Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوئراوراپرچترال کےمختلف ہسپتالوں کیلئے 83ڈاکٹرزتعینات کردئے گئے

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے حال میں ہی میں کنٹریکٹ پر بھرتی شدہ 1300میں سے 83ڈاکٹر (بی پی ایس 17) چترال میں تعینات کردی جن میں سے 9ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں، 19اپر چترال ضلعے میں اور 55لویر چترال کے مختلف ہسپتالوں میں بھیج دئیے گئے جن میں 11سول ڈسپنسریاں بھی شامل ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال دروش میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی نہیں ہوئی جس کے لئے اہالیان دروش گزشتہ چھ مہینوں سے جدوجہد کرتے آرہے تھے اور اسی طرح اپر چترال کے ہیڈ کوارٹرز میں واقع تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں بھی کسی لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی نہیں ہوئی ہے۔ محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق اکثر بیسک ہیلتھ یونٹ (BHUs)میں ڈاکٹروں کی تعیناتی کی بجائے ان کے قرب وجوار میں واقع سول ڈسپنسریوں میں ڈاکٹر تعینات کئے گئے ہیں جس کا ایک مثال ریشن بی ایچ یو ہے جہاں کئی سالوں سے ڈاکٹر کی اسامی خالی ہے لیکن اس سے دو کلومیٹر دور زئیت گاؤں میں ایک کمرے میں قائم سول ڈسپنسری میں ڈاکٹر کی تعیناتی ہوئی ہے اور یہی حال مروئے میں قائم بی ایچ یو کا ہے جہاں ڈاکٹر نہیں ہے لیکن موری لشٹ کے سول ڈسپنسری میں ڈاکٹر کی تعیناتی ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چترال میں تعینات کردہ 83ڈاکٹروں میں سے 10کا تعلق چترال سے ہے جبکہ باقی غیر مقامی ہیں۔
دریں اثنا چترال کے مختلف مکاتب فکر نے ڈاکٹروں کی تعیناتی کوخوش آئندقراردیتے ہوئے اس امید کا اظہارکیاہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح چارچ لینے کے بعد مذکورہ ڈاکٹرز غائب نہیں ہونگے۔ جبکہ پچھلے ادوار میں یہی ڈاکٹرز یہاں چارچ لینے کے بعد پھرکبھی نظرنہیں آئے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ حکومت میں 92ڈاکٹرز یہاں کے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کئے گئے تھے جوچارچ لینے کے کچھ عرصے بعد دوبارہ ڈاون ڈسٹرکٹس میں اپنی ٹرانسفرکرانے میں کامیاب ہوگئے۔اورچترال کے عوام چلاتے رہے مگرشنوائی نہیں ہوئی ۔


شیئر کریں: