Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان المبارک میں تاریخی ایام ۔۔۔۔۔مولانا خلیق الزمان شاہی خطیب چترال

شیئر کریں:

رمضان المبارک ( قسط نمبر ۶ )
رمضان المبارک فی نفسہ جہاں اپنے اندر بہت سی خیرو برکت رکھتا ہے وہاں تاریخ اسلام کے بہت سے واقعات کی مناسبت سے اس ماہ مقدسہ میں مختلف تقریبات کا انعقاد اسلاف امت کا معمول رہا ہے۔ ذیل میں ان میں سے چند تقریبات کا مختصر ذکر برائے افادہ درج کیا جاتا ہے۔

1۔یوم سیدہ فاطمۃ الزہرہ (3 رمضان المبارک11ھ)
سیدۃ النساء العالمین، نور دیدہ رحمۃ للعالمین حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سب سے لاڈلی اور چہیتی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی ولادت 39 نبوی میں ہوئی۔ آپ کا لقب زہرہ، بتول ہے۔ آپ کا نکاح 18 سال 5 ماہ کی عمر میں حضرت علی کے ساتھ ہوا۔ حضرت سیدہ فاطمہ شکل و صورت اور سیرت و کردار میں اپنے والد گرامی تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کمال درجہ مشابہت رکھتی تھیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:

’’طور و طریق کی خوبی، اخلاق و کردار کی پاکیزگی اور نشست و برخاست کی شائستگی میں، میں نے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ کسی اور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مشابہ نہیں دیکھا‘‘۔ 2۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ(10 رمضان المبارک 10 نبوی)
سیدہ خدیجۃ الکبریٰ بنت خویلد وہ مقدس اور خوش قسمت خاتون تھیں جنہوں نے نہ صرف سب سے پہلے نبوت کی تصدیق کی بلکہ آغاز اسلام میں ہی دعوت و تبلیغ دین کے مشکل اور کٹھن مراحل میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مشیر اور معین و مددگار ثابت ہوئیں۔ ان کی مثالی اور قابل رشک ازدواجی رفاقت نے سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب اطہر پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اکثر سیدہ کا ذکر بڑے محبت بھرے انداز میں فرمایا کرتے تھے۔.. 3۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ (17 رمضان 58 ھ)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ عالمہ، فاضلہ، محدثہ اور فقیہ امت تھیں۔ تمام ازواج مطہرات میں سے صرف آپ ہی کنواری خاتون تھیں جن کو حبالہ عقد میں لے کر حرم نبوت میں شامل کرنے کا شرف بخشا گیا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ فقہی مسائل میں راہنمائی لینے کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آپ کے ساتھ کمال درجہ محبت تھی۔ .. 4۔غزوہ بدر (17 رمضان المبارک 2 ہجریـ)


تاریخ اسلام کا پہلا معرکہ جب اسلام اور کفر۔۔۔ حق اور باطل۔۔۔ سچ اور جھوٹ کی پہلی جنگ ہوئی۔ اس معرکہ میں فرزندان اسلام کی تعداد لشکر کفار کی تعداد سے ایک تہائی تھی۔ وسائل اور اسلحہ کے اعتبار سے بظاہر بہت کمزور تھے۔ جزیرہ عرب کا اجتماعی ماحول سراسر ان کے خلاف تھا۔ سردارانِ قریش ایک ہزار کی مسلح فوج لے کر 313 مجاہدین کی بے سروسامانی سے نبرد آزما ہونے کے لئے بڑے غرورو رعونت سے میدان میں آئے لیکن انہیں فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مورخین اس معرکہ کو غزوہ بدر الکبریٰ غزوہ بدر العظمیٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے اسے یوم الفرقان کے لقب سے یاد فرمایا ہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق آشکار ہوگیا۔.. 5۔فتح مکہ، فتح مبین (20 رمضان المبارک 8 ہجری)


بعثت نبوی سے لے کر 8 ہجری تک کا اکیس سالہ دور پیغمبر امن و سلامتی، داعیان اخوت و محبت اور دین رحمت کے لئے بڑا ہی صبر آزما اور کٹھن دور تھا۔ اہل ایمان نے بڑی کسمپرسی کے عالم میں مکہ کو چھوڑا اور حرم کعبہ سے جدائی کا صدمہ اٹھایا تھا۔.. 6۔شہادت علی المرتضیٰ (21 رمضان المبارک40 ہجری)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات گرامی وہ ہستی ہے جو بچوں میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لائی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنے کا شرف حاصل ہوا۔آغوش نبوت میں تربیت کا اعزاز حاصل ہوا اور دلبند رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سیدہ فاطمہ بتول کے شوہر نامدار ہونے کا شرف ملا۔ .. ( جاری ہیں )


شیئر کریں: