Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انسانیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Utopia#2 ۔۔۔۔۔۔میرسیمان آمان

شیئر کریں:

                                                                                                                                                کل رات سوتے سوتے یونہی خیال آیا کہ کیا کبھی کوئی حیوان بلی ، شیر چیتا۔ بکری  حتٰی کہ کیا کبھی  کسی رینگنے  والے کیڑے کو بھی یہ خیال آتا ہوگا کہ کیا واقعی وہ وہی ”مخلوق ” ہے  جسکا اُسے نام ملا ہے کیا کوئی جانور کوئی پرندہ کوئی کیڑا اپنے ”جنس ”کے متعلق پریشان ہوتا ہوگا؟؟ یہ خیال اسقدر تلخ ہے کہ اسکے آتے ہی ہمیشہ کیطرح نیند آنکھوں سے روٹھ گئی۔لیکن یہ خیال نہ تو نیا ہے نہ ہی پہلی بار آیا۔۔

سال میں اگر ۳۶۵ دن ہوتے ہیں تو مجھے یہ خیال بھی ۳۶۵ بار ہی آتا ہے بلکہ کبھی اس تعداد سے بھی ذیادہ۔۔ سینکڑوں بار میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتی ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم انسان اپنے ”انسان ”ہونے پر ہی حیران پریشان اور سوالیہ ہیں ۔شائد اسلیے کہ کیونکہ ہم نے ایسے کام کیے ہی نہیں جو انسان اور انسانیت کے ذمرے میں آتے ہوں۔حد تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے اردگرد بھی ایسے کاموں میں ملوث ”انسان ” کم ہی دیکھے،اکثر اوقات تو میں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوئی ہوں کہ پاکستانی ڈکشنری میں انسانیت کا اصل مفہوم کیا ہونا چاہیے؟؟ کیونکہ بد قسمتی سے ہمارے یہاں مذہبی تعصبات کی طرح انسانیت کے معیار بھی پیچیدہ ہیں۔

ہماری خواتین  کی اکثریت کے لیے انسانیت جھوٹے برتنوں سے شروع ہوکر صحن چمکانے تک جاکر ختم ہوجاتی ہے۔مردوں کا حال بھی مختلف نہیں،بچوں اور بوڑھوں کو ہم اس کیٹگری میں شُمار ہی نہیں کرتے جن سے انسانیت کے تقاضوں کے بارے میں سوال کیا جا ئے، اس سے ایک قدم اگے بڑھیں تو ہماری سادہ مائِیں محلے میں ایک پیلٹ چاول بیجھنے ،سال میں ایک دفعہ مساجد  یا ہسپتالوں میں کھانا بھیجنے یا کسی کی مالی مدد کرنے کو بہت بڑی انسانیت سمجھتے ہیں۔۔ جو چیز جو کام آپکے دسترس میں ہو جس مال پہ صدقہ دینا حق ہو وہ انسانیت کیسی؟؟ اس سے بھی ایک درجہ اگے بڑھیں تو ہماری  خواتین  دن رات اولاد کی خدمت گھر کے کام کاج کو انسانیت کی خدمت سمجھتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔۔اور انکی اولادیں ” انسانیت ” پر سوالیہ نشان بنے پھرتے ہیں جنکے ۲۴ گھنٹے اس سوچ میں گزر جاتی ہیں کہ کیسی ماں ہیں یہ جنکو برتنوں کا جھوٹا ہونا تو نظر آجاتا ہے مگراپنی ہی اولاد کے ذہنی کیفیت سے انجان ہیں۔۔ ایسے میں پھر مجھے سوچنا پڑ جاتا ہے کہ جو کام اُجرت پر کروائیں جاسکے وہ انسانیت کے معیار کیسے ہوگئے؟

ہاہ افسوس ۔۔کبھی کبھار تو شدت سے مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ میرے ساتھ ”مسئلہ ہے اور یہی مسئلہ مجھے کسی دن لے ڈوبے گا،،میں دُنیا کو اس نظر سے نہیں دیکھ  سکتی  میں کیا کروں کہ میں لفظ انسانیت کو جھو ٹے برتنوں سے تعبیر نہیں کرسکتی۔ نہ اس پر محدود کرسکتی ہوں۔۔میں کیا کروں کہ مجھے جھوٹے برتنوں سے ذیادہ جھوٹے رویوں کی فکر کھاتی ہے،، کبھی کبھار تو مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ پتہ نہیں  انسانوں سے بھری اس دُنیا میں ہم کبھی  ان جھوٹے  غموں سے نکل بھی سکیں گے یا نہیں،،،، ہم انسانوں کے نہیں مردوں اور عورتوں کے ہجوم میں رہتے ہیں یہ ہجوم محض استاد وکیل انجنئیرذ ڈاکٹرز اور بے روذگاروں کا ہجوم ہے  کس دنیا میں رہ رہے ہیں ہم؟؟

ایسی دنیا جہاں خواتین کا سب سے بڑا غم ذہن کے بجائے بس  صحن کی صفائی ہو جہاں مردوں کا مسئلہ بس ایک روذگار ہو۔۔ایسی دنیا جہاں پچھلے ۷۲ سالوں سے ۲۳ کڑوڑ کی عوام میں کوئی ایک  بھی ” عبد الستار ایدھی  ” کی جگہ نہ لے سکا ہو۔۔۔ “‘ایدھی “” علاقہ بانٹوا کے ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہونے والا شخص جو روزگار کے لیے کراچی آیا۔۔بازار میں دو لوگوں  کو لڑتے ہوئے دیکھتا ہے جہاں ایک ادمی دوسرے کو ذخمی کر کے بھاگ جاتا ہے،،لوگ اسکے گرد ڈھیرا ڈالکر تماشہ دیکھتے ہیں ایدھی کو خیال آتا ہے کہ دُنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں،مارنے والے ،مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور انکی مدد کرنے والے۔۔پس وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہوگا۔۔تاریخ گواہ ہے کہ اس لمحاتی فیصلے نے ایک شضص سے دنیا کی سب سے بڑی  پرائیوٹ ایمبولینس سروس شروع کروادی۔۔

یہی  نہیں بلکہ جب اس نے کراچی  کی سڑکوں میں مسکینوں کو بھوک سے بلکتے دیکھا تو انکے لیے دستراخوانیں بچھادیں۔۔عورتوں کو بے اسرا دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دئیے،پاگلوں کو بچوں سے پتھر کھاتے دیکھا بوڑھے اور مساکین کو بے سہارا دیکھا تو شیلٹر ہومز بنا کر دیئے،کوڑاکرکٹ کے ڈھیر میں نوذائدہ بچوں کی لاشیں دیکھِیں تو چلڈرن ہومز تعمیر کیے  ۱۷ہزار سے ذائد بچے پا لے انکی پرورش کی۔گندے نالوں سے لاشیں نکالتے خود غسل دیتے تدفین کا انتظام کرتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سندھ سمیت پورے ملک کے وڈیروں چودھریوں ملکوں اور شاہو نے پہلی بار  ” انسانیت کے جنون میں مبتلا ایک انسان ” دیکھا۔۔لوگ انکی عظمت کے قائل ہوگئے ۔۔ اور انکی مدد کو اگے بڑھنے لگے ۔۔اور ایدھی سینٹرکو دنیا کا سب سے بڑا پرائیوٹ ادارہ بنا دیا۔۔ ج درجنوں  رفاہی ادراے اس کاروں کا حصہ ہیں۔۔ کیسا شخص تھا وہ ناقابل بیان ہے ۔۔

اُس نے اسی معاشرے میں جنم لیا جہاں ادمی تعلیم یافتہ ہو تو ظاہری وضح قطع سدھارنے سے ہی  فارغ نہیں ہوتا اور بے تعلیم ہو توقتل و غارت ، تیزاب گردی تشدد  ہمارا دستور رہتے ہیں۔۔مجھے نہیں پتہ ظُلم کا مفہوم کیا ہے لیکن الزامات سہنے والے یہ سوال کرتے ہیں کہ  جھوٹے بہتان سے بڑھ کربھی  کیا کوئی  ظُلم ہو سکتا ہے؟؟ ایک انداذے کے مطابق پاکستان کے کہیں جیلوں میں کہیں ایسے قیدی ہیں جنکو پتہ ہی نہیں ہے کہ اُنکا جرم کیا ہے؟جو محض الزامات کی وجہ سے قید کی ذندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔پاکستان کے کہیں پاگل خانوں میں ہزاروں ایسے انسان بستے ہیں جو محض بہتان سہ سہ کر ان پاگل خانوں کی ذینت بننے پر مجبور ہوئے۔۔اور انکی ذندگیاں ہماری ”انسانیت بھرے معاشرے ” پر دھبٔہ ہیں ، پاکستان کی لاکھوں قبرستانوں میں کہیں ایسے افراد کی  قبریں ہیں جو ” انسانی رویوں ” سے تنگ آکر اپنے لیے    موت مانگا کرتے تھے ہم ذیادہ دور کیوں جائیں خود ہمارے اپنے علاقوں میں کہیں قبرستانیں ایسی  ہیں جہاں ایسے لوگ دفن ہیں جو انسانیت بھری رویے برداشت نہ کر پائے اور حرام موت مرنے پر مجبور ہوئے ہونگے اور انکے قبروں پر مرگی ، دیوانگی  یا امتحان میں ناکامیوں کے جھوٹے کتبے سجائے گئے۔۔ اور تو اور پاکستان کے کہیں قبرستانوں میں ذینب اور فرشتہ جیسی مظلوم اور معصوم کلیاں دفن ہیں جنکا جرم  محض انسانی معاشروں میں ” پیدا ” ہونا تھا، اور یقینا یہ قبریں انسانیت کے لفظ پر ماتم کرتی ہونگی۔

کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے  کہ یہ  بے چین روحیں بھٹکتی ہوئی شہروں میں آنکلتی ہونگی انسانیت کے وہی فرسودہ مُظاہرے دیکھ کر تا سف سے سر ہلاتی ہونگی اور واپس جا کر اپنے خالق سے کہتی ہونگی کہ ہم خاک ہوگئے مگر  پھر بھی ہمارے دیس میں انسانیت کے معیار نہ بدلے تو خالق  جوابا  کہتا ہوگا ” جس دیس میں اجتماعی طور پر ”’ ضمیر ” کی موت ہوجا ئے وہاں انسانیت سوالیہ نشان بنا کرتی ہے ””  

              مورخہ = ۷ اکتوبر ۲۰۱۸ 

        ہوش کورے بندگی نہ روئیا شیر۔۔۔ انسان بیکو نو بوس کہ تہ رائے نیکی۔۔۔بیغش


شیئر کریں: