Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرتاج احمد خان کی افغان کمرشل اتاشی سے ملاقات، پاک افغان بارڈرکھولنے کے حوالے تفصیلی گفت وشنید

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)پاک افغان ٹریڈ کو بڑھانے اور اس مد میں درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لئے فیڈریشن چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اہم اجلاس منعقد ہوگئی جس میں اس بات پراتفاق محسوس کی ترجیحی بنیادوں پر پاک افغان ٹریڈ حصوصا خیبرپختونخوا کے تناظر میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے کے لئے دو طرفہ مربوط کوششیں کی جائے گی، اس موقع پر ایف پی سی سی آئی پشاور آفس میں کوارڈنیٹرسرتاج احمد خان نے معزز مہمان افغان کونصلیٹ کے کمرشل اتاشی محمدفواد ارش کو خوش آمد کرتے ہوئے فری ٹریڈ ایگریمنٹ، ایف پی سی سی آئی آفس میں فرنٹ ڈسک بنانے،بارڈ کو ہفتہ بھر کے لئے کھولنے اور ٹرانسپورٹروں کے مسائل سامنے رکھ دی ہیں۔ اجلاس میں کے پی بورڈ آف انوسمنٹ کے ڈائریکٹر محمدشاہد، ایف پی سی سی آئی کے پاک ریلوے ڈرائی پورٹ کنونیئر ضیاء اللہ سرحدی، کارگو کنونیئر امتیاز احمد، سیکرٹری ایف پی سی سی آئی محمد وصال اور اسسنٹ منیجر ایف پی سی سی آئی انجنیئرخالد حیدر نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل، ہفتہ میں تین روز بارڈ کھولنے کی بجائے ہفتہ کے سات روز کھولنے، ٹرانسپورٹروں کے مسائل، ہمسایہ ممالک ایران اور ہندوستان کے ٹرانزٹ مال کی طرح یکساں ٹیکس پر تفیصلی گفت وشنید کی گئی ہیں جبکہ اس پر بات ایف پی سی سی آئی اور افغان کمرشل اتاشی متفق ہوگئے ہیں کہ دونوں ممالک کے دس دس فوڈ ایٹم پرفری ٹریڈ ایگریمنٹ کی جائے جبکہ مال بردارگاڑیوں کو افغانستان میں سہولیات دی جائے۔ ایف پی سی سی آئی کوارڈینٹر سرتاج احمد خان نے ارندو اور گرم چشمہ چترال سمیت غلام خان اور دیگر بارڈ پر ایکسپورٹ وامپورٹ شروع کرنے کے لئے دونوں ممالک پر زور دیاہیں۔ کمرشل اتاشی محمد فواد ارش نے کہاکہ قانونی مشکلات اور حائل رکاٹوں کی تجارت طور خم کی بجائے دوسرے ممالک کو شفٹ ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پاک افغان ٹریڈ میں ایک نمبر پر تھا اور اس کی پوزیشن تیسری نمبرپر چلا گیا اور ساتھ ہی کہاکہ پاکستان اور افغانستان ترقی پذیر ممالک ہیں اور انکے عوام کی بہتری کے لئے تجارتی تعلقات کو بڑھاناہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ ایف پی سی سی آئی پشاور آفس میں پاک افغان ڈسک کھولا جائے گا اور فوری طورپر صوبائی حکومت کے ساتھ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تجارت اور قونصل جنرل افغانستان کے سربراہی میں جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں دنوں اطراف کے مشکلات کا احاطہ کیا جائے گا اور ساتھ ایک کوارڈینیش کمیٹی بنائی جائے گی جس میں پاک افغان کے چیدہ چیدہ دس دس ایٹم کو منتخب کیا جائے گا۔


شیئر کریں: