Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختضرسی جھلک۔۔۔۔۔انسا نیت کا جنازہ۔۔۔۔۔فریدہ سلطانہ فَری

شیئر کریں:

   بچپن میں اکثرمیں سوچا کرتی تھی کہ موت ہمشہ بوڑھےلوگوں کو ہی اتی ہےاوردنیا کا ہرجوان انسان جب بڑھاپےکی دہلیز پرقدم رکھے گا تو ہی اسے موت ائے گی اس سوچ کی شاید وجہ یہ تھی کہ ہمارے بچپن میں کبھی کبھی مرنےکی خبرموصول ہوا کرتی تھی وہ بھی بوڑھے لوگوں کی ، کسی کے قتل کا توسوال ہی پیدا نہں ہوتا تھا اورنہی ذہن کے کسی کونے میں ایسا کوئی نقش تھا کہ انسان قتل بھی ہوسکتا ہے یاچاقوچھوری، بندوق سےاسکو مارا بھی جا سکتا ہے اج کل تو مرنے کی خبر بھی ایسے عام ہو گئی ہے جیسے کسی جانور یا پرندے کی موت ہو۔

خدا بخشے اج کل کے میڈیا کوجووقت سے پہلے بچوں کوبوڑھا پےکا اوربوڑھوں کوموت کا منظردیکھا رہا ہےمگرمیں اب بھی ٹی وِی ڈراموں میں موت کا سین دیکھ کرزارو قطا ر روتی ہوں اورمیرا ۸ سال کا بیٹا مجھ پر ہنستا ہے کہ امی اپ نقلی موت پہ رو رہی ہو؟

پچھلے دنوں بروز والے قتل کی خبرجب فیس بک پرپڑھی تو پوری رات سو نیہں سکی اور ساتھ ہی حیران بھی تھی کہ ڈراموں اورفلموں خصوصا گیمز میں قتل وغارت کا منظردیکھ دیکھ کراج کے نسل کے لئے تومو ت بھی تما شہ بن گئی ہے۔

ایک دفعہ میں گاّوں کے  کسی محفل میں بٹھی ہوئی تھی وہا ں ایک بندہ میری طرح یہی گلے شکوے کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھا فرما رہے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کسی فوتگی پرجانا ہوا تو راستے میں جاتے ہوے فوتگی والے گھر کے قریب مرے ہوے شخص کے لئیے قبرکھودی گئی تھی اور گھر کےاندرمرے ہوےشخص کے رسومات ہورہےتھے کیا دیکھتا ہوں کہ کھودی ہوئی قبرکے اندرایک چھ یا سات سا ل کا بچہ لیٹا ہوا ہے اوردوسرا بچہ تقریبا اسی عمرکا ہوگاقبرمیں لیٹے ہوے بچےکے سرہانے ہیٹھےسوال وجواب کررہا ہے کہ تمھارا خدا کون ہے ؟تم نے نما ر کیوں نیہں پڑھی؟ اور اپ تم پر ہم سانپ چھوڑیں گیں پھراچانک نظرمچھ پر پڑی اوربچے قبرسے اٹھےاورکپڑوں پرلگی قبروالی مٹی اسانی سے جھا ڑکرایسےبھاگ گئیےکہ گویا  وہ کھیل کے میدان میں تھے یہ قصہ اس ادمی سےسن کر میں توہاکا بکا رہ گئی ۔

ہمارے بچپن میں جنارے کے قریب تو کیا فوتگی والے گھرمیں بھی بچوں کوجانے نیہں دیتے تھے پڑوس میں فوتگی کی وجہ سےگھر میں کئی دن تک سناٹا رہتا تھا  ڈراموں فلموں اور کارٹونز کو دیکھ کراج کل کے یہ بچے انہی کے زاویے سے زندگی کو دیکھنےلگے ہیں اورمختلف گیمزکی دیکھا دیکھی زندگی میں بھی اسی  طرزاوررفتار کے خواہشمند ہو چکے ہیں۔

گلوبیلزیشن اورٹیکنالوجی کے عروج نےجہا ں بچو ں کے لیئے ہر چیز ہرعنوان اور ہرمعاملہ انگلی کے ایک کلیک پررکھ دیا ہےتو وہاں ہما ری تہزیب و تمدن،روایات واخلاقیا ت کا بھی بھیڑاغرق کردیا ہےاور نوجوان نسل رشتو ں و،انسا نیت کا احترام بھولا  کرما دہ پرستی کی طرف راغب ہو چکا ہے اور اس مادہ پرستی کے پیچھے اتنا بھا گ رہا ہےکہ گویا اسی جہاں میں ہی اس کادایئمی بسیرا ہونا ہےاوردانشور کہتے ہیں کہ مادہ پرستی کا بھوت جب انسان پرسوارہو تا ہے توانسان سے شعورچھین لیتاہے پھر انسا ن انسانیت کے دائرے سے نکل جاتا ہے اورتب انسانیت کا جنازہ نکلل جا تاہے اوراس جنارے کو نہ کاندھا دینے والا کوئی ہوتا ہے نہ کوئی دفنانے والا ۔                                                                                                                  


شیئر کریں: