Chitral Times

Dec 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دروش ہسپتال میں دس بسترے وارڈ میں ڈالنا کونسا مشکل کام تھا؟۔۔تحریر: قاری جمال عبدالناصر

شیئر کریں:

اغاخان ہیلتھ سروس چترال کی طرف سے دروش ہسپتال میں ایسولیشن وارڈ کی تکمیل اور حوالگی کی خبر باعث تعجب اور مزحکہ خیز وحیران کن ہے جس بلڈنگ کی بات ہو رہی ہے یہ بلڈنگ حکومت پاکستان کی طرف سے کٹیگری سی کی بلڈنگ ہے جو تیاری کے اخری مراحل میں ہے اس بلڈنگ کی تعمیر میں کسی بھی ادارے کی کسی بھی قسم کی شراکت یا تعاون شامل نہیں ہے بلکہ کروڑ ہا روپے کی عالیشان بلڈنگ کی تعمیر سے ہمارے ہسپتال کے بہت سے مسائیل حکومت پاکستان کی مہربانی سے حل ہونگے

جب ضلعی انتظامیہ نے اس بات کا احساس کیا کہ دروش ہسپتال میں موجود کمروں کو ائیسولیشن وارڈ کی حیثیت سے ایمرجنسی کے لئے تیار کی جائے تو ایم ایس دروش ہسپتال نے فوری طور پر ایسولیشن وارڈ ترتیب دی جہاں مریض موجود ہیں جبکہ ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ نے حفظ ما تقدم کے لئے دروش میں ایک ہوٹل کو بھی ایسولیشن وارڈ کی حیثیت سے تیار کرلئے کیوںکہ انتظامیہ جب دروش کے قرنطینہ سنٹروں میں بڑے اچھے طریقے سے چار سو سے زاید افراد کی بطریق احسن دیکھ بال کرنے میں پیش پیش ہے ان کے لئے دس یا بیس مریضوں کے لئے ایسولیش وارڈ کیا مشکل ہے حلانکہ ایسولیشن کا سلسلہ پہلے سے بخوبی جاری ہے انتظامیہ اور ہسپتال اسٹاف ہر لمحہ اس خدمت کے لئے پیش پیش ہیں ۔

ہمیں جب یہ علم ہوا کہ ہسپتال کے لئے کوئ سول ادارے کی طرف سے ایسولیشن کے لئے سامان دئے جاتے ہیں تو میں بھی ہسپتال جاکر معلومات لئینے کی جسارت کی تو اس ادارے کے ایک شریف انسان سے ایم ایس افس میں ملاقات ہوئ موصوف نے پوچھنے پر بتایا کہ دس مریضوں کے لئے عارضی ایسولیشن وارڈ کے لئے سامان لائے ہیں جن میں دس چارپائ دس فوم دس چھوٹے کولر دس ڈاسٹبین دس چاینہ کمبل دس سفید چادر دوپلاسٹک ٹینکی ایک عدد پانی کھینچنے کے لئے میزایل موٹر وغیرہ کیٹس گویاکل ملاکرایک لاکھ رپے کے سامان میرے اندازے کے مطابق تصور کئے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ کل ڈی سی صاحب اس وارڈ کا افتتاح اپ حضرات کی موجودگی میں کرئینگے اس وقت ہماری تصویر کشی بھی کی گئ سوشل میڈیاء تک بھیجا گیا جنہیں میں نے گزارش کر کے ہٹادیا۔

میں بحیثیت ایک زمہ دار شہری اور ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ضلعی زمہ دار اس حقیقت کی وضاحت کی تھی کہ دس بیماروں کے لئےانتظامات خود محکمہ صحت انجام دے کیوںکہ بلڈنگ سرکار کی ڈاکٹر نرس پیرامیڈکس اور کلاس فور سرکار کےپانی بجلی سرکار کی مریضوں کے لئے بہترین کھانا انتظامیہ کی طرف سے جب دی جارہی ہے تو خوامخواہ دوسرے سول ادارے کو ایک لاکھ روپے کے ساتھ بیرونی داماد بنا کر لانے کی کیا ضروت تھی اگر یہ ادارہ عطیہ کے طور پر رقم دینے کے موڈ میں تھا تو ادارےپرلازم تھا کہ امداد ڈی ایچ او یا ایم ایس کے حوالہ کرتے ورنہ تجار یونین دروش یاہم مساجد میں چندہ کرکے یہ سامان ہسپتال انتظامیہ کےحوالہ کرتے حکومت پاکستان اتنا کمزور نہیں ہے کہ دس بیڈ وارڈ قایم نہ کر سکے یہ بے چارہ ادارہ اب تک گرم چشمہ میں ایسولیشن وارڈ 20 مئ تک مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے یعنی کرونا وائیرس ختم ہونے کے بعد وارڈ کا افتاح کیا جائیگا۔

ہمارے ڈی ایچ او صاحب اس ادارے کا بھر پور شکریہ اداء کرنے کے بجائے خود محکمہ صحت کی طرف سے اپنےسٹور سےدس بستروں کا بندوبست کرکے حکومتی رٹ قایم کرتے تو بہت ہی اچھا تھا یا ہم ہسپتال کے ہمسایہ اپنے گھروں سے بسترے دے سکتے تھے جس کے لئے اج بھی ہم تیار ہیں ہم ان اداروں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ عوامی جزبات کا احترام کرئینگے اور سستی شہرت کےلئے حکومتی کارکردگی کو ملیامیٹ کرنے سے باز رہئینگے ہمیں ملکی اداروں پر اپ حضرات سے زیادہ توقعات ہیں کیوںکہ دروش ہسپتال میں حکومت کی طرف سے ماہوار عوامی بہبود کے لئے صرف تنخواہوں کی مد میں چالیس سے پچاس لاکھ روپے خرچ کی جاتی ہے تو دس بسترے وارڈمیں ڈالناکونسا مشکل کام تھا؟؟


شیئر کریں: