Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نزول وحی …. کلثوم رضآ

شیئر کریں:

وحی کے معنی و مفہوم:وحی کے لفظی معنی: چپکے سے پوشیدہ طور پر کسی کے دل میں کوئی بات ڈال دینا یا اشارے سے سمجھا دینے کے ہیں۔لیکن شریعت میں وحی سے مراد وہ پیغام الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے اپنے انبیا اور رسولوں تک پہنچاتا ہے۔تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنی اپنی امت کی راہنمائی کریں۔


وحی کی ضرورت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے،اور اس پر کچھ فرائض عائد کر کے پوری کائنات کو اس کی خدمت میں لگا دیا ہے ۔ لہٰذا دنیا میں آنے کے بعد انسان کے لیے دو کام ناگزیر ہیں،ایک یہ کہ وہ اس کائنات سے اور اس میں پیدا کی ہوئی ایشیا سے بھرپور استفادہ حاصل کر لے،اور دوسرے یہ کہ اس کائنات کو استعمال کرتے ہوئے آللہ تعالیٰ کے احکام کو مدنظر رکھے،اور کوئی حرکت اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کرے۔ان دونوں کاموں کے لیے انسان کو “علم” کی ضرورت ہے۔اس لیے جب اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کائنات کی حقیقت کیا ہے؟انسان کی ابتداء کیسے ہوئی؟اسکی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اس کائنات کا خالق کون ہے؟مرنے کے بعد کیا ہو گا؟انسانی اعضاء کی کیا خصوصیات ہیں ؟ان سے کس طرح کام لیا جا سکتا ہے؟ اس وقت تک وہ دنیا کی کوئی بھی چیز اپنے فائدے کے لیے استعمال نیہں کر سکتا،نیز یہ بھی اسے معلوم نہ ہو کہ اللہ کی مرضی کیا ہے؟وہ کونسے کاموں کو پسند اور کن کو نا پسند فرماتا ھے؟ اس وقت تک اس کے لیے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا ممکن نیہں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تین چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جن کے ذریعے انسان ان باتوں کا علم حاصل کرتا ہے جو اوپر مذکور ہیں۔ایک انسان کے حواس،یعنی انکھ،کان ،منہ اور ہاتھ پاؤں۔دوسرا عقل اور تیسرا وحی۔چنانچہ انسان کو بہت سی باتیں اسکے حواس کے ذریعے معلوم ہو جاتی ہیں،بہت سی عقل کے ذریعے،اور جو باتیں ان دونوں ذرائع سے معلوم نیہں ہو سکتیں ان کا علم” وحی” کے ذریعے عطا کیا جاتاہے۔وحی انسان کے لیے وہ اعلیٰ ترین ذریعہ علم ہے جو اسے اسکی زندگی کے متعلق ان سوالات کا جواب مہیا کرتا ہے،جو عقل اور حواس کے زریعے حل نیہں ہو سکتے،لیکن انکا علم حاصل کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔صرف عقل اور مشاہدہ انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نیہں،بلکہ اس کےلیے وحی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔


وحی کے طریقے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی،کبھی یہ سچے خواب کی صورت میں ہوتی،کبھی فرشتہ اپنی اصلی یا کسی انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اللہ کا کلام پہنچاتا اور کبھی ایک خاص کیفیت طاری ہونے کے بعد غیب سے کلام سنائی دیتا۔( جب اس طریقے سے آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر بہت ذیادہ بوجھ پڑتا تھا۔اور بعض اوقات اس کیفیت میں اتنی شدت پیدا ہو جاتی کہ آپ جس جانور پر اس وقت سوار ہوتے،وہ آپ کے بوجھ سے دب کر بیٹھ جاتا۔)اور ایک صورت وحی کی براہ راست اور بلا واسطہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہم کلامی ہے،یہ شرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کی حالت میں صرف ایک بار ،یعنی معراج کے وقت حاصل ہوا،البتہ ایک مرتبہ خواب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے ہیں۔( اتقان جلد نمبر: 1 صفحہ نمبر: 46)وحی کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ جبرائیل علیہ السلام کسی بھی صورت میں سامنے آئے بےغیر آپ کے قلب مبارک میں کوئی بات القا فرما دیتے تھے،اسے اصطلاح میں”نفث فی الروع” کہتے ہیں۔


وحی کی ابتداء:
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق منکشف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ” اقرا” ‘ پڑھیے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا” ما انا بقاری” ‘ میں پڑھنے والا نیہں ہوں”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا ” اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔

پھر مزید تسلی کے لیے خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔  ( انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے )  وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے  ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم  )  کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس  ( معزز راز دان فرشتہ )  ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟  ( حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں )  ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔اور یہ سلسلہ (بعض روایات کے مطابق چھ ماہ اور بعض کے تین سال) تک رہا،اسی زمانے کو “فترت وحی” کہتے ہیں،اس زمانے میں آپ پر شدید غم کی کیفیت طاری رہی ۔ پھر اس کے بعد وہی فرشتہ یعنی جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان و زمین کے درمیان دیکھائی دیا،اور سورہ مدثر کی ابتدائی آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی۔اس کے بعد وحی کا سلسلہ جاری ہو گیا۔۔


تاریخ نزولِ وحی:
اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ وحی کا آغاز اس وقت ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔اس نزول کی ابتداء بھی صحیح قول کے مطابق لیلتہ القدر میں ہوئی،لیکن یہ رات رمضان المبارک کی کونسی تاریخ تھی؟اس بارے میں کوئی یقینی بات نیہں کی جا سکتی۔بعض روایات سے رمضاں کی سترھویں،بعض سے انیسویں،بعض سے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اور بعض سے ستائسویں شب معلوم ہوتی ہے۔(تفسیر ابن جریر ج: 10 ص:7)


شیئر کریں: