Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترقیاتی فنڈز کا ضیاع….. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت رواں مالی سال کے گیارہ مہینوں میں ترقیاتی فنڈکا 71 فی صد بروئے کار نہ لاسکی۔صوبے کے ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص 236 ارب روپے میں سے صرف 69 ارب روپے خرچ کیے جا سکے۔قبائلی اضلاع کے لیے مختص 83ارب روپے میں سے صرف 12 ارب روپے خرچ کیے گئے ضلعی ترقیاتی بجٹ کی مد میں مختص 46 ارب میں سے صرف 77کروڑ خرچ ہو سکے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ترجیحی ایجنڈے میں شامل محکمہ کھیل و سیاحت بھی 8 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ میں سے صرف 2 ارب روپے خرچ کرسکا۔ محکمہ بلدیات میں شہری ترقی کے لئے چھ ارب 35کروڑ روپے بجٹ میں رکھے گئے تھے۔محکمہ خزانہ نے اس میں سے پانچ ارب چوالیس کروڑ روپے جاری کئے تھے تاہم صرف تین ارب نوے کروڑ روپے ہی تنخواہوں اور دیگر مدات پر خرچ کئے گئے نئی سکیموں کے لئے چورانوے کروڑ روپے مختص تھے۔اس فنڈ کا ایک پیسہ بھی اب تک خرچ نہیں ہوسکا۔

پشاور سیف سٹی منصوبے،فضلے کی ٹریٹمنٹ پلانٹ،تحصیلوں میں ذبح خانون کی تعمیر، بس ٹرمینل، سبزی منڈی، ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص ہونے کے باوجود کوئی کام نہیں ہوسکا۔خیبر پختونخوا مالی طور پر ایک کمزور صوبہ ہے۔ مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہونے کے باوجود ماضی میں بھی اس صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا رہا۔اور آج بھی وہی سلوک جاری ہے۔ ہمیں قابل تقسیم پول سے اپنا پورا حصہ مل سکا نہ ہی بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی ہوسکی۔ محدود وسائل کے اندر بجٹ میں عوامی بہبود کے جو منصوبے شامل کئے جاتے ہیں ان کے لئے مختص فنڈز بھی مالی سال گذرنے کے باوجود خرچ نہ ہوں تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی۔جب دستیاب وسائل کو ہی بروئے کار نہیں لایاجائے گا تو غربت کی شرح کم ہوسکتی ہے نہ ہی تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو ترقی دی جاسکتی ہے۔

بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی کا سب سے زیادہ نقصان نچلی سطح پر عوام کا ہورہا ہے۔عوامی فلاح و بہبود کے جو منصوبے ویلج، نیبرہڈ، تحصیل،ٹاون اور ضلع کونسلوں کے ذریعے مکمل کئے جانے تھے۔ منتخب اداروں کی عدم موجودگی کے سبب وہ تمام منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔یہ ہمارے جمہوری نظام کا المیہ ہے کہ منتخب حکومتیں بلدیاتی اداروں کو ہمیشہ نظر انداز کرتی رہی ہیں۔پاکستان میں جتنے بلدیاتی نظام لائے گئے وہ آمرانہ ادوار کی مرہون منت ہیں ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا تو ضیاء الحق نے ضلعی حکومتوں کی شکل میں نیا بلدیاتی نظام دیا اور پرویز مشرف نے بلدیات کا وہ نظام متعارف کرایا جو گذشتہ سال تک ملک میں نافذ تھا۔ جب ان کی معیاد ختم ہوئی تو تین ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانا آئینی ضرورت ہے مگرنئی حلقہ بندیوں کا بہانہ بناکر بلدیاتی انتخابات گذشتہ چھ مہینوں سے ملتوی کئے جاتے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت بلدیاتی انتخابات کو معرض التواء میں رکھنے کا یہ جواز پیش کر رہی ہے کہ سات قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے بعد وہاں بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل کرنے میں وقت لگے گا اور قبائلی اضلاع سمیت پورے صوبے میں ایک ہی روز بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔اب کورونا وائرس کی وجہ سے تمام سرکاری دفاتر بند اور کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے۔جب تک کورونا کا بحران ٹل نہیں جاتا،بلدیاتی انتخابات سمیت تمام سرکاری امور تعطل کا شکار رہیں گے۔خیبر پختونخوا معاشی لحاظ سے دیگر صوبوں کی نسبت غریب صوبہ ہے۔یہاں عوامی فلاح و بہبود کے لئے جو وسائل بجٹ میں مختص کئے جاتے ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں اور وہ قلیل فنڈز بھی پورے مالی سال کے دوران خرچ نہ ہوپائیں توصورتحال کتنی ابتر ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

بلدیات سمیت جن جن محکموں کے کم از کم 80فیصد فنڈز مالی سال کے اختتام تک خرچ نہیں ہوئے۔ حکومت کو ان محکموں میں وسیع پیمانے پراصلاحات کا سوچنا ہوگا کیونکہ فنڈ بروئے کار نہ لائے جانے کا مطلب ان محکموں کی نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن ہے جس کا براہ راست نقصان حکومت اور عوام دونوں کو پہنچ رہا ہے۔سرکاری اداروں کی تطہیر کے بغیر عوام کی حالت بدل سکتی ہے نہ ہی کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔عوام نے نظام میں تبدیلی لانے کے وعدے پر پی ٹی آئی کو مرکز اور صوبے میں مینڈیٹ دیا ہے۔اگر وہ اپنے انتخابی وعدے کو عمل کا جامہ پہنانے میں ناکام رہی تو یہ عوام اور حکمران جماعت دونوں کی بدقسمتی ہوگی۔


شیئر کریں: