Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے تحت کمشنرملاکنڈ ریا ض محسود نے PPEsکی کھیپ وصول کی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)سی ڈی ایل ڈی CDLDپروگرام نے صوبائی حکومت کیساتھ مل کر خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں پروگرام کے تحت صوبے کے 13اضلاع میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے ذاتی حفاظتی اشیاء PPEsکی فراہمی شروع کر دی گئی ہے جس کا مقصد صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی دیکھ بال کرنے والے طبی عملے کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھنا ہے تا کہ وہ پوری تندہی کیساتھ بے خوف اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
طبی امدادکے علاوہ سی ڈی ایل ڈی پروگرام نے ایک بھر پور آگہی مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے جو صوبے کے طبی عملے اور تمام لوگوں کو کورونا وائرس سے بچاوٗ کیلئے معلومات اور آگہی فراہم کرے گا۔ آگہی مہم کو موٗثر بنانے کیلئے صوبے کے مختلف اضلاع میں بینزز اور سٹریمرز آویزاں کئے گئے ہیں اور اس کے علاوہ ریڈیو کے ذریعے معلوماتی پیغامات بھی نشر کئے جا رہے ہیں۔
سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے اعلیٰ حکام نے ذاتی حفاظتی اشیاءPPEsاو ر دیگر سامان حکومت خیبر پختونخوا کے حوالے کر دئیے۔ حکومت کی طرف سے کمشنر ملاکنڈ ریاض خان محسود اور کمشنر ہزارہ سید ظہیر السلام نے طبی سامان کی کھیپ وصول کی۔ذاتی حفاظتی اشیاء PPEs صوبے میں کورونا وائرس کیلئے مختص ہسپتالوں میں فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اور طبی عملے کی حفاظت کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔
ذاتی حفاظتی اشیاء PPEsکی ہر کھیپ N95ماسک، حفاظتی دستانے، حفاظتی عینکیں، حفاظتی لباس اور طبی عملے کیلئے دیگر حفاظتی سامان پر مشتمل تھی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حکومتی نمائندوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کورونا وائرس نے طبی عملے کو کافی خطرات اور مشکلات سے دوچار کر دیاہے۔ان کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا یوریین یونینEUکا بھر پور شکریہ ادا کرتی ہے کہ انہوں نے صوبے کے طبی عملے کیلئے ذاتی اشیاء PPEsکی فراہمی میں بھر پور مدد کی تاکہ وہ بے خوف و خطر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے ٹیم لیڈر ندیم بشیر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی حفاظتی اشیاء PPEsکے استعمال سے طبی عملے کو کورونا وائرس سے لاحق خطرات سے بچایا جا سکے گا جس سے اس موذی وائرس کی روک تھام میں مدد ملے گی اور یوں مشترکہ کوششوں کے ذریعے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی وباء پر قابو پایا جا سکے گا۔


شیئر کریں: