Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترتیب شب وروز۔۔۔۔۔۔۔۔فیض العزیزفیض

شیئر کریں:

دنیا کی ہر شے ،ہر ذرہ ایک قدرتی نظام سے بندھا ہوا ہے۔ کائنات میں قدرت کی نشانیاں ہر جا بکھری پڑی ہیں اور ان میں پایا جانے والا نظم وضبط ( ڈسپلن )د یکھ کر عقل عش عش کر نے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں دن کام اور راتیں آرام کے لیے بنائی ہیں ،  وہیں روزوشب گزارنے کے لیے الگ الگ اسباب بھی مہیا کیے ہیں۔ دن کو روشن کرنے کے لیے سورج ، اور رات کو پْرسکون بنانے کے لیے چاند تارے پیدا کیے ہیں۔ سورج ہر روز اپنے مقررہ وقت پر مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہوتا ہے۔  چاند اور تارے بھی اپنے معمول کے مطابق محوِ گردش ہیں۔  پہاڑ زمین کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے کے لیے ایک خاص انداز اور ور ہیبت سے کھڑے ہیں۔ ندی، نالے، دریا اور نہریں فطرت کے طے کردہ معمول کے مطابق بہہ  رہے ہیں۔  پہاڑ، ندی نالے بننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ندی نالے ،پہاڑوں کی جگہ لینے کی جسارت۔ سورج کبھی رات کو نکلا ہے اور نہ کبھی چاند نے سورج کی جگہ لی ہے۔ یہ نظم و ضبط صرف ماحول میں ہی نہیں بلکہ عالم حیوانات چرندو پرند اور کائنات کے ہر ذرے میں نظرآتا ہے۔

بعض جانور موسمی تبدیلی کے لحاظ سے رہائش کے لیے نقل مقام کرتے ہیں اور دوسرے جنگل کا رخ کرتے ہیں ، پرندے موسم کے اعتبار سے اپنے مقام کو تبدیل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ چیونٹیاں موسم گرما میں ،  موسم سرما کے لیے ذخیرہ اندوزی کرتی ہیں۔ان فطری مظاہر میں پایا جانے والا نظم وضبط اور ڈسپلن انسان کو احسن طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لیے نظم وضبط کی دعوت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کچھ طے شدہ اصولوں پر عمل پیرا ہو تو یقیناً وہ دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ کامیاب ہوگا۔ اسی طرح اگرکوئی ادارہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ متعین اصولوں پر عمل کرے جس میں اپنے کارکنوں کی خیر خواہی  اور عزتِ نفس کالحاظ رکھا جانا ہو توایسے ادارے کوایک منظّم ادارہ کہا جاسکتا ہے۔اس کو ایک خاندان کی مثال سے بہ آسانی سمجھاجاسکتا ہے ۔ ایک گھر، جس میں ماں باپ بچے اور دیگر قریبی رشتہ دار رہتے ہیں ، اگراس خاندان کا سربراہ حسبِ استطاعت گھر کی تمام ضروریات پوری کرتا ہو، بیوی بچوں سے محبت اور ان کی تعلیم کا نظم کرتا ہو، گھر کے کاموں کے اوقات مقرر ہوں،گھر کی اشیاء کے لیے جگہیں متعین ہوں۔ گھر کے کام مشورے سے کیے جاسکتے ہوں۔ ایسے خاندان کو ہم ایک منظّم خاندان کہہ سکتے ہیں۔

اسی طرح اگرکوئی تعلیمی ادارہ، مدرسہ،اسکو ل یا کالج اپنے مقاصد کے حصول کے لیے منظّم کوشش کرے، جس میں اساتذہ وقت پر آئیں، اپنے فرائض بہتر طور پر ادا کریں، اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔ ہرچیز کا ایک ضابطہ مقرر ہو، پورے ماحول میں محبت والفت کی کارفرمائی ہو توایسے تعلیمی ادارے کوہم ایک کامیاب ومنظّم تعلیمی ادارہ کہہ سکتے ہیں۔اس کے بر خلاف جس ادارے میں اصول وضوابط کی پابندی نہ کی جاتی ہو ،ادارہ کے مقاصد متعین نہ ہوں، کاموں کا جائزہ نہ لیا جاتا ہو، اصلاحِ حال کی کوششیں نہ کی جاتی ہو تواس ادارے کو ہم ایک ناکام اورغیرمنظم ادارہ  کہیں گے۔ اسلام نے آغاز ہی سے نظم وضبط کوغیر معمول اہمیت دی ہے  عبادات، معاملات، معیشت، معاشرت ، سیاست،غرض کہ تمام شعبہ جات میں نظم وضبط کی کارروائی واضح طورپر دکھائی دیتی ہے۔نماز ہی کو لیجئے ۔ قرآن پاک میں فرمایاگیا ہے :     اِنَّ الصَّلٰوۃَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(النساء:۱۰۳) ’’ نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے ۔‘‘

مردوں کو جما عت سے نماز پڑھنے کی تاکید  ہے۔ لیکن عورتوں کے لیے گھر پر نماز ادا کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ نماز کے ارکان وشرائط نظم کی کھلی دلیل ہیں نماز کے لیے جب آدمی مسجد میں جائے توجماعت میں شامل ہونے کے لیے دوڑ بھاگ نہ کرے ، بلکہ وقار اور سنجیدگی کوملحوظ رکھے، صفوں کی درستگی کا خیال رکھے ، جماعت کی نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرے البتہ امام سے اگرکوئی سہو ہوجائے تواصلاح کردی جائے ۔ نماز کے اس عمل سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اگر مسجد کے باہر مسلمانوں کا امیر یا سربراہ کوئی غلطی کرے تواس کو متوجہ کرنا ضروری ہے ۔ اس سے نظم وضبط بہتر ہوگا ۔ معاشرے میں اقدار پروان چڑھیں گے اور امن و سکون قائم ہوگا۔اسی طرح روزہ، حج اورزکوٰۃ جیسی عبادات کے لیے بھی کچھ شرائط وضوابط مقرر ہیں۔ اگر ان کی پابندی نہ کی جائے توعبادت کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکے گی یہ تمام امور نظم وضبط کے دائرے میں آتے ہیں۔ڈسپلن کے اجزائے ترکیبی میں وقت کی پابندی ، عہد کی پاسداری ، کاموں کو ایک معمول کے مطابق کرنا ، کرانا ،فیصلوں پر عمل در آمد کرنا بھی شامل ہے اسی طرح کاموں کوبہتر طور سے انجام دینے کے لیے مشورے کرنے کا اہتمام بھی ضروری ہے ۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاَمْرُہُمْ شُوْریٰ بَیْنَہُمْ (الشوریٰ : ۳۸) ’’ان کے کام مشورے سے طے پاتے ہیں۔اسلام نے مالی معاملات اور لین دین میں جوہدایات دی ہیں. ان کا بیش تر لوگوں کوعلم نہیں ہے اوراگر علم ہے بھی تو اس پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا ، جس کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں بلکہ دل پھٹ جاتے ہیں ، محبت ختم ہوجاتی ہے اورنوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر اسلام کے اصولوں کی پابندی کی جائے توایک پرامن معاشرہ وجود میں آتا ہے. اس وبائی مرض کے دوران سماجی دوری اختیار کئے رکھیں گے اور جس قدر ممکن ہو سکے خود کو گھروں تک محدود رکھیں۔جتنا ھم لوگ خود کونظم و ضبط سے آراستہ کرینگے اتناہی ہمارے لیے وبا سے نمٹنا آسان ہوگا۔اگر سارے لوگ نظم و ضبط سے رہیں گے توبندشوں میں مرحلہ وار نرمی بھی ممکن ہوگی وبا سے بچنا بھی سہل ہوجائے گا. اور انشاءاللہ معمولات زندگی نارمل ہونا شروع ہو جائیں گے. 


شیئر کریں: