Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آبادی، روزگار اورمسقبل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

 لوگ قرضے لے کر اپنے فارغ نوجوان بچوں کی شادیاں کراتے ہیں اور پھر وہ صرف ایک ہی کام کرتے ہیں ”آبادی میں اضافہ۔“۔ایوب دور میں منصوبہ بندی محکمہ کے ایک پراجیکٹ کے تحت نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھرتی کی گئیں جنہیں ”سوشل موٹیویز“ کا نام دیاگیا۔ایک لڑکا اور ایک لڑکی کو ایک ہی بائیسکل دی گئی کہ وہ دونوں کسی نہ کسی گاﺅں میں جاکر ان پڑھ خواتین و حضرات کو اپنی صحت و سلامتی کی خاطر کم بچے پیدا کرنے کےلئے قائل کریں۔چھ ماہ کے اندر اندر آبادی تو کم نہ ہوسکی البتہ ”سوشل موٹیو یز“ لڑکے لڑکیوں میں سے بیشتر نے شادیاں کرلیں اور سائیکل بیچ کر اپنے مالی وسائل بہتر کرلئے یا حق مہر کی رقم جمع کی اور پھر فروغ آبادی میں جت گئے۔ہمارے ہاں طویل المدت ترقیاتی منصوبہ بندی میں دوسری رکاوٹ آبادی کا کنٹرول نہ ہونا ہے۔پہلی رکاوٹ یہ کہ ہمارے حکمران اور سرمایہ دار عام لوگوں کی بھلائی پر یقین ہی نہیں رکھتے!انہوں نے زیادہ آبادی کو بھی اپنے کاروبار کا حصہ یوں بنایا کہ نوجوانوں کوبروکرز کے ہاتھوں پھنسوایا. حالانکہ ”انسانی سمگلنگ“ دنیا بھر میں ایک مکروہ دھندہ خیال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں بےروزگار نوجوانوں کو بھاری مراعات کے لالچ میں اچھی خاصی رقم کے عوض یورپ، برطانیہ،امریکہ اور خلیجی ریاستوں میں بھیجوانے کا دھندہ عروج پر پہنچایا ۔

آئے دن یونان سے یا ترکی سے آگے لے جانے والے ایسے نوجوانوں کی لالنچیں ڈوب جانے یا دم گھٹ کر مارے جانے کی اطلاعات آتی ہیں مگر بے حس لوگ اس دھندے سے باز نہیں آتے۔بڑا پیارا سکول کا دوست کھو دیا میں نے. کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ وہ یورپ پہنچنے کے چکر میں غلیظ ایجنٹوں کے ھاتھ چڑھ چکا تھا. پھر بدقسمتی سے یورپ تو نہ پہنچے لیکن کسی انجان سمندر کے طوفانوں کے نظر ہوگئے. بہرحال اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے. آمین. اس بات کی لمبی تمھید باندھنے کی وجوہات کئی ہیں. مرحوم دوست کے ماشاءاللہ سےتیرہ بہن بھائی ہیں . والد والدہ اور دادا دادی سارے ہی حیات ہیں تو ایک اچھا خاصا بڑا کنبہ ہے. دوست کی شکایت ہمیشہ یہی ہوتی تھی کہ یار چھوٹا خاندان زندگی آسان. ھم کراچی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے. کالج سے فراغت کے ساتھ ہی اس کی شادی کرائی گئی تو وہ اس پرہنگم گھریلو ماحول کے ساتھ ساتھ شادی سے بھی خوش نہ تھے. بیگم محترمہ سے کھل کے اختلافات تھے. بہرحال کئی دفعہ مرنے کی حسرت لیکر محفل میں اجاتے تو باقی دوست مل کر

اسکا مزاق اڑاتے. تو ایک چیز میں نے نوٹ کیا کہ ھمارے ھاںتعلیم کے اختتام اور نوکری یا کاروبار کی ابتدا پر جوں ہی مردوں کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ دور افق کے اس پار آزادی کی صبحِ نو کی کرن پھوٹنے کو ہے تو اس کی شادی کرادی جاتی ہے۔ جتنے دن نوجوان کے گھر شہنائی اور ڈھولک بجتی ہے اتنے دن تمام دوست احباب اور اہل و عیال نوجوان کی طرف دیکھ کر ہنستے مسکراتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے قربانی سے چند روز قبل گھرمیں لائے گئے بکرے کو دیکھ کر گھر کے بچے کھلکھلاتے ہیں اور اس کی کھال پر مہندی سے عید مبارک لکھتے ہیں اور اس کے سینگوں میں پھولوں کی مالا ٹانگتے ہیں۔لیجئے مرد کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوا چاہتا ہے۔

صبح نوکری کے لئے گھر سے نکلو اور شام کو چاکری کے لئے واپس لوٹ آو۔ نام کا مجازی خدا اور حقیقت میں ڈرائیور، الیکٹریشن، پلمبر، چوکیدار. کلرک. دکاندار ۔ ۔ ۔ یہ کیسا مجازی خدا ہے جسے اپنی گھر میں ہی صوفے پر ٹانگیں پسار کر بیٹھنے کا حق حاصل نہیں؟ یہ کیسا خاندان کا سربراہ ہے جو بستر میں لیٹ کر دو بسکٹ بھی نہیں کھا سکتا؟ یہ کیسا گھر کا مالک ہے جو دس منٹ سے زیادہ ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں تھام کر بیٹھ نہیں سکتا ؟ میں تو جانوں بہت سی گھریلو اشیا مثلا ً استری، باتھ روم کی ٹونٹی، پانی کی موٹر، گیس کا چولہا وغیرہ چھٹی والے دن محض اس لئے خراب ہو جاتی ہیں کہ خدا نخواستہ مجازی خدا یا خاندان کا سربراہ اتوار کے دن دو گھنٹے زیادہ بستر پر نہ پڑا رہے. خیر ان دنوں قرنطینہ کے دوران جو لڑائیاں ہوتی ہیں ان کے لئے تو ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کو خصوصی پیغام دینا پڑ گیا کہ خدارا سدھر جاو. کرونا سے بچ کر آپس کی لڑائیوں سے ہی نہ مر جاو. 


شیئر کریں: