Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتظامیہ۔۔۔انتظامیہ۔۔۔۔انتظامیہ ۔۔۔۔۔عاقب اللہ،جنگ بازار چترال

شیئر کریں:

جب انتظامیہ اپیل کر رہی تھی کہ چترال مت آئے ابھی اور ٹنل بھی بند کیا گیا تھا ،تو اس وقت بھی ہم لوگ ہی اس پر برس رہے تھے کہ چترالیوں کے ساتھ ظلم کیا جارہاہے ،ساتھ ہی ایم،این،اے صاحب نے بھی پریس کانفرنس کر کے ان پر پریشر ڈال دیا تھا۔۔چلو ٹھیک ہے یہ انکا حق تھا ،لیکن ان میں سے بھی بہت سے لوگ چھپ کر گھروں تک جا پہنچے۔۔اور اب اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے پھر سے انتظامیہ پر الزام۔۔جب انے والوں کو قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے تب پھر سے انتظامیہ پر الزام کہ کھانا سہی نہیں ،سہولیات نہیں ہیں،اور کیا سہولیات ہونگی ،کھانا دیا جاتا ہے،سونے کیلئے بستر ہیں۔بس ہر کوئی حامد میر بنا پھیرتا ہے،موبائل اٹھایا ،ویڈیو بنا کر اپلوڈ کیا،اور پھر ماشاءاللہ سے چترالی پیجز اتنے ہیں کہ سیکنڈ میں اس کے سپورٹ میں نکل پڑتے ہیں۔۔۔ان ویڈیوز میں شکایات یہ ہوتی ہیں کہ صابن نہیں ہے تولیہ نہیں ہے۔۔ارے بھائی صابن ،تولیہ تو بیس روپے کے آتے ہیں،کم سے کم اپنی حفاظت کیلئے وہ تو خود خرید سکتے ہو۔۔


اج پھر ایک پوسٹ دیکھا جس میں پھر کوئی انتظامیہ پر برس رہا تھا  کہ بازار کیوں بند کیا گیا۔ انتظامیہ جب سختی کرے تب تکلیف نرمی کرے تب پریشانی ،صبح سے شام چیخ چیخ کر اعلان کیا جارہا ہے،کہ ہدایات پر عمل کریں۔۔رہی بات عمل کرنے کی تو یہ عوام کو خود سمجھنا چاہیے اب ہر گلی ہر گھر جا کر انتظامیہ ہر کسی کے ہاتھ تو نہیں دھلوا سکتی۔ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں کب تک دوسروں کو کوستے رہیں گے۔۔مگر یہاں تو لوگ اسکو سیریس ہی نہیں لے رہے ہیں ،اب تک یہودیوں کی سازش کہہ رہے ہیں،حالانکہ یہودیوں کی خود پھٹی ہوئی ہے۔۔۔یہ جنگ اگر جیتنی ہے تو ہم خود جیت سکتے ہیں،ہدایات پر عمل کر کے۔نہ انتظامیہ نہ ہی حکومت ہمیں جتوا سکتی ہے۔مگر یہ بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔۔


شیئر کریں: