Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چینی سفیر کا دلچسپ انکشاف ….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جنگ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جلد کورونا وائرس کی وباء پر قابو پالے گا۔ کورونا وائرس کی وباء عارضی چیلنج ہے۔ غیر ملکی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے شرح اموات کافی کم ہے، پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔یہاں کورونا وائرس سے متاثر زیادہ تر مریض جوان ہیں اور ان میں بھی وائرس کی علامات ہلکی ہیں، اس لیے ان کا علاج آسان ہے اور نوجوانوں کی قوت مدافعت ہی وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ روایتی چینی طب کی طرح پاکستان میں بھی جڑی بوٹیوں سے کورونا وائرس کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب چین کو کورونا وائرس کے سخت چیلنج کا سامنا تھا تو پاکستان نے چین کی مدد کے لیے سب سے بہتر کام کیا۔فروری میں جب پاکستان میں پہلی مرتبہ کورونا کے تصدیق شدہ کیس کی اطلاع ملی تو چینی حکومت، مقامی حکومتوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی نے بھی پاکستان کو مدد فراہم کرنا شروع کر دی۔

چینی سفیر کے اس مختصر انٹرویو میں چند اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔چینی سفیرکوہماری قومی زبان، ثقافت اور بودوباش سے گہری دلچسپی ہے وہ نہ صرف سلیس اردو بولتے ہیں بلکہ فیض احمد فیض، احمد فراز اور دیگر شعراء کا کلام بھی ترنم کے ساتھ گاسکتے ہیں۔انہیں ہماری آبادی میں نوجوانوں، خواتین، لڑکیوں، لڑکوں اور بوڑھوں کی شرح کا بھی علم ہے۔انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہم ڈاکٹری علاج سے زیادہ دم دعا، تعویز گنڈے اور جڑی بوٹیوں پر انحصار کرتے ہیں۔بیمار کے نبض پر انگلی رکھ کر ہمارے حکیم اور طبیب بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے دو تین ہفتے قبل فلاں خوراک کھائی تھی یہ اسی کا ری ایکشن ہے۔چترال کے ایک حکیم سید ولی شاہ کا یہ مشہورواقعہ بھی چینی سفیر کے علم میں ہوگا۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ والئی چترال کی اہلیہ بیمار پڑگئیں،آج سے سو سال پہلے ڈاکٹر اور ہسپتال کا کوئی تصور نہیں تھا، سرکاری قاصد کے ذریعے پیغام بھجوا کر حکیم سید ولی کو گرین لشٹ سے چترال قلعہ بلایاگیا۔حکیم شاہی زنان خانے میں جانہیں سکتا تھا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سوتی دھاگہ ملکہ کی کلائی سے ناپ کر لے آئیں، اہل دربار نے اسے بھونڈا مذاق گرداناکہ بھلا سوتی دھاگے سے مرض کا کھوج کیسے لگایاجاسکتا ہے۔ملکہ کی کلائی کے بجائے بلی کے گلے میں دھاگہ ناپ کر حکیم کے پاس لایاگیا۔ دھاگہ ہاتھ میں لیتے ہی حکیم سید ولی شاہ کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔کہنے لگا کہ میں ملکہ کی بیماری کا سن کر آیا تھا، میں کتے بلیوں کا علاج نہیں کرتا۔نواب نے بڑی منت سماجت کے بعد انہیں منالیا۔طب یونانی، طب نبوی اور حکمت کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں،فارماسیوٹیکل ادویات سے علاج کی تاریخ ایک ڈیڑھ صدی سے زیادہ پرانی نہیں۔جبکہ طب اور حکمت سے علاج لاکھوں کروڑوں سالوں سے جاری ہے۔اورہمارے حکماء اگر ریسرچ کریں تو کورونا وائرس کا جڑی بوٹیوں سے چند دنوں میں علاج دریافت کرسکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نباتات میں کوئی بھی چیز بے مصرف پیدا نہیں کی۔ جب سرطان جیسے مہلک اور موذی مرض سمیت ہر بیماری کا جڑی بوٹیوں سے علاج ہوسکتا ہے تو کورونا کا تریاق بھی انہی بوٹیوں میں موجود ہے۔صرف کھوجنے والی آنکھ درکار ہے اس حوالے سے ہم چینی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ چینی سفیر کی ایک بات ہضم نہیں ہورہی۔وہ کہتے ہیں کہ کورونا نے پاکستان میں ہلکا حملہ کیا ہے۔یا اس کی علامات ہلکی ہیں۔چین سے یورپ پہنچنے والا وائرس مزید طاقتور ہوکر ہزاروں انسانوں کو نگل گیا۔ ایشیاء پہنچ کر وہ کمزور کیسے پڑگیا۔ چینی سفیر کے اس بیان کے تانے بانے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام سے ملتے ہیں کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار کیاگیااور دنیا کی معیشت کو تہہ و بالا کرنے کے لئے پھیلایا گیا ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو بھی ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ چین ہمارا آزمودہ اور بہترین دوست ہے۔ وہ نہ صرف اپنے تیار کردہ وائرس کو پاکستان میں ہاتھ ہولا رکھنے کی تلقین کرے گا بلکہ جو علاج انہوں نے دریافت کیا ہے وہ بھی سب سے پہلے ہمیں ہی دے گا۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران بھی عوام کو یہ تلقین کررہے ہیں کہ کورونا سے ڈرنا نہیں، یہ ہمیں زیادہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔کیونکہ وہ اپنا غصہ برطانیہ، اٹلی، سپین، فرانس، جرمنی اور امریکہ پر پہلے ہی نکال چکا ہے۔


شیئر کریں: