Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سینوں میں اختلاف کی چاقو زنی۔۔۔۔۔۔فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

ایک بزرگ اپنے علم و کمال کے سبب بہت مشہور ہوئے۔ ان سے ملنے کے لیے ایک شخص کسی دوسرے شہر سے آیا۔ کافی تلاش کے بعد وہ شخص بزرگ کے گھر پہنچ گیا، دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ان بزرگ کی بیوی نے پوچھا کہ کون ہے؟ اس شخص نے ساری بات بیان کردی تو بزرگ کی بیوی نے اس شخص سے کہا کہ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے، میرا شوہر تو کسی قابل بھی نہیں، نہایت غلط کردار کا حامل ہے۔آپ نے بلاوجہ اتنا سفر کرکے یہاں پہنچ کر اپنا وقت برباد کیا۔ یہ بات سن کر اس شخص کو بڑی حیرانی ہوئی اور وہ اس عورت کی بدزبانی پر بھی سخت حیران ہوا۔ خیر وہ شخص ہمت نہ ہارا اور ان بزرگ کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں جا نکلا۔ اس شخص نے دیکھا کہ جنگل میں وہ بزرگ شیر پر سوار ہوکر آرہے ہیں۔ یہ شخص پھر بہت حیران ہوا اور ان بزرگ سے کہنے لگا کہ آپ کی بیوی تو بڑی بد زبان ہے اور آپ کے بارے میں نہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھی اور آپ یہاں شیر پر سواری کررہے ہیں، شیر آپ کے تابع ہے، بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اس پر بزرگ نے جواب دیا کہ میں ایسی بدزبان بیوی کو برداشت کررہا ہوں اس کے ساتھ گزارا کررہا ہوں تبھی تو شیر کو بھی قابو کرلیا ہے اور یہ مقام حاصل کرلیا۔

مولانا روم کی اس حکایت میں ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا پیغام پوشیدہ ہے جو ہمارے معاشرے کے اس وقت سب سے اہم مسئلے کا حل بھی ہے اور وہ ہے ’’عدم برداشت‘‘۔ آج ہمارے معاشرے میں گھریلو ساس بہو کے جھگڑوں سے لے کر قتل و غارت کے واقعات کے پس پردہ یہی عدم برداشت ہے۔ آج ہم رشتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، سیاسی و مذہبی نظریات کے فرق کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں. کسی بات پر معمولی تکرار کے ساتھ ہی ہمارے پسٹل اور چاقو نیام سے باہر آکر اگلے کی زندگی کے چراغ کو گھل کردیتے ہیں. اس ماہ مبارک میں ایک ہفتے کے دوران دو لوگ اپنی جانوں سے گئے دومون بروز کے لطیف الرحمان ہو یا کوغذی کے محمد یحییٰ. ان کی عمریں دیکھئے اور اس کرب و اذیت کا تصور کیجئے جو ان کے ماں باپ اور بچوں پر گزر رہی ہوگی. آخر کیا وجوہات ہیں کہ ہم اتنے آپے سے باہر ہوتے جارہے ہیں. اختلاف رائے کا مقصد یا کوئی معمولی جھگڑے کا نتیجہ صرف یہی رہ گیا ہے کہ ھم ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیں.

صبرو تحمل بھی کوئی چیز ہوتی ہے.میرے خوبصورت علاقے کے خوبصورت لوگ کتنے تحمل مزاج، صابر اور برد بار ہوا کرتے تھے. کچھ سالوں پہلے تک ھمیں یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ نیشنل ٹی وی پر معترفیں یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ چترال واحد ضلع ہے کہ جہاں سال میں ایک بھی قتل اور دہشت گردی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا. لیکن حالیہ کچھ سالوں کے دوران جو حالات ھم دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے. انفرادی رویہ ہی معاشرے کا عکس ہوتا ہے، دین کو عمیق نگاہوں سے جانچا جائے تو بخوبی معلوم ہوتاہے کہ دین میں برداشت کا جو سبق دیاگیا ہے وہ بے مثال ہے مگر انسان صرف اپنے اندر ابھرنے والے جذبات کو قابو نہ کرسکنے کی وجہ سے صبروبرداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑدیتاہے اور زندگی بھر کے پچھتاوے اپنے نام کرلیتاہے۔اسلامی تاریخ میں مسلم معاشرے کے ہر فرد نے انفرادی کردار کے ذریعے صبر و تحمل، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کیا ، کسی خلیفہ نے ڈنڈے کے حکم سے معاشرے میں برداشت کی کیفیت نافذ نہیں کی، یہ ہماری اسلامی تعلیمات کا خاصہ ہے:کہ ھمارے اسلاف کے صبر و تحمل کی اونچائی ماونٹ ایورسٹ سے بھی اونچی تھی.

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن کو زمین پر گرا دیتے ہیں اور قریب تھا کہ دشمن کے اوپر آخری وار کرکے اسے ختم کردیتے کہ دشمن شخص اپ کے چہرہ تقدس پر تھوک دیتا ہے جس کے بعد آپ بجائے دشمن کو قتل کرنے کے چھوڑ دیتے ہیں اور جب وہ دشمن پوچھتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ جواب دیتے ہیں کہ یہ عمل اس لیے کیا کیوں کہ تھوکنے کے بعد اگر قتل کرتے تو اس میں میری ذاتی خلش اور غصہ شامل ہوجاتا جب کہ میں صرف اﷲ کے نام پر جہاد کررہا تھا ۔کمال ظبط کا اندازہ لگائیے. قربان جائیے ان ہستیوں پہ جب میدان جنگ میں اترتے ہیں تو قیصروکسری کے درو دیوار ہلا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شیر خدا یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب سے بہادر شخص وہ ہے جو اپنے غصے کو کنٹرول میں رکھے. ہم تو اس نبیﷺ کی امت ہیں جنہوں نے طائف کی گلیوں میں سنگریزوں سے لہولہان ہوکر بھی بد دعا کے لیے دست دراز نہ کیے۔ ہم تو ان کے امتی ہیں جنہوں نے اپنے جان سے عزیز چچا جان کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کو بھی معاف کردیا، جنہوں نے غالب ہوکر بھی دشمن کو امان دی۔ ہم تو ان کے پیروکار ہیں جنہوں نے گردن پر رکھی تلوار فقط اس لیے اٹھالی کہ مبادا یہ قتل میرے غصے کے سبب نہ ہوجائے۔ ہم تو اس ریاست کے شہری ہیں جس کی بنیاد اسلام اور دستور قرآن ہے۔ پھر آخر ہمارا رویہ ایسا کیوں؟ ہم کیوں مذہب، سیاست، مسلک، رنگ، نسل اور لسان کو بنیاد بنا کر عدم رواداری کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم کیوں خود ہی گواہ، وکیل اور منصف بنے ہوئے ہیں؟


شیئر کریں: