Chitral Times

Apr 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رجوع الی اللہ……. انسانیت کے کل مسائل کا حل ……ڈاکٹر ساجد خاکوانی(اسلام آباد،پاکستان)

شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
drsajidkhakwani@gmail.com
اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتاراتوساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیاکہ میری طرف سے تمہیں ہدایت ملتی رہے گی،جو اس ہدایت کی پروی کرے گا وہ جنتوں میں داخل ہو گا اور اس ہدایت کے راستے سے روگردانی کرے گااسے دوزخ میں داخل کیاجائے گا۔ہدایت کے اس سلسلے میں اللہ تعالی نے ایک لاکھ چالیس چوبیس ہزار مقدس پیغمبر مبعوث فرمائے اور قرآن مجید نے کہاکہ اللہ تعالی نے ہر قوم کی طرف ایک ایسا شخص ضرور بھیجاجو انہیں راہ ہدایت دکھانے پر مامور ہوتاتھا۔ان انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یادکرانا چاہا کیونکہ پہلا انسان ہی آسمان سے درس توحید ساتھ لے کر اس زمین میں وارد ہواتھاپھر ابلیس نے مختلف حیلے بہانوں سے انسانوں کو ان کا اولین سبق بھلا دیااور انہیں ہوس نفس میں مبتلاکر کے اپنے خدا سے دور کر دیا،جن جن اقوام نے انبیاء علیھم السلام کے دوبارہ یاد کرانے پر اس سبق توحید کو پھر ازبر کر لیا وہ کامیاب ہو گئیں اس دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی فوزوفلاح و کامرانی کا ان سے وعدہ ہے جیسے قوم سبا،جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت الی اللہ قبول کر لی تو اس قوم کی خوشحالی کاعالم یہ تھا کہ ایک شخص اگر باغات کے نیچے سے صرف گزر جاتا تو دوسرے کونے پر پہنچنے سے پہلے پک کرخود بخود گرنے والے پھلوں سے اس کا ٹوکرا بھر جایاکرتاتھا۔اسی طرح جب مسلمانوں نے محسن انسانیت ﷺ کی دعوت الی اللہ کو قبول کر لیاتو یہ عالم ہو گیاکہ ایک شخص رات گئے حضرت عمر بن عبدالعزیزکے گھر آیااور کہاکہ زکوۃ دینے اتنے سومیل دور سے آیاہوں،حضرت نے فرمایاکہ تیرابراہو راستے میں بانٹ دی ہوتی،اس نے عرض کی اے امیرالمومنین سارے راستے آواز لگاتاآیا ہوں کہ لوگو زکوۃ کا مال ہے کوئی تو لے لو خداکی قسم کوئی زکوۃ لینے والا نہیں ملا۔


اس کے برعکس جن اقوام نے انبیاء علیھم السلام کی دعوت کو جھوٹ سمجھااور ان کا مذاق اڑایا وہ قومیں کتنی ہی بڑی معاشی طاقت تھیں یا کتنی ہی بہترین سائنس و تیکنالوجی کی حامل تھیں انہیں اللہ تعالی کے دردناک عذاب سے کوئی نہیں بچا سکا۔ان اقوام کی باقیات آج بھی موجود ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے بتایا کہ ان جیسی قوت کسی اور قوم کو نہیں دی گئی تھی،وہ پہاڑوں کو کھود کر ان میں اپنے مسکن بناتی تھیں اور کھجورکے تنوں سے زیادہ لمبے ان کے قد تھے اورقوت اور طاقت اس قدر تھی کہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے درختوں کو ان کی جڑوں سمیت کھینچ کر اکھاڑ لیتے تھے اور اپنی طاقت کے نشے میں کسی کو اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے تب پھر اللہ تعالی کے رسول نے انہیں رجوع الی اللہ کی دعوت دی اور انہیں کہا اس اللہ سے ڈرو جو تمام جہانوں کا اکیلا رب ہے تو اس قوم نے اپنی طاقت کے گھمنڈمیں اس نبی علیہ السلام کا انکار کیااور اسے جھٹلا دیااور بار بار کی تنبیہات کے باوجود اپنی ضد پر اڑے رہے اور پھر کہنے لگے کہ لے آؤعذاب جس کا تم ایک عرصے سے ڈراوادیتے آ رہے ہواللہ تعالی کے نبیوں نے اپنی آخری حد تک ان قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان قوموں نے مان کر ہی نہ دیاتب وہ انبیاء علیھم السلام ان قوموں سے مایوس ہو کر وہاں سے ہجرت کر گئے اور آج تک ان قوموں کے علاقے گواہ ہیں کہ اتنے شاندارتمدن، اتنی عالی شان تہذیبیں،بہترین معاشی نظام اور وقت کی بہترین تعلیم سے مزین سائنس و تیکنالوجی چشم زدن میں ایسے زمیں بوس ہوئے پھر صدیوں کی خاک نے انہیں اپنے اندر دفن کر دیا اور آج ان بت پرست قوموں کے عبرت انگیزآثارملتے ہیں جنہیں اپنا ثانی نظر نہیں آتاتھا۔


آج پوری انسانیت پر پھر وہی حالات ہیں جو انبیاء علیھم السلام کے آنے سے پہلے ہوا کرتے تھے پس آج بھی انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات ہی انسانیت کو اس جنجال سے نجات دلا سکتی ہیں،انسانیت کو ایک بار پھر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا ہوگا،سود سے بھری ہوئی اور غریبوں کااور غریب اقوام کا استحصال کرنے والی سودی معیشیت کو ترک کرنا ہوگا،جس طرح آخری نبی نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات عطا کی اسی طرح بڑی قوموں کو چھوٹی قوموں کی گردنوں سے اپنے تہذیبی،دفاعی اور معاشی طوق اتارکر انہیں اپنی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا تب ہی یہ ممکن ہو سکے گا کہ انسانیت سکون کا سانس لے سکے اور تب ہی اس دنیا میں امن و آشتی اور پیار و محبت کا خواب شرمندتعبیر ہو سکے گا۔دولت کی حرص،اقتدارکی حوس اورلذت نفسی سے بھری آنکھیں وہ قباحتیں ہیں جو انسان کوجہاں اللہ تعالی سے دور لے جاتی ہیں وہاں خود انسانیت کو ذلت و رسوائی کے اندوہناک گڑھے میں جا ڈالتی ہیں ان آلائشوں کی بجائے انسان کو للہیت،تقوی اور اخلاص و دیانت جیسی تعلیمات ہی دنیاوآخرت کی کامیابیوں و کامرانیوں کی طرف لوٹا پائیں گی۔


عالم انسانیت کو اللہ تعالی کی طرف بلانے کاکام انبیاء علیھم السلام کے ذمے تھاجن کی آمد اب ختم ہو چکی ہے اور اللہ تعالی کی آخری کتاب نے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ کو سونپ دی ہے۔مسلمانوں کا فرض منصبی ہے اور وہ اسی لیے مسلمان ہیں کہ ان کے پاس اللہ تعالی کا آخری پیغام ہے جسے انہوں نے آوازلگاکر لوگوں تک پہنچاناہے اور مخلوق کو خالق کی طرف کھینچناہے۔جب تک امت یہ ذمہ داری اداکرتی رہی اس وقت تک اس دنیا میں سربلند و سرفراز رہی اور جب سے یہ ذمہ داری تعطل کا شکار ہے تب سے ذلت و رسوائی امت مسلمہ کی پہچان بنی ہے۔محسن انسانیت ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا تھا کہ جس تک یہ دعوت پہنچ چکی ہے وہ دوسروں تک پہنچائے اور پھر فرمایا کہ جب تک اللہ تعالی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو تھامے رہو گے دنیامیں عزت والے رہو گے اور جب چھوڑ دو گے ناکام و نامراد ہو جاؤ گے۔گزشتہ ایک طویل عرصے سے امت مسلمہ کے ہاں مختلف نوعیت کے تجربات ہو رہے ہیں،کبھی سوشلزم تو کبھی کیمونزم،کبھی سیکولرازم تو کبھی مغربی جمہوریت اور کبھی ملے جلے تجربات لیکن ان سب کا نتیجہ سوائے ناکامی اور رسوائی کے کچھ نہیں نکلا۔بعثت نبوی ﷺ سے آج تک اور آج سے تاقیامت اس امت کو صرف خلافت راشدہ کا نظام ہی مشکلات سے نکال سکتاہے باقی تمام تجزئے،تمام جائزے اور تمام تر مشاورتیں اور کل دانشوریاں باطل ہیں اور امت کو صرف رجوع الی اللہ ہی وہ واحد نسخہ جو سب سے بڑے مربی و حکیم و طبیب نے تجویزکیااور یہی پہلا اور یہی آخری نسخہ ہے۔امت مسلمہ کو مشرق ومغرب کے قبلے ترک کرنا ہوں گے اور صرف بیت اللہ کے سائے میں آسودگی چاہنا ہوگی۔


پاکستان دنیاکی واحد ریاست ہے جس کا جواز لاالہ الااللہ ہے،جسے مسلمانوں نے صرف اس لیے حاصل کیا کہ یہاں پر اللہ تعالی کا نازل کیاگیاآخری نظام نافذ کیاجائے گا۔پاکستان میں بسنے والی پاکستانی قوم نے کل دنیاکے مسلمانوں کا درد اپنے سینے میں محسوس کیاہے لیکن بہت سے کام ابھی بھی کرنے باقی ہیں اور ضرورت ہے کہ اس مملکت خداداکے باسی ایک بار پھر اپنے رب کی طرف صدق دل سے رجوع کریں اور اپنی کوتاہیوں پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں رب غفارسے معافی کے طلب گارہوں۔پاکستان پر آنے والی ہر مشکل کے پیچھے قوم کی کوتاہیاں کارفرما ہیں،ضروری ہے کہ ملک و قوم کی باگ دوڑ صالح ہاتھوں میں تھمائی جائے اور دہرے معیار سے بہر صورت میں بچا جائے،انگریز کے قانون کی بجائے شریعت محمدیء ﷺ کے مطابق فیصلے کیے جائیں،وراثت میں بہن،بیٹی اور بیوہ کو بھی حصہ دیا جائے،تعلیم کے میدان میں لادینیت سے اپنی نسلوں کو حتی الامکان دور رکھا جائے اور انہیں سائنس و تیکنالوجی کی ایسی تعلیم دلائی جائے جو انہیں اللہ تعالی سے قریب تر کرے اور پوری ذمہ داری سے ایسی نسل پروان چڑھائی جائے جو صرف ڈاکٹر انجنئر وکیل اور پروفیسرہی نہ ہو بلکہ مسلمان اور پاکستانی بھی ہو۔ایک دیندااور محب وطن نسل ہی پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہو سکتی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کل قوم رجوع الی اللہ کرے اوراللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کو ہی اپنا مطمع نظر بناکے۔


ہر سربراہ خاندان اپنے خاندان کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو اللہ تعالی کی طرف پلٹا کر لائے۔قرآن نے حکم دیا ہے کہ خود کو اور اپنے اہل عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔سربراہ خانہ اس بات کا خیال رکھے کہ کیا اس کے گھر میں سب امور اللہ تعالی کے حکموں کے مطابق سرانجام پا رہے ہیں؟فرائض کی ادائگی اور محرمات کا خیال رکھاجارہاہے؟اور کیارزق کی آمدنی کے ذرائع حلال پر مبنی ہیں؟اور کیااہل خانہ کا اٹھنا بیٹھناصالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ہی ہے؟سربراہ خانہ اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ اپنے اہل خانہ کو کتاب اللہ کے ساتھ جوڑے،دنیاکے علوم و فنون پر بہت توجہ دینااور کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دینا یا صرف تلاوت و جھاڑ پھونک اور حلف اٹھانے تک محدود کر دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ہر ہر مسلمان انفرادی طور پر اپنی نمازوں سمیت کل فرائض و واجبات کی ادائگی اور منہیات سے بچنے کا ذمہ دار ہے اوراپنے ایک ایک عضوکا ذمہ دار ہے کہ اس نے ان اعضا کو کیا ان کے دینے والے کی مرضی سے استعمال کیاہے؟؟جب تک ایک ایک فرد اپنے گریبان میں جھانکے گااس وقت تک بحیثیت قوم ہم اپنی اصلاح نہیں کر سکتے اور جب تک ہر ہر قوم اپنی اصلاح نہیں کر لیتی ہم بحیثیت امت اپنی شناخت نہیں منوا سکتے اور جب تک امت مسلمہ اپنے فرض منصبی پر لوٹ کر نہیں آتی اس عالم انسانیت کی راہنمائی کامنصب کفارومشرکین کے ہاتھوں میں رہے گااور دریاؤں میں پانی کی بجائے انسانوں کا خون بہتاہوانظر آئے گا۔رجوع الی اللہ فرد سے انسانیت تک ایک ایسا نسخہ ہے جس میں سب کافائدہ پنہاں ہے اس دنیاکا بھی اور آخرت کا بھی۔


شیئر کریں: