Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیو ورلڈ آرڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


عالمی وباء کورونا نے دنیا کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔روزانہ ہزاروں انسان اس مہلک وباء کا شکار ہورہے ہیں۔دنیا کی معیشت، تجارت، صنعت، زراعت اور تعلیم سمیت ہرشعبے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس وباء کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا اور یہ کتنی جانوں کو نگل لے گی۔یہ بات طے ہے کہ جب کوروناکا مرض ختم ہوگاتو ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی گویا کورونا وائرس ہی نیو ورلڈ آرڈر ثابت ہوا ہے۔جس نے اقوام عالم کی تہذیب، تمدن، اقدار، روایات اور معمولات بالکل بدل کر رکھ دیئے ہیں۔کوروناکے پھیلاو کو روکنے کے لئے لاک ڈاون کی وجہ سے سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔کاروبار اور دفاتربند ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں میں مقید ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے گھریلو تشدد بڑھنے اور میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ایک بین الاقوامی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں لاک ڈاون کی وجہ سے طلاق کے واقعات میں غیر معمولی دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹوکیو کی ایک تعمیراتی کمپنی نے طلاق کی شرح روکنے کے لئے میاں بیوی کو مناسب کرائے پر بہترین سہولیات سے آراستہ اپارٹمنٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔اس اپارٹمنٹ کی بکنگ کروانے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ سامنے آئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر چوبیس گھنٹے گھر میں پڑے رہتے ہیں ان کی خاطر مدارت،کھاناپکانے، برتن اور کپڑے دھونے سے وہ تنگ آچکی ہیں اور لاک ڈاون کے خاتمے تک وہ کسی پرسکون جگہ اکیلی رہنا چاہتی ہیں۔یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں میں بیوی پر تشدد اور ذہنی ٹارچر قابل دست اندازی پولیس ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں صورتحال یکسر مختلف ہے،اکثر مرد حضرات بیوی پر تشدد کو اپنا پیدائشی حق اور باپ دادا سے ملی ہوئی میراث سمجھتے ہیں۔لاک ڈاون سے پہلے مرد ملازمت اور محنت مزدوری کے لئے دن بھر گھروں سے باہر رہتے تھے اس لئے تلخیاں پیدا ہونے کے امکانات کم تھے۔ اب لاک ڈاون کی وجہ سے وہ سارا دن گھروں پر ہی ہوتے ہیں لامحالہ ہمارے ہاں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہوگا۔ مگر ایسے واقعات منظر عام پر اس لئے نہیں آتے کہ پولیس اور میڈیا کی ساری توجہ کورونا پر مرکوز ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کو بھی اپنی جانوں کے لالے پڑے ہیں۔البتہ لاک ڈاون کی تواتر کے ساتھ خلاف ورزیوں سے یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مرد حضرات بھی گھروں میں تنگ آچکے ہیں، کماکر لانے والے شوہروں سے بیگمات کو شکایات ہوتی تھیں اب گھر میں بیٹھ کر روٹیاں توڑنے والوں کو بات بات پر طعنے ملنے کی وجہ سے وہ موقع ملتے ہی گھر سے عارضی راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ان کے لئے یہ موقع غنیمت ہے کہ حکومت لاک ڈاون کی خلاف وزری کرنے والوں کے ساتھ زیادہ سختی سے پیش نہیں آ رہی۔ اگر فلپائن کی طرح یہاں بھی لاک ڈاون پر گولی مارنے کا حکم ہوتا۔تو کیامجال کہ کوئی گھر سے باہر قدم رکھے۔کیونکہ گولی کھانے سے بیگم کے جوتے کھانے میں جان کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ انڈونیشیا نے لاک ڈاون توڑنے والوں کو راہ راست پر لانے کے لئے نیا طریقہ اختیار کیا ہے، جکارتہ شہر میں رات کے وقت بھوتوں کی ڈیوٹیاں لگ گئی ہیں جو سڑکوں، چوراہوں اور گلی محلوں میں اندھیری جگہ تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں،جونہی کوئی مٹرگشت کرتا ہوا سڑک پر نکل آتا ہے، بھوت اچانک سامنے آکر انہیں گھروں کی طرف واپس بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھوت کا روپ دھارنے کے لئے کچھ رضاکاروں نے خود اپنی خدمات حکومت کو پیش کی ہیں،بھوت برادری کی بدنامی کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے ڈراونے کردار کی فیس یا تنخواہ لینے سے بھی انکار کردیا ہے۔امکان یہی ہے کہ کورونا کا خطرہ ٹلنے کے بعد بھی ہاتھ ملانے اور معانقہ کرنے سے لوگ عادتاً گریز کرنے لگیں گے، جاپانیوں کی طرح ہاتھ سینے پر رکھ کر جھکنا ہی پوری دنیا میں رائج ہوگا۔عربیوں کا طرز معانقہ شاید ممنوع ہی قرار پائے۔گھر میں کوئی مہمان آجائے تو سب سے پہلے دروازے پر ہی تھرمامیٹر سے اس کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا۔ پھر اس پر سینی ٹائزر چھڑکا جائے گا، دستانے اور فیس ماسک پیش کئے جائیں گے۔دو گز دور بٹھا کر اس کی خیروعافیت معلوم کی جائے گی۔ہماری بہت سی روایات اور اقدار متروک قرار پائیں گے۔انسان ایک نئے طرز کی زندگی شروع کرے گی جس کا عادی ہوتے ہوتے موجودہ نسل کی زندگی کی اننگز ختم ہوجائے گی۔اور کورونا سے دھلی نئی دنیا میں آئندہ نسل اپنی زندگی کی اننگز شروع کرے گی۔یہی خالق کائنات کی طرف سے نیو ورلڈ آرڈر ہوگا۔


شیئر کریں: