Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وائرس جو کورونا سے زیادہ خطرناک ہے‎………ندیم احمد

Posted on
شیئر کریں:

جب بھی کوئی آفت یا مصیبت نازل ہوتی ہے، ہمارے ہاں یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ یہ عذاب ہے یا پھر کسی انسانی غلطی کا فطری نتیجہ۔ کورونا کی وبا سے متعلق خبریں پھیلنا شروع ہوئیں تو اس کا تدارک کرنے کے بجائے یہ بحث شروع ہوگئی کہ حرام جانور کھانے کی وجہ سے یہ بیماری قہر کی صورت مسلط کی گئی ہے یا پھر دیگر وبائی امراض کی طرح در آئی ہے۔

عالمی سازشوں پر گہری نظر رکھنے والے بعض باخبر افراد نے یہ تہلکہ خیز انکشاف بھی کیا کہ کورونا وائرس امریکہ کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے اور اسے چین کو اقتصادی میدان میں شکست دینے کے لئے متعارف کروایا گیا ہے۔

میں جب ستاروں اور سیاروں کا علم رکھنے والے ان ماہرین کو اس طرح کی بحث میں اُلجھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو یہی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ عذاب اگر واقعی انسانوں کو سزا دینے کے لئے نازل ہوتا ہے تو یقیناً اس کی بہت سی اقسام ہوں گی جیسے کہ وبائی امراض، سمندری طوفان، زلزلے، حادثات اور اس طرح کی دیگر آفات مگر ان عذابوں میں جہالت بدترین عذاب ہے جو برسہا برس سے ختم ہونے میں نہیں آرہا۔

انفرادی اور اجتماعی سطح پر جس طرزِ عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جگت بازی کے ذریعے کورونا کو ہنسا ہنسا کر موت کے گھاٹ اتارنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ سرکاری سطح پر یہ مہم بہت زور و شور سے چلائی جا رہی ہے کہ گرم پانی پئیں یا پھر گرم پانی سے نہائیں تو کورونا ختم ہو جائے گا۔

ایک دن گورنر پنجاب چوہدری سرور سے منسوب یہ بیان نظر سے گزرا کہ گرم پانی پئیں گے تو معدے میں موجود کورونا وائرس مر جائے گا تو دوسرے روز کپتان نے فرمایا کہ جونہی گرمیاں شروع ہوں گی، حدت بڑھے گی تو کورونا اپنی موت آپ مر جائے گا، لاہور کے ایک پوش علاقے میں لگے بل بورڈز کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس گرم آب و ہوا میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔

ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جنہوں نے اپنا تعارف ماہرِ امراضِ قلب کے طور پر کروایا، نے دعویٰ کیا کہ بال سکھانے والے ڈرائیر کے ذریعے اپنی ناک میں گرم ہوا ڈالیں تو کورونا وائرس مر جاتا ہے۔ اسی طرح عوامی سطح پر حکیم، طبیب اور خطیب ہی نہیں عام افراد بھی ثوابِ دارین کی غرض سے بیشمار نسخے بتا رہے ہیں۔

لہسن، پیاز اور ادرک سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان کے استعمال سے کورونا سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔تعجب تو تب ہوتا ہے جب بھلے چنگے پڑھے لکھے لوگ ان عجیب و غریب مشوروں کو سنجیدگی سے لے لیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن معلومات کا سب سے مستند ذریعہ ہے اور ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر افواہوں کو جانچنے کیلئے Myth Busterکے نام سے ایک الگ سیکشن قائم کیا گیا ہے۔

یہاں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ عالمی ماہرین کے مطابق کورونا ہر طرح کے ماحول میں پرورش پا سکتا ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سرد ممالک جہاں برف باری ہوتی ہے وہاں اس کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں یا پھر وہ گرم مرطوب ممالک جہاں بہت زیادہ گرمی پڑتی ہے، وہاں کورونا سرایت نہیں کر سکتا تو یہ محض خوش فہمی اور مغالطہ ہے۔

اگر گرم پانی پینے سے کورونا نہ ہوتا تو پھر چین میں یہ وبا کیوں پھیلتی جہاں نیم گرم پانی پینے کا رجحان بہت عام ہے؟ماہرین بتاتے ہیں کہ انسانی جسم کا اندرونی درجہ حرارت 36.5یا 37 ڈگری رہتا ہے۔ اگر آپ گرم پانی سے نہائیں گے تو کچھ دیر کیلئے آپ کا جسم گرم ہوگا مگر آپ کا جسم جلد ہی نئے ماحول کے مطابق اپنا اندرونی درجہ حرارت ایڈجسٹ کر لے گا۔

اگر اس بات میں کوئی صداقت ہوتی تو پھر ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں تباہی کیوں پھیلتی جہاں کم وبیش اتنی ہی گرمی پڑتی ہے جتنی پاکستان میں؟ اسی طرح ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ادرک کے بیشمار طبی فوائد ہو سکتے ہیں مگر کورونا سے بچائو سے متعلق دعوے بےبنیاد ہیں۔

واش روم میں جو ڈرائیر لگا ہوتا ہے وہ ہو یا پھر بال سکھانے والا ڈرائیر، ان کے ذریعے کورونا کے جراثیم نہیں مرتے۔

ہاتھ ملانے سے متعلق احتیاط پر مبنی طرزِ عمل کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے اور طبی نسخوں کے ساتھ طرح طرح کی افواہیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ پہلے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ فلاں پہنچی ہوئی ہستی کو خواب میں بالوں کے ذریعے کورونا سے بچائو کا علاج بتایا گیا ہے پھر اس سے ملتی جلتی بیشمار باتیں وٹس ایپ گروپس کے ذریعے پھیلائی جا نے لگیں۔

ان عقل کے اندھوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ اسباب کے بجائے محض ٹونے ٹوٹکے کے ذریعے کسی آفت، مصیبت یا وبا سے بچائو ممکن ہوتا تو مقدس مقامات کو کیوں بند کیا جاتا؟ مسجدیں کیا، کلیسا، مندر، سنگاگ، جماعت خانے، دفاتر، جامعات، پلازے سب ویران پڑے ہیں۔

اسی طرح کسی نے یہ بےپَر کی اُڑائی کہ رات 12بجے کے بعد پاک فوج کے مخصوص ہیلی کاپٹرز کورونا وائرس سے بچائو کیلئے اسپرے کریں گے، اس لیے چند روز کیلئے کپڑے سکھانے کی غرض سے چھت پر نہ ڈالیں اور 12بجے کے بعد گھر سے باہر نہ نکلیں۔ بس پھر کیا تھا، یہ میسج سوچے سمجھے بغیر وٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر شیئر ہونے لگا۔

اس طرح کی لغو، بےبنیاد، بےہودہ اور غیرحقیقی باتوں کو آناً فاناً شیئر ہوتے دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کورونا وائرس کتنا ہی مہلک کیوں نہ ہو مگر جھوٹ اور جہالت کے وائرس سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتا۔

کورونا وائرس کا عذاب تو چند دن یا ہفتوں نہیں تو مہینوں میں سائنسی تحقیق کی بدولت ٹل جائے گا لیکن جونہی جہالت کے مراکز پھر سے آباد ہوں گے، یہ باتیں طمطراق کیساتھ لوٹ آئیں گی۔


شیئر کریں: