Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعطیلات میں بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ …….. تحریر: ڈاکٹر محمدیونس خالد

Posted on
شیئر کریں:

فرصت کے لمحات اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہواکرتے ہیں۔ ان لمحات سےبھرپور فائدہ اٹھانے والے نصیبوں والے لوگ ہوتے ہیں۔ حدیث مبارک میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے آپ نے فرمایاکہ: فرصت کے لمحات کو غنیمت جان کران سے فائدہ اٹھاو ۔ایک اور حدیث میں ارشادنبوی ہے کہ جس انسان کے دودن ایک جیسے رہے یعنی دوسرے دن پہلے دن کے مقابلے میں کوئی علمی ، عملی ، ایمانی ، اخلاقی یا مادی لحاظ سے کوئی اضافہ نہیں ہوسکا وہ ہلاکت کے دہانے پر ہے۔ان دونوں فرامین نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والتسلیم اور عقل ودانش کو سامنے رکھتے ہوئے میں موجودہ لاک ڈاون اور بچوں کی تعطیلات کے تناظر میں والدین کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ والدین ان لمحات کو کیسے کارآمد بناسکتے ہیں۔ عموما جب بچوں کی لمبی تعطیلات ہوتی ہیں تو والدین پریشانی کا شکار ہوتے ہیں خصوصا مائیں زیادہ مسائل کا سامنا کرتی ہیں کہ جب بچے ہروقت گھر میں ہوتے ہیں اورا ن کے پاس کرنے کو کوئی کام بھی نہیں ہوتا۔ تو وہ یا توگھر میں اودھم مچاتے ہیں یا ہر وقت موبائل ، ٹی وی گیجٹس میں لگے رہتے ہیں۔ جب کہ یہ دونوں کام والدین کے لئے پریشانی کا سبب ہوتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو سمجھ نہیں آتا کہ بچوں کو کس طرح مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھاجائے۔ اس صورت حال کو بچوں کے بہترین مفاد میں استعمال کرتے ہوئے ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرنے کے لئے میں والدین کی خدمت میں چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔
.
1۔ والدین سب سے پہلے اپنے بچوں کو بٹھا کرمشورہ کریں کہ چھٹیوں یا لاک ڈاون کے دوران ان کو کیا کیا کام کرنے چاہییں۔یعنی ان سے مطلوب کاموں یا پروجیٹکس کو ڈیفائن کرکے ان کی فہرست بنائیں۔ یاد رکھئے بچوں سے مطلوب کاموں کی فہرست خو دبچوں سے تیار کروائیں تو زیادہ اچھا ہے ورنہ ان کی مشاورت سے فہرست بناسکتے ہیں۔
.
2۔دوسراکام یہ کریں کہ بچوں کے چوبیس گھنٹوں اور ہفتہ کے سات دنوں کے لئے کوئی ٹائم ٹیبل یا نظام الاوقات ضرور بنائیں۔جس میں بچوں کے سونے جاگنے کے اوقات ، نمازوں تلاوت ا ذکارودعاوں کے اوقات، ان کے مطالعہ اور ٹیوشن ورک کے اوقات، موبائل یا کمپیوٹر پر کام کے اوقات، تفریح یا کھیل کے اوقات وغیرہ کو متعین کیا گیا ہو۔
.
3۔ تیسراکام یہ کہ والدین اس ٹائم ٹیبل کے مطابق اوقات گزارنے کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ صرف ٹائم ٹیبل بناکر چھوڑنا کافی نہیں ہے۔
یہ تین بنیادی کام ہیں جن کو روبعمل لانے سے والدین انشااللہ بڑے پرسکون رہیں گے ، بچوں کی اچھی تربیت بھی ہوتی رہے گی اور فرصت کے لمحات بھی بامقصد استعمال ہوتے رہیں گے انشااللہ۔
.
والدین کے لئے چند ٹپس:
1 ۔ والدین گھر کے پالیسی میکر ہوتے ہیں اس طرح کی پالیسی بنانے میں بچوں کو ضرور شامل کریں ورنہ یہ پالیسیاں دھری رہ جائیں گی بچے ان پربالکل عمل نہیں کریں گے۔
.
2۔ والدین بچوں کی اچھی تربیت صرف نصیحتوں اور لیکچرز سےنہیں کرسکتے بلکہ اچھی ماڈلنگ سے کرسکتے ہیں۔ بچے کو نماز پڑھوکہنے سے وہ نمازی نہیں بنیں گے، بلکہ خود خشوع خصوع سے نماز پڑھتے ہوئے اور نمازوں کی پابندی کرتے ہوئے اپنے آپ کو دکھا نے سے بچے نمازی بن جائیں گے انشااللہ۔ لہذا پالیسی بنانے کے بعد پہلے خود عمل کرنا شروع کریں اور بچوں کود کھائیں کہ ان باتوں پر کیسے عمل کیا جاسکتا ہے۔یہی عمل ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔
.
3۔ والدین بچوں کو اچھی باتیں، چاہے وہ جس موضوع سے متعلق ہوں پیارسے نرم لہجے میں سمجھائیں۔ اس میں ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بعض والدین بچوں کو ہر وقت سمجھانے کی کوشش میں لگے رہتےہیں جو عموما نقصان دہ عمل ہوتاہے۔ اس حوالہ سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو سمجھانا کم ہے خود پریکٹکل کرکے زیادہ دکھانا ہے ان دونوں میں اگر تناسب معلوم کرنا چاہیں تو 80اور 20 کا تناسب بن سکتا ہے۔ یعنی 20 فیصد بچوں کو سمجھانا ہے وہ بھی مناسب وقت پر۔ جبکہ 80 فیصد اپنے اسوہ اور نمونہ سے بچوں کو دکھا نا ہے۔
.
4۔ والدین اپنے بچوں کے لئے خوب دعائیں کریں۔ راتوں کو اٹھ کر اللہ تعالی سے ان کی اچھی قسمت مانگیں ان کی کامیابی مانگیں اور ان کے لئے ہدایت اور دین ودنیا مانگیں۔
5۔ بچوں کی تربیت کل وقتی اور نہایت صبرآزما کام ہے والدین ا س میں جلد بازی کی کوشش بالکل نہ کریں۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں۔ اس کے لئے مزاج موزوں کا ہونا نہایت ضروری ہے اپنے مزاج پر کام کیجئے۔جذباتیت کے شکار اورجلد غصہ سے آگ بگولہ ہونے والے والدین بچوں کی درست تربیت نہیں کرسکتے۔ بچے ان سے بدک جائیں گے۔
.
6۔ والدین اپنے بچوں کے لئے رزق حلال کا اہتمام کریں کیونکہ حرام لقمے سے تیار ہونی والی شخصیت سے کوئی اچھی توقع رکھنا بے کار ہے۔
یہ چند گزارشات نہایت اختصار کے ساتھ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کر دی ہیں، ان میں سے ہر پوائنٹ نہایت تفصیل طلب ہے اگر ضرورت محسوس کی گئی تو انشااللہ ان کی تفصیلات بھی الگ تحریروں میں پیش کی جائیں گی۔ تاہم اگر کسی نے ان بنیادی نکات کو ہی اپنا یا تو امید ہے کہ انشا اللہ تربیت کی اچھی بنیادکم از کم قائم ہوجائے گی۔ اولاد ہمارے لئے آزمائش ہیں ان کی تربیت کا عظیم کا م والدین کے سپر د کیا گیا ہے اورکل قیامت میں اس کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔اس کام کے لئے والدین کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ بچوں کی درست تربیت باقاعدہ سیکھنے والا فن ہے ، یہ فن کسی زمانے میں بھی اسان نہیں رہا خصوصا اس زمانے میں جبکہ ٹیکنالوجی کی زندگی میں مداخلت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اورمغرب کی مادرپدر آزادی کودنیا میں ایک قدر کی حیثیت سے تسلیم کی جا رہی ہے تب سے یہ فن اور بھی پیچیدہ ہوکر رہ گیا ہے۔ اللہ تعالی ہم سے کا حامی وناصرہواور اس عظیم فریضے کی ادائیگی کو ہمارے لئے آسان کردے۔ آمین


شیئر کریں: