Chitral Times

Nov 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومت یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے اوربورڈامتحانات لینے کا اعلان کرے،نافع پاکستان

شیئر کریں:

لاہور(آئی آئی پی) نجی تعلیمی اداروں کی ملک گیر تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن(نافع) پاکستان کے ڈائریکٹر ہدایت خان نے 15 جولائی تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوے اس فیصلے کوتعلیم دشمن فیصلہ قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔ٹیچرز کی تنخواہیں فکس اورملک بھر میں 95 فیصد سکول عمارتیں کرائے پر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان پرائیویٹ سکولزکیلئے تعلیمی ریلیف پیکیج کااعلان کریں۔15جولائی تک تعلیمی اداروں کی بندش سے 50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بیروزگارہوجائیں گے۔کورونا وائرس سے جاری لاک ڈان کے باعث تعلیمی نقصان کا ازالہ ناممکن ہے۔حکومتSOPsجاری کرے اور یکم جون سے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے ہر صورت کھولنے کااعلان کرے،بصورت دیگر اپنے SOPsکے تحت سکولز کھولنے پر مجبور ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا 11اورسماجی فاصلے کو برقرار رکھ کر کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ کورونا وائرس سے شدید متاثرہ دیگرممالک میں تمام تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں۔اسی طرح بورڈ امتحانات منسوخ کرنے اور طلبا کا مستقبل برباد کرنے کے بجائے بورڈ امتحانات سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کرسرکاری و پرائیویٹ اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگا کرسرکاری و پرائیویٹ سکولز وکالجزکو امتحانی سنٹرز بناکر منعقد کیے جائیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے۔سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے فیسوں کے بارے حکومت سندھ کے آرڈنینس اور نوٹیفکیشن کو آئین سے متصادم اور غیر قانونی قراردیناپرائیویٹ سکولز کے اصولی موقف کی فتح ہے۔اسی طرح فیسوں کے حوالے سے نوٹیفکیشنزآئین کے آرٹیکل 18،3،4،5 اور25(1) 37 اور 38 سے متصادم، امتیازی اور غیر قانونی ہے۔ ہدایت خان نے واضح طور پر کہا کہ فیس کے بارے حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں۔وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزرااعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز بنانے کی پیشکش بھی کر دی گئی ہے۔وزیراعظم و چیف جسٹس پاکستان سے داد رسی کی اپیل ہے کہ تعلیم دشمن پالیسی کے بجائے تعلیم دوست پالیسی اپناتے ہوئے تعلیمی اداروں کو کھولنے اور نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔


شیئر کریں: