Chitral Times

Apr 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال ، ایک اورکرونا وائرس کے مشتبہ مریض چترال سے پشاورمنتقل

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) پیر کے دن کرونا وائرس کے دوسرے مشتبہ مریض کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال سے پشاور منتقل کردیا گیا جس کی شناخت پرکوسپ مستوج کے شجاع الرحمن ولد فیض الرحمن کے طورپر ہوئی ہے۔ مشتبہ مریض کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہیں کراچی سے براستہ لواری ٹنل چترال آتے ہوئے دروش کے مقام پر معمول کی چیکنگ کے دوران ٹریول ہسٹری اور جسم میں پائے جانے والے علامات کی بنیاد پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا جسے بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شمیم کے مطابق مریض کو ٹیسٹ کے لئے پشاور منتقل کرنا پڑا کیونکہ ہسپتال میں مریض سے نمونے حاصل کرنے کے بعد مطلوبہ ٹمپریچر کو برقرار رکھتے ہوئے پشاور کے لیبارٹری پہنچانا ممکن نہ تھاکیونکہ محکمہ صحت کے پاس کولڈ چین کے انتظامات دستیاب نہ تھے۔ دریں اثنا ء چترال کے عوام نے مشتبہ مریض کو دروش سے چترال منتقل کرنے اور چترال میں ٹیسٹنگ کٹ سمیت دوسرے ضروریات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریں اثنا ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد نے پیر کی رات 7بجے سے لواری ٹنل کو ہر قسم کی موٹر گاڑیوں کے لئے تاحکم ثانی مکمل طورپر بند کرنے کا حکم دیا ہےتاکہ ملک کے دیگر حصوں سے چترال آنے والوں کو روکا جاسکے جوکہ اس ضلعے کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔ مقامی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے ملک کے دیگر حصوں میں رہائش پذیر چترال کے باشندوں پر زور دیا ہے کہ لواری
ٹنل کی بندش کا واحد مقصد اس پسماندہ ضلع کو کروناوائرس سے بچانا ہے اور بچاؤ کی یہی واحد صورت ہے جس میں عوام کا تعاون بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس دوران صرف اشیائے خوردونوش اور ادویات کی گاڑیوں کو صبح 9بجے سے لے کر شام 7بجے تک چھوڑ اجائے گا۔


شیئر کریں: