Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان ………محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

حکومت نے کوروناوائرس کی روک تھام کے لئے قومی حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر سپیکرقومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ سپیکر نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو،جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود، مسلم لیگ ن کے رہنمارانا تنویر حسین،خواجہ آصف اور دیگر سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان سے قومی کمیٹی کیلئے نامزدگیاں مانگ لی ہیں۔ تاکہ کوروناوائرس کی صورت میں اہم چیلنج سے نمٹنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ اپوزیشن رہنماوں نے قومی پالیسی وضع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایاہے۔ملک بھر کے جید علمائے کرام نے بھی کورونا سے بچاو کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اورغیرضروری میل میلاپ سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے، آئمہ مساجد اور خطیبوں نے بھی خطبہ جمعہ اور نمازیں مختصر رکھنے، صفوں میں فاصلے رکھنے اور صفائی کا خاص خیال رکھنے کی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔سعودی حکومت نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اندرونی اور بیرونی حصے میں بھی نمازِ کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سعودی حکام نے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں باجماعت نماز پر پابندی لگادی ہے۔مسجد نبوی اور مسجد الحرام کے اندر نمازیوں کوداخلے سے روک دیا گیا۔مرکزی و صوبائی حکومتوں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں، پرنٹ والیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھی مہلک وائرس سے بچاو کی مہم چلائی جارہی ہے۔یہ وبائی مرض ایک قدرتی آفت ہے جس کو روکنا تو انسان کے بس میں نہیں تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ آفت صرف پاکستان یا مسلمانوں پر نازل نہیں ہوئی۔پوری دنیا اس آفت ناگہانی کی لپیٹ میں ہے۔ چین، اٹلی، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، ناروے اور امریکہ جیسے ترقیافتہ ممالک بھی اس وباء کی وجہ سے لرزہ براندام ہیں چونکہ اس کا کوئی مصدقہ علاج تاحال دریافت نہیں ہوا صرف اختیاط کے ذریعے ہی مرض سے بچاو ممکن ہے۔ اگرچہ اس مرض سے ہلاکتوں کی تعداد کسی بھی دوسری بیماری کے مقابلے میں انتہائی کم ہے تاہم یہ مرض تیزی سے پھیلتا ہے اور عدم احتیاط کی صورت میں یہ مہلک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے غریب ممالک کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں کریش کرگئی ہیں۔بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہمسایہ ملک ایران اس وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس نے بین الاقوامی برادری سے پہلی بارمالی امداد کی بھی اپیل کردی ہے۔ پاکستان کے چند بڑے شہروں میں کورونا وائرس کے کچھ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ممکنہ طور پر حکومت صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاون کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے وباء سے بچنے کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ایسی کسی بھی ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت، سیاسی جماعتوں، فلاحی تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ عوام کو بھی تیار رہنا ہوگا۔ اپنی خوراک، گھر، ماحول اور بدن کی صفائی کا ہر شہری کو خیال رکھنا ہوگا، حکومت، علمائے کرام اور قومی رہنماوں کی ہدایات اور احکامات پر عمل کرنا ہوگا،دین کا بھی یہی حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت اور صاحبان امر (اولی الامر)کی فرمانبرداری اور قانون کا احترام کیا جائے۔آزمائش کی اس گھڑی میں پوری دنیا کی نظریں ہم پر بھی مرکوز ہیں ہمارا کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل نہ صرف ہماری ذات بلکہ ہمارے خاندان، معاشرے، ملک اور پوری
انسانیت کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لاک ڈاون کی صورت میں دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آسکتی ہے۔معاشرے کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہم سب پر یہ اخلاقی،معاشرتی، مذہبی اور قومی فرض ہے کہ اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والوں کی بھی خبری گیری کریں اپنی زکواۃ، خیرات اور صدقات کے ذریعے بھوکوں کو کھانا کھلائیں، بیماروں کا علاج کرائیں اور ان کے دکھوں کا مداوا کریں یہی دین اسلام کی اصل تعلیم ہے جس کا خلاصہ مولانا الطاف حسین حالی نے یوں بیان کیا ہے۔
یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں


شیئر کریں: