Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا اور طہارت بزمِ درویش۔۔۔۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شیئر کریں:

میری نس نس درد اور غم سے پھٹ رہی تھی جسم کے رونگٹے کھڑے تھے حیران پریشان آنکھوں سے ٹی وی پر فرانسیسی ڈاکٹر کا انٹرویو سن رہا تھا اور یہ ایسے واقعات آجکل دنیا کے ہر ملک میں ہو رہے ہیں ڈاکٹر بتا رہا تھا آج ایک گھڑی ایسی بھی آئی کہ مجھے لگا میں شدت درد دکھ تکلیف سے اندر ہی اندر جل رہا ہوں جھلس رہا ہوں وہ اِس لیے کہ کرونا کے ایک مریض نے اپنے آخری وقت میں ہم سے بار بار درخواست کی کہ اُس کی زندگی بچنے کے امکانات اب بلکل نہیں ہیں میری موت کا وقت قریب آگیا ہے میں آخری بار اپنی اولاد کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں ان سے ملنا چاہتا ہوں پہلے تو ہم نے مریض کی بات ماننے سے انکار کر دیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن مریض بار بار درخواست کر رہا تھا رورہا تھا التجائیں کر رہا تھا جب مریض نے بہت زیادہ اصرار کیا تو ہمیں اُس پر بہت ترس آگیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اس کی بات مان لی جائے اور اِس کے گھر والوں اِس کی اولاد سے اِس کی ملاقات کر ادی جائے لہٰذا ہم نے اِس کے لیے اُس جگہ کی اچھی طرح جراثیم کش سپرے سے صفائی کرانی شروع کر دی وہ اِس لیے کہ گھر والوں اور مریض کی اولاد کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو آکر مرتے ہو ئے مریض کی آخری خواہش پو ری کردیں آخری ملاقات کر لیں پھر جب ہمیں بطور ڈاکٹر اچھی طرح یقین ہو گیاکہ اب صفائی اچھی طرح ہو گئی ہے اب لواحقین کے لیے تو کسی قسم کا بھی خطرہ نہیں ہے تو ہم نے موت کی چوکھٹ پر پڑے مریض جو مرض الموت میں اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا اس کے گھر والوں اولاد کو فون کیا اور مریض کی آخری خواہش کا بتا یا تو تکلیف دہ حیران کن ردِ عمل یہ سامنے آیا کہ مریض کے لواحقین اور اولاد نے ملنے سے انکار کر دیا ہم نے ان کو بہت سمجھایا کہ ہم نے جراثیم کش وائرس کش سپرے اور اچھی طرح صفائی کر دی ہے اب آپ کے لیے بلکل بھی خطرہ نہیں ہے آپ بغیر خطرے کے آکر اپنے والد سے مل سکتے ہیں لیکن انہوں نے ملنے سے صاف انکار کر دیا جب ہم نے بار بار آنے کو کہا تو انہوں نے ہمارا فون کاٹ دیا اور ملنے سے صاف انکار کر دیا یہاں پر خدائے ذوالجلال کی قیامت کے بارے میں بات یاد آجاتی ہے کہ وہ دن جب زمین مردوں کو باہر نکال دے گی جس دن انسان ایک دوسرے کو پہنچاننے سے انکار کر دیں گے بھائی بھائی سے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سے بھاگے گا اُس دن کو ئی بھی ایک دوسرے کو نہیں پہچانے گا۔ موجودہ دور کا انسان جو اپنی دولت ترقی اور سائنس کے عروج کے زعم میں تھا اللہ تعالی نے پکڑ کر صرف تھوڑا سا ہلایا ہے کہ یہ تیری اوقات ہے دنیا حیران پریشان نظروں سے دیکھ رہی کہ برطانوی وزیر اعظم شہزادہ چارلس کس طرح بے بس کمروں میں دبکے بیٹھے ہیں امریکہ بہادر جس کو اقوام عالم کی لیڈر ی اور باپ بننے کا شوق تھا وہ کس طرح چین سے مدد کی بھیک مانگ رہا ہے اگر خدا کی ناراضگی کا سبب تلاش کریں تو صاف نظر آتا ہے ترقی یافتہ قومو ں کا طاقت کے نشے میں محکوم اقوام پر ظلم کر نا اپنی حکمرانی منوانا اور دوسری اہم بات پاکیزگی طہارت اور صفائی جو نصف ایمان ہے اِس کو ماننے سے انکار کر دینا مغربی اقوام نے تو مذہب مذہبی تعلیمات خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات کو بند کر کے بلکہ لپیٹ کر رکھ دیا تھا چین بہادر تو اِس میں اور بھی آگے نکل گئے کہ سر ے سے خدا پاکیزگی طہارت حلال حرام کو مانا ہی نہیں مغربی اقوام نام کی حد تک عیسائیت کو مانتے تھے لیکن طہارت صفائی وہ بھی بھول گئے تھے مہینوں نہ نہانا جسمانی تعلقات کے بعد بھی نہیں نہانا چرچوں میں صرف شادی یا موت پر جانا پھر بلکہ احساس تفاکر سے کہنا کہ ہم مذہب خدا رسول سے جان چھڑا لی ہے اور دنیا میں کیمونیزم کے انقلاب کے بعد لادین حلقہ اور بھی وسیع ہو تا چلا گیا جو سرے سے خدا کے ہی انکاری ہو گئے کہ ہم خدا کو نہیں مانتے انسان خود پیدا ہوا ہے گردش افلاک چاند سورج سیارے خود ہی اپنے مداروں میں گھوم رہے ہیں یہ کائنات زمین آسمان کی تخلیق اور خود حضرت انسان ایک حادثے کی پیداوار ہیں اور انسا ن جانور سے ترقی کر تا ہوا موجود شکل میں آیا ہٹ دھرمی کا لیول کہ خدا کے وجود سے ہی انکاری ہو گئے اور چین والوں نے تو حد ہی کر دی‘ طہارت وضو صفائی حلال حرام کو سرے سے مانا ہی نہیں سانپ کتے چمگاڈر مینڈک بچھو ہر چیز کھانی شروع کر دی جس چیز میں خون ہے اُس کو کھا لو‘ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اُس میں حلال حرام کا اگر کہا گیا ہے تو اس کے منطق لوگوں کو اب سمجھ آئے گی اسلام میں دن میں پانچ بار وضو وہ بھی تین بار دھونے کو مذاق بنایا گیا انسان کی شر پسندی اور غرور جب حدسے بڑھ گیا اور انسان یہ سمجھنے لگا کہ میں نے اتنی زیادہ ترقی کر لی ہے میں نے بیماریوں کے علاج اور زمینی آسمانی آفتوں سے بچاؤ کے طریقے بھی تلاش کر لیے ہیں اب مجھے کسی خدا مسجد عبادت کی ضرورت نہیں ہے میں سب کچھ خود کر تا ہوں میں خود مختار ہوں تو کائنات کے حقیقی مالک نے کرونا کی شکل میں انسان کو اُس کی حقیقت یاد دلا دی ہے اوقات یاد دلا دی انسان اپنی مصنوعی کامیابیوں پر فرعون بنتا جا رہاتھا کہ مجھے اب کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے پھر سب نے دیکھا کہ چین کا صدر جو لا دین ہے کسی بھی خدا کو نہیں مانتا کس طرح مسلمانوں کی مسجد میں جاکر دعا کی درخواست کر تا ہے پھر مٹی کا پتلا یہ بھول جاتا ہے خدا ئے لازوال نے جو بھی طریقے یا اسلام میں طرزِ حیات دی ہے اُس میں انسانوں کی ہی بھلائی ہے آج کا انسا ن اگر اسلام کے طرزِ حیات صرف پاکیزگی طہارت اور حلال حرام کو ہی اپنا لے تو اُس کی زندگی زیادہ خوبصورت اور صحت مند ہو سکتی ہے موجود ہ انسان موجودہ مادیت پرستی اور ترقی کے بعد جس زعم میں مبتلا ہو گیا تھا اللہ تعالی نے ایک جھٹکے سے نکال دیا ہے غیر مسلم اقوام پاکی طہارت صفائی سے بلکل دور ہو چکی تھیں اب انہیں اسلام کے نظام طہارت پاکیزگی کو اپنا نا ہو دنیا سے ظلم جبر کو ختم کر نا ہو گا جس طرح کشمیریوں فلسطینیوں کو کئی سالوں سے ظلم کی چکی میں پیس رہے ہیں اس ظلم سے ظالموں کو روکنا ہو گا انشاء اللہ جلدہی خدائے لازوال کو انسانوں پر رحم آئے گا اِس موذی وبا کی دوائی بھی ایجاد ہو جائے گی لیکن سب سے بڑا کام جو ہو گا وہ چین میں رہنے والے انسانوں کو حرام حلال غذاؤں‘ جانوروں کا استعمال اور وضو اور طہارت کا فلسفہ صدیوں سے کرہ ارض پر خدا سے دوری کا تاثرگہرے سے گہرا ہو تا جا رہاتھا اب پھر اقوام عالم کو خدا کی تعلیمات اور خدا پرستی کی طرف آنا ہو گا جب تک ہم خالق کائنات کی طرف رجوع نہیں کریں گے ہم حقیقی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے کرونا کے وائرس نے تمام سپر پاورز اور موجود ہ ترقی کا جو غرور تھا اِس غبار ے سے ہوا نکال دی ہے پوری دنیا پر مادیت سائنس دولت کا طلسم سر چڑھ کر بو ل رہا تھا موجودہ مصنوعی ترقی نے انسان کو خدا سے دور کر دیا تھا لیکن کرونا کے وار کے بعد انسان کو اپنی محدودیت اور لاچارگی کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اُس کی اوقات تو کچھ بھی نہیں ہے اور جو لوگ اسلام کے طرز حیات حلال حرام اور طہارت وضو کا مذاق اڑایا کر تے تھے وہ دیکھیں گے کہ کس طرح اِس کرونا کی وبا کی کوکھ سے اسلام کا طہارت پاکیزگی اور صفائی کا پیغام کس شدت سے نکلتا ہے اور انسان کی بقا بھی اِسی میں ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع کرلیں اُس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں شامل کر لیں ورنہ کو ئی اور وبا بھی پھوٹ سکتی ہے کہ مصنوعی ترقی کے غرور میں حضرت انسان کا اِس دھرتی سے صفایا ہی نہ ہو جائے اُس سے پہلے خدا سے معافی مانگ لیں۔


شیئر کریں: