Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ابتلاء و آزمائش سے نکلنے کے راستے۔۔تحریر: کلثوم رضآ

شیئر کریں:

وبائیں اور آزمائشیں بھیس بدل بدل کر  دنیا میں تلہکہ مچاتی اور بربادیاں رچاتی رہی ہیں۔ اور  یہ آزمائشیں اللہ کے برگزیدہ بندوں پر بھی آتی رہی ہیں۔۔۔ ایسے میں اس قسم کی آزمائشوں کو صرف عذاب الٰہی سمجھنا قطعاً مناسب نہیں ہے.ابتلاء و آزمائش میں ثابت قدم رہنے اور اس سے کامیابی کے ساتھ عہدہ بر آ ہونے کے متعدد طریقے اور راستے ہیں۔مگر جو طریقے اللہ تبارک وتعالی اور اس کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وقتوں کے لیے بیان کیے ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے ہم ہر قسم کی آزمائش سے کامیابی کے ساتھ نکل سکتے ہیں۔ان میں سے بعض کا ہم ذکر کریں گے جن پر عمل کرنا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ عقیدہ تو حید:  ابتلاء و آزمائش سے کامیابی سے گزرنے کے لیے بنیادی بات عقیدہ توحید پر پختہ ایمان ہے۔جتنا یہ عقیدہ مضبوط ہو گآ اتنا ہی آسانی سے مومن ابتلاء و آزمائش سے گزر جائے گا۔سینکڑوں انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کی زندگی میں بڑی بڑی آزمائشیں آئیں لیکن عقیدے کی پختگی کی وجہ سے کامیاب ہو کر ان آزمائشوں سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔آخرت پر یقین: اسلام میں آخرت کا عقیدہ اساسی اور بنیادی ہے۔اخرت کے پختہ عقیدے کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور نشوونما میں اسکا بہت بڑا حصہ ہے۔جب آخرت اور موت  پر یقین پختہ ہو گا تو آزمائشیں آسان لگتی ہیں۔ تعلق بااللہ: ابتلاء و آزمائش سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا توحید کے بعد سب سے مضبوط اور یقینی طریقہ اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا اور اسے پختہ کرنا ہے۔تعلق بااللہ کی صورتیں: اللہ کا ذکر: اللہ کا ذکر تعلق باللہ کی بنیاد ہے۔اللہ تعالیٰ کی یاد زبان و دل اور احساس وشعور سے کرنا،اٹھتے بیٹھتے،لیٹتے اور چلتے پھرتے ہر حال میں اللہ کا ذکر جاری رہے۔نماز: نماز کے کئی اہم پہلو ہیں بلکہ خود نماز کو ذکراللہ کہا گیا ہے۔۔سورہ الجمعہ کی آیت کا ترجمہ؛ اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔۔۔جب ہم سلف و صالحین کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں  کہ جب بھی وہ آزمائش میں مبتلا ہوئے تو نماز کی طرف سبقت کی۔قران مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔کہترجمہ؛ صبر اور نماز سے مدد لو اور تقویت حاصل کرو؛؛ سورہ البقرہ۔نماز کے کئی اور پہلو ہیں؛ جیسے دلی اطمینان حاصل ہونا،اجر وثواب کا ملنا،برائیوں سے بچنا شیطان اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنا،دنیا اور آخرت کے خسارے سے بچنا،ابتلا سے بخیر و خوبی گزر جانا۔بندہ جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اسکا براہ راست تعلق اللہ سے جڑ جاتا ہے اور درمیان سے سب راستے ہٹ جاتے ہیں۔تہجد؛ تہجد اللہ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی یاد کا بہترین ذریعہ ہے۔قران نے تہجد کو قیام اللیل کہا ہے جس سے مراد سجدوں اور رکوعوں میں رات گزارنا،گڑگڑاکردعائیں مانگنا۔لہذا آزمائش میں مبتلا شخص کے لیے اسکی ادائیگی ضروری ہے۔تلاوتِ قرآن مجید۔؛ تعلق بااللہ کا ایک مضبوط ذریعہ کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔خوش الحانی،یکسوئی اور تفکر و تدبر کے ساتھ تلاوت سے انسان اپنے آپ کو راحت محسوس کرتا ہے۔لہذا آزمائش کی گھڑی میں تلاوت کا اہتمام ذیادہ سے ذیادہ کرتے ہوئے یہ دعا کرنی چاہیئے۔کہ یا آللہ! قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار،ہمارے سینوں کا نور،ہمارے خوف کےدفع کرنے اور ہمارے غم کا مداوا بنا دے۔انبیاء کی سیرت کا مطالعہ: انبیاء کرام کی سیرت میں صبرو ثبات اور ثابت قدمی کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔عقیدت اور یقین سے ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے انسان کو بڑی تقویت حاصل ہوتی ہے۔سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے راہنمائی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت،سنت اور احادیث کا مطالعہ کرنے سے قدم قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کے نمونے سامنے آئیں گے۔دور طفولیت سے لیکر دنیا سے تشریف لے جانے تک آپ کو مختلف آزمائشوں سے واسطہ پڑا۔لہذا آپ کے امتیوں اور پیروکاروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے تقویت حاصل کرنی چاہیے۔اجتماعیت سے جڑنا اور صالحین سے تعلق: اجتماعیت سے جڑنے سے آدمی سنبھل جاتا ہے اسے سہارا ملتا ہے اور یہ ہمت افزائی کا سبب بن کر اسے ابتلاء سے نکال لیتی ہے۔ابتلاء کے دنوں میں صالحین سے تعلق استوار اور مضبوط کرنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ انکے مفید مشوروں سے ابتلاء سے نکلنے میں آسانی ہوتی ہے۔دعوت کا کام:۔ ابتلاء و آزمائش میں مومن کو چاہیے کہ دعوتی تحریکوں اور تنظیموں سے ملکر دعوتی اور اصلاحی کام کرے۔دعوتی کام کرنے سے دینی احکام کی عملی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور انسان عملی طور پر دینی احکام کا عادی بن جاتا ہے۔دعوتی کام میں کسی جماعت کے ساتھ ہونے سے آدمی ہم خیال لوگوں سے جڑ جاتا ہے تو پریشانی کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں  اورمعاشرتی ،معاشی اور اخلاقی لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے معاون ہوتے ہیں۔صبر : صبر ، ابتلا سے نکلنے کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔صبر کرنے سے بیقراری ختم ہو جاتی ںے۔ مشکلیں آسان  لگتی ہیں ،برداشت کی قوت پیدا ہوتی ہے اور ضبط نفس سے بندہ متصف ہو جا تا ہے۔دعا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دعا مومن کا ہتھیار ہے،دین کا ستون اور آسمان کا نور ہے۔مشکواہ۔لہٰذا مومن کو ابتلاء میں خاص طور پر اور عام حالات  میں بھی دعا کی کثرت رکھنی چاہیئے۔یہ وہ عمل ہے جو بندہ ہر وقت،ہر جگہ اور ہر حالت میں کر سکتا ہے۔آج شام،کشمیر،چائنہ،فلسطین،ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں مسلمانوں پر جبرو تشدد کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف عالمی دنیا میں کورونا وائرس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔بہرحال ابتلاء و آزمائش مومن کے لیے ایک لازمی منزل ہے۔لہذا اسے پہچاننا،اس کا احساس و شعور رکھنا ،اس میں ثابت قدم رہنا،اس سے صحیح طور پر نکلنے کے لیے جدو جہد کرنا اور ہر روحانی اور مادی وسائل ڈھونڈنا مومن کا وتیرہ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائے۔ آمین


شیئر کریں: