Chitral Times

May 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رومیو جولیٹ کا اٹلی۔۔۔۔۔(روم جل رہا ہے…..میرسیماآمان

شیئر کریں:

مجھے اچھی طرح یاد ہے اُسوقت میں آٹھویں جماعت میں تھی جب پہلی بار مجھے ” سفر نامہ” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔۔ وہ غالبا علی سفیان آفاقی کا تحریر کردہ ” اٹلی کا سفر نامہ ” تھا۔اسکے بعد میں نے متعدد دوسرے ممالک کے سفر نامے پڑھے لیکن دل میں جو مقام ”اٹلی ” نے بنایا وہ دوسرا کوئی ملک نہیں بنا سکا۔۔یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ اٹلی کا سفر نامہ میں نے پڑھا بھی ٹیکسلا میں تھا،،ٹیکسلا جو خود قدیم تہذیبوں کا ایک تاریخی ورثہ ہے۔۔پاکستان میں ٹیکسلا کی مثال ویسے ہی ہے جیسے یورپ میں اٹلی کی ہے،لیکن یہ الگ بات کہ ہماری بد قسمت قوم نے نئی تہذیب کے نشے میں پُرانی تہذیب کو وہ اہمیت نہ دی جو یورپ نے اٹلی کو دے کر اُسے عظیم تجارتی مرکز بنا یا۔ اٹلی یورپ کا ایک جذیرہ نما ملک ہے جو مسیحت کا گڑھ اور ہزاروں تہذیبوں کا مسکن ہونے کی وجہہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ جہاں اقوام ِ عالم کے لیے دلچسپی کا باعث اسکی قدیم عمارات اور چرچ ہیں وہیں اٹلی کی شہرت کی ایک وجہہ اٹلی کے ایک چھوٹے سے علاقے ویرونا میں جنم لینے والے ” رومیو جولیٹ ” کے کردار بھی ہیں۔۔

itly and coronavirus 1

محبت کرنیوالے ایک عام سے جوڑے کی کہانی جب وقت کے شہرہ آفاق لکھاری ولیم شیکسپئر کے ہاتھ لگا تو لفظوں کے اُس جادو گر نے اس کہانی کو ڈرامے میں ڈھالا اور پہلی بار یہ ڈرامہ ۱۵۹۶ کو ملکہ الزبتھ کے حضور پیش کردیا گیا۔۔ڈرامہ ملکہ کو پسند آنے کے ساتھ ساتھ عوام میں مقبول ہوگیا۔۔ اور یوں محبت کی ایک چھوٹی سی کہانی عالمی سطح پر محبت کی عظیم داستان بن گئی۔یوں لفظوں کے جادو گر شیکسپئر نے نہ صرف پوری دنیا کو رومیو جولیٹ کا اسیر بنایا بلکہ اٹلی کے سحر میں بھی قید کردیا یہی وجہ ہے کہ ۱۸۰۰ سال گزرنے کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں سیاحوں میں سے ایک بڑی تعداد اٹلی کا رُخ محض جولیٹ کے مقبرے پر حاضری دینے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اٹلی کا اس چھوٹے علاقہ ویرونا میں پچھلے ۱۸۰۰ سالوں سے ٹرانسپوٹرز دکانوں، کافی کارنرذ، ہوٹلز کی روذگار ” جولیٹ” کے اسیروں کے دم سے ہے۔۔ہم جیسے معشیت کی پسی ہوئی پاکستانی قوم جب ویرونا میں جاتے ہیں تو واپسی میں رومیو جولیٹ کے سحر سے آزاد ہوکر اٹلی کی ” ”سینس آف مارکیٹنگ ” کی اسیر بن کر لوٹتے ہیں۔۔ اٹلی کی بہترین معشیت کا انداذہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اٹلی کے کہیں کمپینیز کے برانڈذ کہیں مُمالک میں اسٹیٹس سمبل کے طور پر جانے جاتے ہیں،،جن میں سے کہیں ایک کے برانڈز کو تو ہم بھی بڑی شان سمجھتے ہوئے استعمال کرتے آئے ہیں،،مثال کے طور پر (گو جی،، چینل اور کیلون کیلن وغیرہ اسکے علاوہ فراری، لانسی اور فیحٹ جیسی کاریں بھی اٹلی کی پہچان ہیں۔۔

itly and coronavirus3

۔۔اٹلی کا دارلحکومت روم ہے جسکے اندر ۲۵ لاکھ کی ابادی بستی ہے تو دوسری طرف میلان اٹلی کا وہ شہر ہے جو فیشن کے لیے پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے۔ یورپ میں علم کا درواذہ کہلانے والا ”فلورنس ” بھی اٹلی کا حصہ ہے۔جو اپنی ثقافت نشاۃ ثانیہ آرٹ فن ِ تعمیر اور سینکڑوں عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی وجہہ سے مشہور ہے۔۔تو ایک طرف مشہور سیاح مارکو پولو کی جائے پیدائش اور عالمی توجہ کا مرکز پانیوں کا شہر ” وینس ” بھی اٹلی ہی میں موجود ہے۔۔ اٹلی کا ایک شہر جو روم کے وسط میں ہے “” ویٹی کن سٹی ” خود ایک ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔۔ اس شہر کی عیسائوں کے لیے وہی اہمیت ہے جو مسلمانوں کے لیے مکہ مُکرمہ کی ہے۔۔ مجموعی طور پر اٹلی کی کُل ابادی ۶ کڑوڑ کے لگ بھگ ہے جن میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا ۱۷ لاکھ ہے، اٹلی میں موجود مسجد ِ روم یورپ کی چند بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔۔ایک انداذے کے مطابق سالانہ ۵ کڑوڑ سیاح اٹلی آتے ہیں۔اٹلی کا ۶۰ فیصد ریونیو سیاحت سے آتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اٹلی سیاحوں کا شہر ہے۔ بقول شیکسپئر ” جُدائی میں ایسا میٹھا کرب ہوتا ہے کہ جی چاہتا ہے شب بخیر کہے جاؤں یہاں تک کہ دن نکل آئے ”اٹلی کے بارے میں سوچتے ہوئے اور لکھتے ہوئے میرا بھی یہی حال ہے۔سوچتی ہوں کہ ہم نے اٹلی کو صرف کتابوں میں پڑھا اور تصویروں میں دیکھا اور ہمارا یہ حال ہے تو وہ لوگ جنکی ہر صبح اٹلی کے دلفریب جذیروں میں ہوتی ہے جنکی شامیں سنگ ِ مر مر کے اونچے پہاڑوں کے سائے میں بیتتی ہوں۔۔آج ماتم کرتا ہوا اٹلی اُن پر کیسا گزرتا ہوگا؟؟ سچ تو یہ ہے کہ اٹلی کا قصہ ایک سفحے پر ختم نہیں ہو سکتا۔۔ اٹلی کے بارے میں اب تک جتنا پڑھا سُنا اور دیکھا سب دلفریب تھا مگر افسوس کہ وقت نے کایا پلٹا ہے تو نئے مناظر نہایت دلگرفتہ ہیں۔۔مولانا روم کا فرمان ہے کہ حد سے بڑھی ہو ئی ہر چیز ذہر ہے۔۔آج اٹلی کے عوام کی حد سے تجاویز کرنے والی غیر سنجیدہ رویہ ایسا ذہر بن چکا ہے جسے نہ اگلا جا سکتا ہے نہ نگلا۔۔”‘روم جل رہا ہے “‘ کا تا ریخی نعرہ آج حقیقی معنوں میں سامنے آیا ہے۔۔

itly and coronavirus2

ووہان میں جنم لینے والا ایک موا وائرس اٹلی میں خون کی شام بن کر اُتری ہے۔ وہ شا ہراہیں جو ہر وقت سیاحوں سے بھری رہتی تھیں اب وہاں لا شوں کا ڈھیر ہیں۔ روشنیوں کا شہر تاریکی میں تبدیل ہو رہا ہے۔۔ بند کھڑکیوں سے اٹلی کی سنسان سڑکیں کیسے لگتی ہونگی یہ خیال ہی دل دکھانے والا ہے۔۔ ہم نیآج تک اٹلی کے بارے میں جو پڑھا دیکھا اور سُنا اب موجودہ حالات میں جو سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے یہ نہایت دلگرفتہ ہے۔۔ اس ذرہ برابر وائرس نے اٹلی کو اٹلی کے عاشقوں کے لیے ایک ” سرد آہ ” بنا کر رکھ دیا ہے۔ اٹالین فوڈ کارنرذ سے لیکر پانیوں اور روشنیوں کا شہر وینس ۶۰۰ سالا قدیم چرچ تو کہیں ”کہیں دہائیوں میں تعمیر ہونے والا دلکش مسج تو کہیں جولیٹ کے مقبرے پر نصب محبت کی لاکھوں نشانیاں آج اٹلی کی حالت ذار پر نوحہ کناں ہیں،،اٹلی سے محبت رکھنے والا کوئی بھی شخص اس تاریخی ورثے کو یوں ویران ہوتا نہیں دیکھ سکتا سیاحوں کے شہر کو شہر ِ خاموشاں میں تبدیل ہوتا ہوا نہیں دیکھا جا سکتا۔۔ فیفا ورلڈ کپ کا چیمپین رہنے والا اٹلی،معشیت کے اعتبار سے ایک بہترین ملک، مسیحت کا گڑھ ، ہزاروں تہذیبوں کا مسکن اور ” رومیو اور جولیٹ کا ” مادر وطن اٹلی ایک ذرہ برابر وائرس کا شکار ہو جائے یہ المیہ سے کم نہیں۔۔ابھی تو اٹلی کی فضاوں میں رومیو کی سسکیاں سُنائی دیتی تھیں، ابھی تو اٹلی کی فضاؤں میں جولیٹ کے انسوؤں کی نمی باقی تھی،ابھی تو محبت کے اُس عظیم مقبرے سے سراب ہونے والے ہزاروں محنت کشوں کی معصوم خواہشات کی تکمیل باقی تھی۔۔۔ ابھی تو دُنیا بھر کے نجانے کتنے رومیو جولیٹ کا اٹلی کی سرزمین پر آنا باقی تھا۔۔آہ اٹلی۔۔۔۔۔ تم کس نئے المیے کو جنم دینے جا رہے ہو۔۔۔۔!!

itly and coronavirus5
pic courtesy : Al jazeera

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
33896