Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد …..خطرناک ترین ٹولہ ……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

شیئر کریں:

خوشامدی ٹولہ دنیا کا خطرناک ٹولہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ٹولہ جس کسی سے محبت کرتا ہے اُس کا بیڑہ غرق کردیتا ہے یہ ٹولہ دنیا بھر کے حکمرانوں کا تعاقب کرتا ہے۔حکمران کے دائیں بائیں رہتا ہے اور حکمران کی آنکھیں بند کرکے اس کو خندق میں گرادیتا ہے بہت کم حکمران ایسے ہوتے ہیں جو اس کے وار سے بچ کر نکلتے ہیں اور بھیانک انجام سے بچ جاتے ہیں۔ثقہ اور معتبر راویوں کی پکی روایت ہے کہ پاکستان کے ایک حکمران کے لئے 4سال میں ملک کے3بڑے اخبارات کے موک(Mock) ایڈیشن شائع کرائے جاتے رہے۔2لاکھ کی تعداد میں چھپنے والے اخبار کے اصل ایڈیشن وہ ہوتے تھے جو ڈھاکہ سے کراچی اور کوئٹہ سے پشاور تک لوگ پڑھتے تھے ان میں حکمران پر کھلی تنقید ہوتی تھی۔موک ایڈیشن صرف حکمران کی میز پر رکھے جاتے تھے اُس کے گھر میں بھیجے جاتے تھے۔ان کے دفتر میں لائے جاتے تھے۔2لاکھ میں سے10اخبارات میں حکمران کی مرضی اور خوشی کے لئے صرف تعریف اور تحسین والا مواد ڈال دیا جاتا تھا۔خوشامدی ٹولہ حکمران کے سامنے اُس مواد پر تبصرہ کرکے حکمران کو خوش رکھتا تھا حکمران جس شہر اور صوبے میں جاتا اُس کے حالات کو اپنی آنکھوں سے موک اخبارات کے آئینے میں دیکھتا تھا کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں لوگ داد اور تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں ہرطرف سبزہ ہے ہریالی ہے خوشحالی ہے1972سے1979تک2سال شہنشاہ ایران کو اندھیرے میں رکھا گیا ملک میں انقلاب کا لاوا پک رہا تھا ہردکان پر اور ہر ٹیکسی موٹر میں خمینی کی تقریروں کے کیسٹ تقسیم ہورہے تھے۔

خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹیں آتی تھی مگر خوشامدی ٹولہ بادشاہ کی نظروں سے ان رپورٹوں کوچھپاتا تھا،فرانس اور برطانیہ سے آنے والے دوستوں اور امریکی مہمانوں کو بادشاہ سے ملاتے وقت سفارتی زبان میں سمجھایا جاتا تھا کہ بادشاہ کی صحت ٹھیک نہیں اس کے سامنے ایسی بات نہ کی جائے جو پریشانی کا باعث ہو چنانچہ باہر سے آنے والے دوست بھی خوشامدی ٹولے کی لائن پکڑلیتے تھے بادشاہ جوکچھ کہتا وہ سرہلا کر اُس کی تعریف کرتے تھے یہاں تک کہ بادشاہت گئی تو بادشاہ کو دنیا بھر میں کہیں سرچھپانے کی جگہ نہیں ملی۔ہندوستان کے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو خوشامدیوں نے ایسا گھیرا تھا کہ گرفتار ہوکر رنگوں کے ایک تنگ وتاریک گیراج میں قید ہونے تک اُسے پتہ نہیں چلا کہ اردگرد کیا ہورہاہے اور میں کہاں جارہا ہوں خیبر پختونخواہ کی ایک قدیم ریاست کے دربار کا واقعہ بہت مشہور ہے دربارلگاہوا تھا ریاسست کے دوردراز علاقوں سے وقائع نگاروں کے خطوط پڑھوانے کا دن تھا مُنشی نے خط پڑھکرنواب کوبتایا کہ فلاں جگہ جو(Barley) کی فصل پک گئی،خوشامدیوں نے کہا یہ حضور کی برکت ہے،ایک خط کا مضمون تھا فلاں گاؤں میں شہتوت پک گئے،خوشامدیوں نے کہا یہ حضور کی برکت ہے،ایک خط کاعنوان تھا فلاں گاؤں میں خوبانی پک گئے خوشامدی ٹولے نے یک زبان ہوکر کہایہ عالیجاہ کی برکت ہے نیاخط کھولا گیا اُس میں لکھا تھا فلاں گاؤں میں سیلاب آگیا خوشامدی خاموش ہوئے تودربار میں بیٹھے ہوئے ایک مسخرے نے کہا یہ حضور کی برکت ہے۔خوشامدیوں نے اس کو ٹوکاتومسخرہ بولا تم لوگ حضور کی برکت کہنا بھول گئے تو میں نے کہہ دیا بات نواب بہادر کے سرکے اوپرسے گذرگئی۔

قرآن پاک کے سورہ النمل آیت33میں ملکہ سباکے دربار میں بیٹھے خوشامدیوں کا اجمالی ذکر آیا ہے ملکہ سبا نے اپنی ذہانت اور فراست سے خوشامدی ٹولے کو ٹوک دیا واقعہ یوں ہے کہ حضرت سلیماں علیہ السلام نے ملک شام سے یمن کے اطراف ایک ریاست پر حکومت کرنے والی آفتان پرست ملکہ کو دعوتی خط بھیجا اس میں لکھا تھا کہ سرکشی چھوڑ دو،اسلام قبول کرو اور میری اطاعت کے لئے دربار میں حاضر ہوجاؤ خط کا مضمون ملکہ نے درباریوں کے سامنے رکھنے کے بعد اُن سے رائے مانگی کہ اس کا کیا جواب دیا جائے۔خوشامدی ٹولے کے ایک ایک فرد نے اداب بجالاتے ہوئے کہا کہ ہم بہت طاقتور ہیں ہم لوگ نامورجنگجوہیں ہم کبھی اس کی اطاعت نہیں کرینگے ہم آپ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیدینگے یعنی جدید دور کی اصطلاح میں ”قد م بڑھاؤملکہ عالیہ ہم تمہارے ساتھ ہیں“سب کی باتیں سننے کے بعد ملکہ نے کہا تمہارا مشورہ سر آنکھوں پر،مگر بادشاہ لوگ جب کسی بستی پر حملہ آور ہوتے ہیں تو عزت دار لوگوں کی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں اور طاقتوروں کے کسَ بَل نکال دیتے ہیں جنگ کی صورت میں وہ ایسا ہی کرینگے ہمیں سلیمان بادشاہ کی اطاعت قبول کرنی چاہیئے،تاریخ میں ملکہ سبا کا اصل نام بلقیس لکھا گیا ہے اور سلیماں علیہ اسلام کے دربار میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرنے اور مطیع ہونے کا ذکرہے۔قرآن پاک بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔

قرآن پاک میں ایسے اجمالی واقعات نصیحت اور سبق کے لئے لائے گئے ہیں گویا تاریخ میں ایسی ملکہ بھی گذری ہے جودربار میں خوشامدی ٹولے کے نرغے سے نکل گئی اور اپنی خداداد ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے درست فیصلے پر پہنچ گئی۔قدرت اللہ شہاب نے پاکستان کی تاریخ کے ایک گورنر جنرل غلام محمد کا حال لکھا ہے وہ فالج زدہ تھے،چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور تھے خوشامدی ٹولہ اس کو طاقت ورترین حکمران اور عوام کا ہردل عزیز لیڈر ثابت کرنے پرزور بیاں صرف کرتا تھا یہاں تک کہ سکندر مرزا نے اُس کا تختہ الٹ دیا۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ خوشامدی ٹولہ خطرناک ترین ہوا کرتا ہے۔


شیئر کریں: