Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

احتیاط اور تدابیر……….ڈاکٹرحمزہ گلگتی (پی ایچ ڈی)

Posted on
شیئر کریں:

وقت کی ڈوری کا سرا ہاتھوں سے سرکتا محسوس ہوتا ہے۔۔۔لمحے سرپٹ گھوڑے کی طرح دوڑ رہے ہیں۔۔۔لمحہ لمحہ دنیا سے سینکڑوں اموات کی خبریں نفسیاتی طور پر مفلوج کردیاہے۔۔۔دنیا پر ٹوٹی ناگہانی آفت نے سب کو ہلا کے رکھاہے۔۔۔بڑے بڑے لوگ پریشان سرگرداں ہیں۔۔۔کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ ان حالات سے کیسے نمٹا جائے۔۔۔موذی اور متعدی مرض کی بڑھوتری اور مرنے والوں کی شرح برق رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔۔۔میرے سامنے اس وقت اس مرض کے ہر پہلو سے لمحہ لمحہ اپ ڈیٹ کرنے والی ادارے کی ڈیٹیلز پڑی ہیں۔۔اب تک کی اطلاعات کیمطابق دنیا میں اس وقت کل چار لاکھ اٹھتیس ہزار سات سو سترہ رجسٹرڈ مریض ہیں، ہر گزرتے لمحے کیساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔۔۔انیس ہزار چھ سو اٹھاون اموات ہوچکیں ہیں۔۔۔ایک لاکھ گیارہ ہزار نو سوتئیس لوگ اس موذی مرض کو شکست دے کر گھروں کو لوٹ بھی چکے ہیں۔۔۔۔دنیا میں مرنے کی سب سے بلند شرح اٹلی اور اسپین میں ہے۔۔۔ہر چوبیس گھنٹے میں اٹلی کے اندر چھ سے اٹھ سو افراد اس مرض کے ہاتھوں منوں مٹی تلے چلے جارہے ہیں۔۔۔اب تو اطلاعات ہیں کہ دفنانے کیلئے جگہیں اور لوگ بھی نہیں بچے۔۔۔اسپین میں اسی طرح چار سے پانچ سو اموات کی روزانہ شرح ہے۔۔۔ ایران میں روزانہ ڈیڑھ سو افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔۔۔اسی طرح پوری دنیا لپیٹ میں ہے۔۔۔چائنہ کے بعد ایران پھر یورپ اور اب اس غیر مرئی وائرس نے پوری دنیا میں اپنی پنجیں گھاڑ دی ہے۔۔۔یورپ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس کے اثرات کو روکنے یا کم کرنے میں ناکام ہیں۔۔۔مجھے جھرجھری سی ہونے لگتی ہے جب میں اپنے ملک پاکستان اور اسی طرح کے دوسرے غریب ممالک کے بارے سوچتا ہوں۔۔۔اگر ہمارے ملک میں ہماری بے احتیاطی سے یہ اسی طرح پھیل گیا جیسے یورپ میں،تب تو اللہ معاف کرے کیا ہوگا۔۔۔نہیں سکت تصور کرنے کی بھی،بس وہی ایک ذات ہے جو سب کچھ بدل سکتا ہے۔۔۔ان وجوہات کی وجہ سے حکومتی ادارے، سماجی افرادعلمائے کرام اور صحافی سب لگے ہیں کہ کیسے اس سے بچا جاسکتا ہے۔۔۔مگر المیہ یہی نہیں کہ مرض پھیل رہا ہے۔۔۔المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔کہنے سننے کے باوجود لوگ احتیاط کرنے سے پرے بھاگ رہے ہیں۔۔۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں۔۔۔سب باتوں کی ایک ہی بات ہے کہ احتیاط کیا جائے۔۔۔
.
لاک ڈاؤن سے پہلے احباب کو شکایت تھی کہ اگر ایسا ہوا تو لوگوں کیلئے مشکلات ہونگیں وغیرہ۔۔۔ میرا خیال تھا کہ مرنے سے بہتر ہے کہ کچھ دن بھوکا زندہ رہا جائے۔۔۔اور یہ یقین ہے کہ کوئی بھوکا نہیں مرے گا۔۔۔ان حالات میں اگرچہ ہر ایک کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں۔۔۔مگر ایمرجنسی لگانے کے بعد سب کو کچھ چیزیں یاد رکھنی چاہئے۔۔۔حکومت نے غریبوں کیلئے پیکج کا اعلان کیا ہے۔۔۔بہے ہی مستحسن بات ہے۔۔۔جب ہم زندہ رہیں گے تو اپنے ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں گے۔۔۔اس لئے یاد رکھے کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے محلے میں کون غریب ہیں۔۔بڑے شہروں میں بھی کافی حد تک اس چیز کے بارے پتہ ہوتا ہے کہ کون لوگ زیادہ غریب ہیں اور کون روزانہ کی دھاڑی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔۔۔اس لیے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے کیلئے اداروں کی مدد بھی کرے اور جو لوگ بیس پچیس دن نکال سکتے ہیں ان کے پاس اتنا خرچہ ہے خدارا وہ غریبوں کے ان راشنوں پر آنکھیں نہ ٹکا دے۔۔۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بڑے بڑوں کے ہاتھ صاف کرنے کی خبروں سے ابھی دھول نہیں چھٹی ہے۔۔۔مجھے اندیشہ ہے کہ اس پر بھی بعض لوگ ٹوٹ پڑیں گے۔۔۔احتیاطی تدابیر کے اختیارکے بعد اب یہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔۔۔کسی کے بچے دو وقت کی روٹی کو نہ ترسے۔۔۔حکومتی امداد اُن تک نہ پہنچے تو اپنے سرکل میں فون کرکے انہیں اِن کا بتا دے پھر بھی نہ ہو تو خود سے ان کیلئے چند دن دو وقت کی روکھی سوکھی کا بھی اہتمام کرے۔۔۔سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ وائرس تو پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔۔۔یہ آزمائیش ہے اللہ کی طرف سے۔۔۔اس کے ساتھ جو ہونا یا اس نے ہمارے ساتھ جو کرنا وہ ہوکے رہے گا۔۔۔مگر۔۔۔اگر ہمارے آس پڑوس میں کوئی بچہ بوڑھا بھوکا مرا تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔۔۔پھر اللہ کے عذاب کا منتظر رہنا۔۔۔ان حالات میں غریبوں کی مدد مصیبتوں کوٹال سکتی ہے لہذا ایسوں کا خیال رکھنا اور ان کی سفید پوشی کا بھرم بھی ٹوٹنے نہ دینا۔۔۔۔احتیاط وائرس سے کرے اور تدابیر غرباء کیلئے۔۔


شیئر کریں: