Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تحریک انصاف چترال کے تاریک مستقبل…..محمدآمین گرم چشمہ

شیئر کریں:

ادارہ یا ایڈیٹرکا مراسلہ نگارکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔


سیاست کے بارے میں دو قسم کے تصورات خاص اہمیت کے حامل ہیں ایک طبقے والے سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں جبکہ اس کے بر عکس دوسرے طبقہ اس سے ایک گندی کھیل (dirty game)مانتے ہیں۔یہ دونوں نظریے اپنی اپنی جگہ صیح ہیں کیونکہ اول الاذکر میں تھوڑی سی غور فکر کیا جائے تو اگر مساوات،اجتماعی مفادات کے اصول،جوابدہی اور شفافیت ہو تو یہ ایک قسم کی عبادت تصور ہوتی ہے کیونکہ ایسے صورت میں سارا محور ایک فلاحی ریاست کا قیام ہوتاہے۔اگر سیاست کا مرکز ذاتی مفادات،عدم مساوات،بد عنوانی اور ہیرا پھیری ہو تو اسے بڑا گندا کھیل اور کوئی نہیں ہو سکتی ہے۔دور جدید کے مروجہ سیاسی امور پر نظر ڈالی جائے تو موخر الاذکر کو ہر جگہ پذیرائی نظر اتی ہے جس کے سیاسی باپ میکاولی وغیرہ تھے اور ہر جگہ میکاولی کی مشہور کتاب دی پرنس کے اصول تقریبا نافذالعمل ہیں۔


پاکستان جب 1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد کے بعد معرض وجود میں ایا جومحمد علی جناح ؒ کی بے لوث کوششوں اور قیادت کا ثمر تھا لیکن بد قسمتی سے قائد اعظم کی جلدی اس دینا سے رخصت اس نئے ریاست کے لیے بے شمار سیاسی اور آئینی مسائل اور پیچدگیاں جنم دیے اور ایک طویل سیاسی بحرانوں کے بعد 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کو ایک مستحکم اور متفقہ آئین عطا کیا لیکں وہ بھی عالمی سازشوں کا شکار بنا۔تب سے پاکستان کو صیح معنوں میں جمہوریت پروان چڑھنے نہیں دیا گیا جس کے بہت سارے وجوہات ہیں،اس دوراں عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نمودار ہو جس کا نعرہ تھا کرپشن سے پاک،مساوات اور میرٹ کے اصولوں پر مبنی نیا پاکستان۔یہ نعرہ ملک کے اکثریت کے لیئے بہت پرکشش ثابت ہو ا کیونکہ وہ کرپشن اور لا قانونیت کے تلے دھبے ہوئے تھے اور (status quo) سے چھٹکارہ چاہتے تھے لہذا ایسے حالات میں پاکستان کے لوگون نے تحریک انصاف کے حق میں اپنے ووٹ ڈالے تاکہ ان کے لیے سورج نئے صبح کے ساتھ طلوع ہو سکیں۔
جمہوریت کو ترقی دینے اور مستحکم کر نے کے سلسلے میں سیاسی جماعتیں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں جو اپنے منشور اور سابقہ پرفارمنس کو سامنے رکھ کر عوام کے پاس جاتے ہیں کہ حکومت میں انے کے بعد لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے منشور کے مطابق کام کریں گے۔جیسا کہ عمران خان کو لوگوں نے اس لئے ووٹ دیے تھے کیونکہ وہ ملک میں ایک تبدیلی لانے کا اعلاں کر رہے تھے جس سے عام لوگوں کی قسمت بدل جائیں۔


یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کی ذات کے بار ے میں کوئی بھی شک نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس کے دل میں ملک کے لیے ایک درد ہے اور ایک جذبہ ہے لیکن اس کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے اردگرد کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کے ایجنڈے کے راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور مروجہ صورت حال کو برقرار رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔


چترال ان چند اضلاع میں سے ہیں جو کسی طرح بھی عمران کے تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دئیے جس کی مثالیں دو دفعہ جنرل الیکشنز اور ایک دفعہ لوکل با ڈیزانتخابات تھے جہاں پی ٹی آئی بری طرح چترال میں ناکام ثابت ہوئے جن کے ساری ذمہ داری پارٹی ضلعی قیادت کی نا اھلی اور عام پبلک سے دوری تھے کیونکہ ان میں سے بعض اپنے اپکو پارٹی میں مطلق العنان سمجھتے تھے اور دوسروں کی انٹری کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی مثال پی ٹی آئی کی حالیہ ضلعی قیادت کے انتخابات میں غیر جمہوری رویے ہیں۔
آج سے تقریبا پانچ ماہ قبل ضلع چترال لوئر اور اپر میں ضلعی سطح پر پی ٹی آئی کے قیادت یعنی صدور اور کابینہ کے عہداداروں کے لیے پارٹی ضوابط کے تحت الیکشن منعقد ہوئے تھے اور نتائیج کے مطابق سرتاج احمد خان صدر لوئر چترال اور آمین الرحمن جنرل سکریٹری منتخب ہوئے تھے جس کی پبلسٹی چترال کے تمام لوکل اخبارات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی کہ پارٹی کنویشن میں اکثریت نے ان دونوں کو پارٹی قیادت کے لیے منتخب کیے۔لیکن اس دوران پارٹی کارکنان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ متعلقہ اتھارٹی کی طرف سے نوٹیفیکشن نہیں ہو رہی تھی اور کچھ کھچڑی پک رہی تھی۔

ہم تھوڑاسا الیکشن کے طریقہ کار پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔باوثوق زرائع کے مطابق ضلعی صدرات کے لیے تین نام سامنے ائے تھے جن میں شہزادہ آمان الرحمن،سرتاج آحمد خان اور سجاداحمد شامل تھے۔شہزادہ آمان لرحمن نے جمہوری تقاضوں اور پارٹی مفادات کو سامنے رکھ کر سرتاج احمد کے حق میں دست بردار ہواتھا کیونکہ بقول ان کے ان کو عہدے کی بجائے پارٹی کے اندار رہ کر ایک عام ورکر کی طرح کام کرنا اچھا لگتا ہے اور جو فیصلہ پارٹی کے کارکناں کریں اور جو ذمہ داری وہ اور پارٹی قیادت دینگے ان کو دل و جان قبول سے ہوگا۔


سرتاج احمد چترال کے حوالے سے بہت کام کرچکا ہے جن میں چترال چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور چترال اکنامکس فورم کا قیام،دوراہ اور اروندو پوانٹس سر حد پار کاروبار کے لیے کھولنے کے سلسلے میں ان کی انتھک کاوشین، ای۔آر۔کے۔ایف کے زریعے کروڑوں روپے چترال کے مختلف کاروباری طبقوں میں تقسیم وغیرہ شامل ہیں اور ان حقائیق اورکوششوں کو سامنے رکھ کر اس سے ایک بڑی توقع منسلک تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو چترال میں ایک مستحکم پارٹی بنائے گا اور آئیندہ الیکشن میں ضرور کامیابی ملے گی۔لیکن بعض مفاد پرست پارٹی ورکرز نے ان دونوں (شہزادہ آمان الرحمن اور سرتاج آحمد) کے خلاف یہ مہم چلائے کہ وہ پیرا شوٹ سے اترنے والے لوگ ہیں جو اپنے مخصوص گروپ اور ایجنڈے کے تحت پارٹی میں انٹری کرچکے ہیں اور پرانے ورکرز کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور مختلف طریقوں سے سوشل میڈیا پر یہ پروپگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی۔جہان تک سجاد کا تعلق ہے وہ پارٹی کے پرانے ورکر ہے اور صوبائی کا بینہ میں بھی خدمت سرانجام دیا ہے اور ہم اس کے خلاف نہیں ہے لیکن طریقے کار غلط ہے جس کا برمالہ اظہار پارٹی کے ورکرز کر رہے ہیں۔


جس طرح سے حالیہ (reshuffling) ہوا ہے اسے پاکستان تحریک انصاف کو لوئر چترال میں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور وہ دن دورنہیں جب پی ٹی آئی علاقے میں ایک غیر موثر اور مائنس سیاسی جماعت کے طور پر ریڈر پر نظر ائے گا جس کی ساری ذمہ داری پارٹی کے وہ کارکن اور فیصلہ کرنے والے احباب اختیارہونگے جو پارٹی کے لیے openessکے تمام دروازے بند کرچکے ہیں جس کا خامیزا پہلے انتخابات میں بھگت چکے ہیں جس کا ہمیں افسوس ہوتا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ پرانے رویے تبدیل کرکے پارٹی کے دروازے سب لوگوں کے کھول دیں اور پرانے اور نئے کا نعرہ ہمیشہ کے لئے ختم کریں۔


شیئر کریں: