Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دوکانوں، بینکوں ودیگر مقامات میں حفاظتی تدابیر پرعملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:


پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ محکموں کے اعلی حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبہ بھر میں کورونا متاثرین کے لئے قائم کئے گئے قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز  کے بہتر انتظام و انصرام ، ان مراکز میں تعینات عملے کے تحفظ اور ان مراکز کو چلانے کے لئے وضع کردہ قوائد و ضوابط پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے ہر ضلع کی سطح پر محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو فوکل پرسن مقرر کیا جائے ۔

وزیر اعلی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو بھی   بھی ہدایت کی ہے کہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی دوکانوں، بینکوں اور ضروری خدمات کی فراہمی کے دیگر مقامات میں حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے تاکہ کورونا وبا کے ممکنہ پھیلا کو روکا جا سکے۔ وہ گذشتہ کورونا وبا کے پھیلا کے تدارک کے لئے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی مجموعی  صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ ہائے  داخلہ،  صحت اور ریلیف کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا کی لمحہ لمحہ بدلتی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے صوبائی سطح پر مرکزی کووڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی علاوہ ہر ضلع اور ہر تحصیل کی سطح پر کووڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز قائم کئے گئے اور ان کمانڈ اینڈ کنڑول سنٹرز میں محکمہ صحت، ریلیف، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ اجلاس کو مزید بتا گیا کہ اس وقت صوبے میں مجموعی طور پر 215 قرنطینہ مراکز، 554 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور 2400 بستروں کے آئیسولیشن یونٹس قائم کئے گئے اور ضرورت کے مطابق ان میں اضافہ کرنے کے لیے انتظامات تیار ہیں ۔ ان مراکز میں تعینات ہیلتھ ورکز  اور دیگر ضروری عملے کو بنیادی نوعیت کی حفاظتی اشیا فراہم کری گئی ہیں اور ان حفاظتی اشیا کی فراہمی کو مزیر بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔

وزیر اعلی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کورونا کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹس کے لئے ڈویژنل سطح پر  ٹیسٹنگ لیبارٹریز  کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے اور مقصد کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر اعلی نے کہا کورونا وبا کی وجہ سے اس وقت غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے اور یہ صورتحال ہم سے غیر معمولی اور فور ی نوعیت کے اقدامات کا تقاضا کرتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان ان فوری نوعیت کے اقدامات میں ہم سے غلطی اور کوتاہی بھی سرزد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی سطح پر اور خصوصا میڈیا کی طرف کسی ایسی غلطی یا کوتاہی کی نشاندہی ہونے پر اسے کھلے دل سے تسلیم کر کے اس غلطی اور کوتاہی کو ٹھیک کرنے کے لئے بروقت اقدامات اٹھائے جائیں ۔


شیئر کریں: