Chitral Times

Apr 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وومن ڈے ، کرونا وائرس اور ہمارے رویے………میرسیما آمان

Posted on
شیئر کریں:

اس دفعہ مارچ شروع ہونے سے بھی پہلے جسطرح عورت مارچ کا شور ڈالا گیا تھا لگتا یہی تھا کہ “” مارچ “”میں وائرس آکر ہی رہےگا اور وہی ہوا۔۔بحر حال مختصرا بات کروں تو میں “‘ فیمنسٹ”” نہیں ہوں کہ ”عورت مارچ ” کی حمایت کروں اور نہ ہی اسقدر ” دقیانوسی” ہوں کہ گالی بکنے پر خلیل الرحمان قمر کو ” خراج تحسین ” پیش ” کروں۔۔ کیونکہ وہ مرد ہے اور آزل سے گالی دینا مرد کی شان رہا ہے؟؟ آفسوس۔۔۔
.
عورت مارچ کے حوالے سے مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ نا شکری کے باعث جہنم میں جن خواتین کی تعداد ذیادہ بتائی گئی تھی آج عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر آنے والی خواتین بلاشبہ وہی نا شکر طبقہ ہیں۔ اور نا شکری کے علاوہ غیبت ، چغلی اور بہتان تراشی ہی وہ اعلٰی صفات ہونگی جنکی بدولت خواتین جہنم میں ذیادہ سے ذیادہ ” جا گیر ” حاصل کرنے کا شرف حاصل کرلیںگی،، اسلامی ریاست میں کسی بھی قسم کی حقوق کے لیے عدالت تک جانا بھی ذیب نہیں دیتا کجا کہ سڑکوں پر نکلنا ۔۔یہ دین سے دوری ہی ہے جس نے عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور گالیاں دینے کے راستے پر ڈال دیا ہے۔۔
.
اب جہاں تک بات مردوں کی ہے تو ” مرد ” جسکی تعریف ہم نے کچھ یوں سنا تھا کہ وہ عقل و شعور کی بنا ء پر عورت سے افضل ہوتا ہے ۔فی زمانہ ہم جس دور میں جی رہے ہیں مرد حضرات تو خود عورتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔۔کئی یہ ” ماں ” کے غلام ہیں کئی ” بیوی ” تو کئی پر بہنوں کے غلام ۔۔۔یہ بات مضحکہ خیز بھی ہے اور تلخ بھی۔۔معذرت کیساتھ لیکن مجھے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہمارے درمیان مرد حضرات کی تعداد ہے کتنی؟؟ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ جب کبھی حقوق کی بات ہو تو مردوں اور عورتوں کو الگ الگ طبقات کے طور پر پیش کرنے سے پہلے یہ بات سوچیں ضرور کہ آپکے معاشرے کے اندر ” مرد حضرات ” کی تعداد رہ کتنی گئی ہے؟؟؟؟
.
سچ تو یہ ہے کہ مجھے بھی اپنے معاشرے کی طرح عورت پر اُس لمحے ہنسی آتی ہے جب وہ مردوں کی برابری کے نام پر گھر سے باہر نکلتی ہے ۔۔لیکن وہ ” مرد ” جو دیکھتا بیوی کی آنکھوں سے ہو،، سنتا بیوی کی کانوں سے اور بولتا بیوی کی ذبان ہو اور اسکے باوجود خود کو ” مرد ” سمجھنے کی ”عظیم خوش فہمی ”کا شکار ہو تو” مجھے ایسے مردوں پر ”رونا آتا ہے” ۔۔وومن ڈے میرے نزدیک عورتوں کے حقوق کا دن نہیں ہے۔یہ دن درحقیقت اُن مردوں کو ‘ سلام ‘پیش کرنے کے لیے منانا چاہیے جن کا اپنی ذندگیوں میں عورت کو صرف ” سجدہ ” کرنا ہی بس باقی رہ گیا ہے ۔۔جنھوں نے عورت کے ایک مخصوص رشتے کو حد سے ذیادہ عزت دے کر باقی کے رشتوں کو نہ صرف تما شہ بنا کر رکھ دیا ہے بلکہ خاندانی نظام اور اسلامی معاشرت کا بیرہ غرق کرنے میں بھرپور کردار کیا ہے۔۔۔
.
اب بات ہوجائے عالمی وبا ء کی۔۔تو اردو میں وباء کسی غلط یا مکروہ کام کے پھیلنے کو کہتے ہیں اسلیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دو تین سالوں سے ہونے والے عورت مارچ جیسی وباء نے جہاں پوری دنیا کے سامنے پاکستانی خواتین کے مقام کو مشکوک بنا دیا تھا وہیں دسمبر کے مہینے میں چین میں جنم لینے والے ایک معمولی وائرس نے پوری دنیا کو لاک ڈاون ہوجانے پر مجبور کردیا۔۔خدا خدا کر کے جہاں مارچ کے شور سے جان چھوٹی تھی اب وائرس کے عالمی شور نے ناک میں دم کردیا ہے۔۔۔ لوگوں کی افرا تفری دیکھ کر لگتا ایسا ہے جیسے سب موت بھول بیٹھے تھے ۔ جیسے مسلمان “”کُل نفس من ذائقتہ الموت “”کا ترجمہ بھول بیٹھے تھے،اسلام کی خواتین پردہ کرنا بھول گئیں تھیں،،شائد عالم اسلام کے “”مرد مومن “” اپنے گھروں کا راستہ بھول گئے تھے۔۔یا پھر والدین اولاد کو وقت دینا بھول گئے تھے یا کہیں پر والدین تو کہیں پر اولاد آپس میں مل بیٹھنے کو ترس گئے تھے۔۔لگتا یوں ہے جیسے پوری دنیا کے”” مکانات مکینوں کو ترس گئے تھے””۔۔
.
کرونا وائرس کے شور نے کہیں ایسے چہروں پر بھی وحشت پھیلادی جو موت کو صرف ”بوڑھے افراد ” کو حقدار سمجھتے تھے۔۔جو ذہنی طور پرہر وقت کسی بیمار اور کسی ضیف کی قبر تیار رکھتے تھے۔۔ ہاہ افسوس۔۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ موت کا تصور پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک “جن “کے طور پر سامنے آیا ہے۔۔
.
سچ تو یہ ہے لوگ آئینہ دیکھنا بھول گئے تھے۔ ذرہ برابر کا یہ وائرس ایک تلخ آئنہ ہی ہے جو ہمیں بہت کچھ یاد دلانا چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس آئینے میں بھی کتنے لوگ اپنا چہرہ دیکھ پائیں گے؟؟ اب ان حالات میں جہاں پوری دنیا لاک ڈاون ہوچکی ہے،پوری دنیا یا ملک کو چھوڑیں صرف میرے علاقے میں گھروں میں محصور کتنی عورتیں غیبت ، چغلی اور بہتان سے باز آنے کا سوچ رہی ہونگی؟؟ کتنے مرد اپنی سپریرئر ہونے کے ذعم سے نکل رہے ہونگے؟ کتنے لوگ اپنے اب تک کی غلط طرذ فکر یا طرز گفتگو پر نادم ہونگے؟ کتنے لوگ اپنی اب تک کی غلطیوں پر پیشمان ہونگے؟؟یقینا ایک بھی نہیں۔۔شائد نہیں یقینا ہم میں سے ہر ایک آج بھی اپنی مظلومیوں پر نوحہ کناں ہے ، آج بھی خود کو ”صحیح سمجھنے کے ذعم میں مبتلا ہے۔موت تو شہ رگ سے بھی قریب ہے اور کرونا وائرس نے ہمیں موقع دیا ہے کہ موت آنے سے پہلے اسکی تیاری کرلیں ۔۔
.
گھروں میں محصور رہ کر ان تمام چیزوں پر ضرور سوچیں جو یہ آئینہ ہمیں دکھانا چاہ رہا ہے۔ بحرحال معاملہ مارچ کا ہو کشمیر کا یا اس وائرس کا ،ایک نہایت قابل مذمت رویہ جو دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ہے ہماری قوم کا ہر چیز کو مذاق میں ُڑانے والی بات۔۔۔ اگر شکر بھی ذیادہ ہو تو زہر بن جاتا ہے قوم کو سمجھ جانا چاہہے کہ انکی یہ مذاق بھی کہیں المیہ نہ بن جائے۔۔ اس موذی مرض سے بچنے کے تمام احتیاطی تدابیر کو سنجیدہ لیا جائے۔۔
.
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ پوری زندگی میں پہلی بار اجتماعی طور پر صرف ”ایک حدیث ” پر عمل کرنے کاوقت اگیا ہے تو مسلمان اس پر بھی ناکام ہیں۔۔۔ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالیں لیکن جب بات اپنی جان کے علاوہ سینکڑوں جانوں کی ہو تو انسانی عظمت بھی یہی ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کی جان بھی ہلاکت میں نہ ڈالیں ۔۔۔
.
جب تماشہ ہے کہ جب سے پاکستان میں وائرس نے سر اُبھارا ہے پورے ملک سے لوگ جوق در جوق سفر پہ نکلے ہیں ہر کوئی اپنے علاقوں کی طرف رواں دواں ہیں۔۔ ہمارے پاس واشگاف الفاظ میں حدیث مبارک موجود ہے کہ ”جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سُنو،تو اسمیں نہ جاؤ، اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم اسمیں ہو تو اس سے باہر نہ نکلو”’ اگر عوام اس وقت واقعی اس وباء سے بچنا چاہتی ہے تو میں صرف اتنا کہونگی کہ آپ صرف اس ایک حدیث مبارک پر عمل کرلیں ۔۔لیکن اگر آپ اس پر عمل نہیں کرتے تو دوسری کسی بھی تدبیر کا کوئی فائدہ نہیں۔۔


شیئر کریں: