Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعمیراتی شعبہ کے فیز دوئم کے کاروباری مراکزکھولنے کا فیصلہ، ہفتہ میں پانچ دن کھولنے کی اجازت ہوگی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اجمل خان وزیر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں تعمیراتی شعبہ کے فیز دوئم کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سٹیل،پی وی سی پائپ، بجلی کا سامان، المونیم کی اشیاء بنانے والی فیکٹریاں، سیرامک اور پینٹ فیکٹریاں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹری، پینٹ، سٹیل اور المونیم، بجلی کے سامان کی دکانیں اور ہارڈ ویئر سٹور بھی کھولے جائیں گے۔ جبکہ ان کاروباروں کے اوقات کار سہ پہر چار بجے تک ہونگے اور ہفتے میں پانچ دن کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کاروباروں کو حکومت کی جانب سے طے کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا اور ہفتہ، اتوار کو ان کا ناغہ ہوگا جبکہ اشیائے ضروریہ کی دکانیں پورا ہفتہ کھلی رہینگی

صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اندرونِ ضلع ایک شہر یا قصبے سے دوسرے کو جانے والی مسافر گاڑیوں بشمول بسوں، ویگنوں کی آمدورفت اور بین الاضلاعی کمرشل گاڑیوں کی آمدورفت کیلیئے ٹرانسپورٹروں کے نمائندہ وفد سے صوبائی سطح پر اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی جنکے سربراہ ڈویژنل کمشنرز ہیں کی سطح پر بات چیت کی جائے گی تاکہ مناسب ایس او پیز پر اتفاقِ رائے ہو سکے. علاوہ ازیں اجمل وزیر نے کہا کہ میں پہلے دن سے بار بار کہہ رہاہوں کہ موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات کو قرنطینہ کیا جائے لیکن کچھ سیاستدان سیاسی بیان بازی سے باز نہیں آتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری بے جا تنقید سے پرہیز کریں یہ وقت تنقید کا نہیں کورونا کو شکست دینے کا ہے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن سمیت سب کو ساتھ لیکر نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک لیڈر ہیں باقیوں کی طرح سیاسی ڈیلر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان موجودہ حالات میں خود میدان میں موجود ہیں آپ اور آپ جیسے دیگر لیڈروں کی طرح بند ڈرائنگ رومز میں لیپ ٹاپ کے سامنے اور ایئر کنڈیشنز کے نیچے بیٹھ کر عوام کو مخاطب نہیں کرتے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ بلاول سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے صوبے کی ترقی پر توجہ دے۔ اجمل وزیر نے مزید کہا کہ سندھ میں ہسپتالوں کی صورتحال ناگفتہ بہہ ہے تھر میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔

اجمل وزیر نے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز و دیگر فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ ہمارے سروں کا تاج ہیں کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کو بچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تمام حفاظتی سامان سمیت ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ملک میں لاک ڈاون میں نرمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نرمی کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کیا جائے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ نرمی کا مقصد یہ نہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ اب ہمیں پہلے سے زیادہ احتیاط کرنی ہوگی۔ اجمل وزیر نے مزید کہا کہ جو دکاندار یا تاجر احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھے گا ان کی دکان کو سیل کیا جائیگا۔

صوبے میں کورونا کی تازہ صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 244 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 3956 ہوگئی ہے۔ جبکہ صوبے میں گزشتہ 24گھنٹوں میں 06 اموات بھی ریکارڈ ہوئیں جس سے اموات کی کل تعداد 209 ہوگئی ہے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک دن میں 45 کورونا مریض صحت یاب ہو ئے ہیں جس سے صحتیاب مریضوں کی مجموعی تعداد 984 ہو گئی ہے۔


شیئر کریں: