Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لاک ڈاؤن ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔ندیم احمد

شیئر کریں:

کورونا‘ کی وبا کے دوران ’لاک ڈاؤن‘ کی اصطلاح عام ہوئی۔ ’لاک ڈاؤن‘ عوام پر گھروں میں رہنے کی ایک سرکاری پابندی کی صورت میں عائد ہوا۔ خلقِ خدا نے عرف عام میں اس کے معنی اپنے طور پر ’ہڑتال‘ یا کرفیو وغیرہ کی ایک شکل میں اخذ کر لیے۔۔۔ یعنی تمام معمولات زندگی بند ہوں اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔۔۔ ہڑتال تو عام طور پر دو، ایک دن کی ہوتی تھی، جس کے بعد زندگی پھر سے سانس لینے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتی تھی۔۔۔ گلی محلوں میں تو دن ڈھلتے ہی ہڑتال بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر ختم ہو جاتی تھی۔ کرفیو کے زمانوں میں تو صورت حال ظاہر ہے کسی بھی سبب نزاعی یا ناگفتہ بہ ہوتی اور لوگ کسی شدید خوف یا ڈر کی بنا پر گھروں تک محدود ہونے پر مجبور ہو جاتے، لیکن حالیہ ’لاک ڈاؤن‘ کورونا کی وبا کے پیش نظر حفظ ماتقدم یعنی پیشگی احتیاط کے طور پر عائد کیا گیا ہے، جس کے سبب مختلف علاقوں سے یہ شکایات تواتر سے سامنے آرہی ہیں کہ لوگ گھروں میں بیٹھنے کی پابندی پر عمل نہیں کر رہے۔ شہر کے بڑے بڑے اسٹوروں اور گلی محلوں کے چھوٹے بازاروں میں ضروریات زندگی کی دکانوں پر معمول سے زیادہ رش دیکھنے میں آرہا ہے، جس سے ظاہر ہے لوگوں کے درمیان ’سماجی دوری‘ نہیں رہ پا رہی!

اس کی ایک بڑی وجہ تو ہمارے سماج میں شعور کی کچھ کمی ہے۔ اب بھی ایک بہت بڑی تعداد ’کورونا‘ کے سبب معمولات زندگی کی اس بندش کو دشموں کی سازش قرار دینے پر تلی ہوئی ہے، وہ مستقل ’کورونا‘ سے پیدا ہونے والے حالات کو شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ بالفرض اگر یہ وبا سازش وغیرہ بھی ہے، تو اب اس کا تدارک لاک ڈاؤن کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟ کیوں کہ یہ مہلک لاعلاج بیماری تو ایک فرد سے دوسرے کو چھونے یا قریب ہونے سے لگ سکتی ہے، اس لیے یہ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ افراد سے یہ مرض دوسروں کو نہ لگ سکے۔

مجموعی طور پر ہمارے سماج میں مذہب کے حوالے سے کافی جذباتی فکر پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب حکومت نے مساجد میں باجماعت نماز محدود کی، تو اِسے بھی بہت سے حلقوں نے ’غیر ضروری‘ کہا اور ناپسند کیا۔ اس حوالے سے یہ دلیل پیش کی گئی کہ بازاروں میں رش ہے، یا فلاں جگہ پر بھی تو بھیڑ لگی ہوئی ہے، لیکن مسجدوں پر قدغن ہے۔۔۔! بھئی اگر ہمیں اس  وبا کے مہلک ہونے اور اس کے پھیلنے کے بارے میں کوئی شک ہے، تو پہلے ہمیں چاہیے کہ اس حوالے سے کھل کر اور مدلل بات کرلیں اور اگر نہیں تو پھر خود بتائیں کہ اگر ایسا ہے، تو عقل مندی کا تقاضا کیا ہے۔۔۔؟ یہ کہ بازاروں میں اگر اس ’سماجی فاصلے‘ کی احتیاط نہیں ہو رہی، تو اسے روکنے کے لیے زور دیا جائے؟ یا پھر یہ کہ اس خلاف ورزی کی بنیاد پر مزید خلاف ورزیوں کے لیے ایک دلیل بنا دی جائے۔۔۔؟

دوسری طرف اس امر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ’کورونا‘ کے حوالے سے یہ یقیناً ایک مشکل صورت حال ہے۔ دنیا بھر کی طرح ہماری حکومت نے بھی اس وبا سے نمٹنے کے لیے ’لاک ڈاؤن‘ کا احتیاطی قدم اٹھایا ہے، تو اس کے ساتھ ضروری تھا کہ وہ اپنے ساتھ مختلف الخیال سیاسی و مذہبی اور سماجی راہ نماؤں سمیت رائے سازی کے حوالے سے معتبر سمجھے جانے والی تمام شخصیات کی اعلانیہ حمایت بھی حاصل کرتے، تاکہ ہمارے سماج کا ہر طبقہ اس حوالے سے روزِ اول سے ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا اور وہ جس کسی بھی راہ نما یا شخصیت کا حامی، مداح، پرستار یا پیروکارہے، اس کی آواز پر لبیک کہتا۔

اس کے ساتھ ماضی میں جنگوں کے دوران ’بلیک آؤٹ‘ یا ’کرفیو‘ وغیرہ جیسی کسی بھی صورت حال کے لیے گلی محلے کی سطح پر مدد حاصل کی جاتی رہی ہے،کیوں کہ حکومتی عمل داری بڑی شاہ راہوں اور سڑکوں پر بہ آسانی ہو سکتی ہے، لیکن چھوٹے محلوں اور ان کے اندر گلی کوچوں تک اس بھرپور طریقے سے ہونا اتنا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس مقصد کے لیے ’محلہ کمیٹیاں‘ یا ہر علاقے کے کچھ معززین اپنے رضا کاروں کے ذریعے نہ صرف حکومتی احکامات کی پابندی کراتے تھے، بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کو اس بات کا قائل بھی کرتے کہ وہ مسئلے کی نزاکت کو دل سے تسلیم کریں اور اس حوالے سے دی گئی تمام ہدایات  پر عمل کریں۔

اس بار ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری اہل کاروں کو براہ راست لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے پولیس، رینجرز کے بعد اب فوج کی مدد بھی حاصل کرلی ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر مجموعی طور پر عوام ہی پابندی پر عمل نہ کریں، تو یہ سب اہل کار مل کر بھی لوگوں کو کتنا اور کب تک مجبور کر سکتے ہیں۔۔۔؟ جب تک کہ لوگ خود سے ہی یہ بات نہ سمجھیں کہ یہ مشکل اور کٹھن فیصلہ ان کے تحفظ کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ مانا کہ اس میں ہمارے لیے شدید ترین معاشی دشواریاں بھی چھپی ہوئی ہیں، لیکن جان ہے تو جہان ہے۔۔۔ کورونا کے حوالے سے اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی تو دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ خدانخواستہ اگر یہ وبا زیادہ پھیل گئی تو ہمارے ناکافی طبی وسائل سب کے سامنے ہیں، اس وقت امریکا اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس حوالے سے ایک بڑے بحران کا شکار ہیں، تو ہمارا شمار تو ویسے بھی ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔

شہروں کے درمیان آمدورفت معطل ہونے کے سبب گذشتہ دنوں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ بہت سے مسافر مختلف شہروں سے مال گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کو دوسرے شہروں میں سفر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس امر پر بھی فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگر ایسا ہو رہا ہے تو یقیناً ہم کتنا ہی طویل ’لاک ڈاؤن‘ کیوں کہ کرلیں، مگر اس کا فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے، نقصان البتہ ضرور بڑھتا رہے گا۔

لوگوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ حکومتی لاک ڈاؤن کے اعلان سے سارے چھوٹے بڑے کام کاج بند ہیں، جس سے بلا شبہ لوگوں اور ملکی معیشت کو بھی بہت نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، لیکن یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ عوام کی جانب سے اس لاک ڈاؤن کی پاس داری نہ کرنے کی صورت میں یہ وبا دیر سے قابو میں آئے گی یا خدانخواستہ بے قابو ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کسی نہ کسی صورت میں زیادہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

اس لیے اندازہ لگائیے کہ ’لاک ڈاؤن‘ پر عمل نہ ہونا اجتماعی طور پر ہم سب کے لیے کس قدر پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے! یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سب ’لاک ڈاؤن‘ پر بہت سختی سے عمل کریں اور اس دوران گھروں سے بالکل بھی باہر نہ نکلیں، نہ ہی کسی محفل میں شریک ہوں، نہ کسی بھی سطح پر لوگوں سے میل جول رکھیں۔ یہ کچھ دنوں کی بات ہے، آج تو رابطے کے لیے جدید ذرایع بھی موجود ہیں، کچھ دن فقط انہی پر انحصار کرلیں۔ امید ہے چین اور نیوزی لینڈ کی طرح جلد ہی ہمارا ملک اور پوری دنیا اس بڑی مشکل سے نجات پا لے گی، پھر ان شاء اللہ ہم سب اپنی زندگی کی مصروفیات میں دوبارہ مصروف ہو جائیں گے، نہ مصافحے پر پابندی رہے گی اور نہ میل ملاقات پر۔


شیئر کریں: