓ گا ۔آخر کب تک؟؟پی آئی اے سے کون پوچھے گا آخر کیون یہ سب کی جانوں کا دشمن بنا ہوا ہے؟؟؟

\اگر پی آئی اے احسن طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا تو ادارے کو چاھیئے اپنی نالائقی تسلیم کر لے اور عوام پر احسان عظیم کرتے ہوۓ اس منحوس ادارے کو ھمیشہ کے لئے بند کردیں۔ بصورت دیگر عوام کو چاھئیے کے اس ادارہ کا مکمل طور پہ بایئکاٹ کریں۔ 


اور جو کوئی اس تحریر کو پڑھ رہا ہے میری آپ سے گذارش ہے’ اگرآپ مجھ سے اتفاق رائے رکتھے ھیں  آپ اسے شئر ضرور کریں۔ اور  پی آئی اے کی ناقص کارکردگی کے خلاف آواز اٹھانے میں میرا ساتھ دیں۔


شیئر کریں: