Chitral Times

Jan 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوارث چترال۔۔۔۔۔۔حاجی محمد شفا

شیئر کریں:

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں                    وقت کی شاخ کو میرے دوست  ہلانا ہوگا

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے                                   اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا۔

پورے چترال کے عوام نے 2018 کے  الیکشن میں  عبد الاکبر صاحب کو ووٹ دیکر اپنے مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ بھیجا مگر بد قسمتی سے جناب عبد الاکبر صاحب صرف تنخواہ اور مراعات لیکر مزے لے رہا ہے۔ جس طرح چترال میں ناروا لوڈشیڈنگ کا جو آغاز ہو چکا ہے یہ چترالی قوم کے ساتھ سنگین مذ اق ہے جناب ایم این اے صاحب خاموشی کا مظاہر ہ کر کے دوسرے غیر ضروری ایشوز میں مصروف ہے۔ گولین گول پاور ہاوس سے بجلی لواری ٹاپ پر ٹاور گرنے کی وجہ سے دوسرے اضلاع کیلئے منقطع ہے اور چترال میں لوڈ شیڈنگ کر کے ریاست کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

دروش کےپسماندہ گاؤں وارڈاپ پائین  میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے  خواتین نے دروش میں احتجاج کیا مگر جناب ایم این اے صاحب نے ان خواتین کے ساتھ رابطہ کیا اور نہ کوئی ہمدردی ۔جب علاقہ مکین ایم این اے سے  رابطہ کیا تو ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ لوگ سلیم خان کو ووٹ دیے ہیں ان کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ یہ 48 ہزار  ووٹ ضلع چترال سے ملیے ہیں۔کیا 2013 کے الیکشن میں چترال کے عوام نے نواز شریف کو ووٹ دیتے تھے؟؟اس کے باوجود چترال کیلئے 128 ارب پورے چترال کی ترقی کی مد میں خرچہ کیے ۔ جنرل پرویز مشرف نے لواری ٹنل اور  گولین گول بجلی گھر  لاکھوں روپےکا  کام شروع کیا حالانکہ وہ سیاسی جماعت کا رہنما نہیں تھا۔

جناب ڈپٹی کمشنر صاحب آپ چترال اور حکومت پاکستان کا ایک زمہ دارسول سرونٹ ہیں اور ضلع کا سربراہ ہونے کی وجہ سے یہ زمہ داری اپ پر بھی عائد ہوتی ہے کہ ان سارے معاملات کی نگرانی کرے۔

صوبائی حکومت نے ضلع چترال میں بجلی گھربنانے کی مد میں دو بڑے این جی اوز کو خطیررقم مختص کئے مگر یہ این جی اوز ابھی تک چترال میں 1 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مگر کاغذ ی کاروائی سارے بجلی گھر تیار ہیں۔

تحصیل دروش کی آبادی 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ یوٹیلی اسٹور میں آبادی کی نسبت سے آٹا اور دیگر اشائے خوردنوش موجود نہیں ہے۔ انجناب اس معاملے کو اگے نوٹس میں لایا جائے تاکہ آبادی کے تناسب سے یوٹیلٹی اسٹورز میں اشائے خودنوش آٹا ، چینی وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ پہلے حکومت میں ہر یونین کونسل میں یوٹیلیٹی اسٹور ز موجود ہوتے تھے۔اب دور افتاد ہ علاقوں کے غریبوں کا دروش بازا ر آنا اور یہاں اشائے خوردنوش کا  نا ملنا سرمایہ  اور وقت ضائع ہوتا ہے جس کی وجہ سے غریب لوگ  بہت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

عوام دروش جناب ڈپٹی کمشنر صاحب لوئیر سے گذارش کرتے ہیں کہ ذکر شدہ  مسائل کی فوری حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جناب ایک با صلاحیت نوجوان ہے اور چترالی قوم کے ساتھ ہر دکھ در د میں آپ شامل ہے اور بجلی اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی خود نگرانی کرنے کیلئے ایک ٹیم مقرر کر کے غریب لوگوں کے مسائل حل کر کے دعائیں  حاصل کریں۔

منجانب: .محمد شفاء  سماجی کارکن چترال دروش


شیئر کریں: