Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد ……..وبائی صورت……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

اردو میں کسی بھی غلط کام کے پھیلنے کو وبائی صورت کہا جاتا ہے نقل نے وبائی صورت اختیار کرلی۔موبائل نے وبائی صورت اختیار کرلی،رشوست ستانی نے وبائی صورت اختیار کرلی گویا غلط کام وبا کی طرح پھیل گیا۔ایسے جملے کہتے اور سنتے وقت ہمیں اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وبا کیا ہے؟کورونا کی وبا آئی تو ہمیں اندازہ ہوگیا کہ وبائی صورت کیا ہوتی ہے؟ایک ایسی بیماری جو دروازے کو ہاتھ لگانے سے صحت مند آدمی کولگتی ہے۔قلم کے ذریعے پھیلتی ہے۔کاغذ کے ذریعے پھیلتی ہے۔10سال پہلے ریلیز ہونے والی فلم”کونٹ چئین“میں ایک خاتون ہانگ کانگ میں دکان کے کاونٹر سے سودا لیتی ہے تو ساتھ بیماری کا جرثومہ آجاتا ہے۔خاتون جہاں جاتی ہے بیماری اُس کے ساتھ جاتی ہے وہ جس چیز کو ہاتھ لگاتی ہے بیماری اُس چیز کے ساتھ چپک جاتی ہے اور جو اس کو ہاتھ لگاتا ہے بیماری ہاتھ آجاتی ہے پھر منہ،ناک اور آنکھوں کے راستے گلے میں منتقل ہوتی ہے۔گلے سے پھیپڑے میں منتقل ہوتی ہے۔فلمساز نے10سال پہلے کورونا کا منظر نامہ ہمیں دکھایا مگر کسی کو باور نہ آیاکہ حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہوسکتا ہے یہی رویہ اُس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب کورونا کی بیماری چین سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی چین،ایران اور اٹلی میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ہر ملک نے کہا ہمارے ہاں نہیں آئے گی مگر وباآئی اور پھیل گئی ہمارے ہاں پہلے پہل وبا آئی تولوگوں کا رویہ طوطا رام والاتھا مگر شکر ہے جلدی عوام کو ہوش آیا،طوطا رام ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہور صداکار عبداللہ جان مغموم کا تراشا ہوا کردار تھا1965سے لیکر1980تک15سال مسلسل ریڈیو پاکستان پشاور کے دومقبول پروگرام چلتے رہے ایک تھا”دیارانومرکہ“جس میں شاپسند خان اور پائیندہ خان کسی اہم مسئلے کے دوپہلووں پر جھگڑے کے انداز میں گفتگو کرتے تھے ایک پروگرام کا ”طوطا رام نہ منی“طوطا رام نہیں مانتا یہ پروگرام عبداللہ جان مغموم کا تھا وہ مرچکئی کے قلمی نام سے صداکاری کرتے تھے۔لوگ بازاروں،گلیوں میں کھڑے ہوکر ریڈیو سے کان لگائے اور مرچکئی کی باتیں سنتے تھے۔پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ بھارت اورافغانستان کے منفی پروپیگنڈے کا موثر جواب دیاجائے دشمنوں کے ہر پروپیگنڈے کو موضوع بناکر اس کا جواب دیاجاتا تھا۔شروع میں دوتین بار زور دار قہقہے لگاتا پھر بات شروع کرکے کہتا نہ منی،نہ منی طوطا رام نہ منی، نہیں مانتا نہیں مانتا،نہیں مانتا طوطا رام نہیں مانتا اس کے بعد وہ پروپیگنڈے کے بخیے ادھیڑ کررکھ دیتا۔آج ریڈیو لائبریری میں اس پروگرام کی کاپیاں محفوظ ہونگی۔کورونا آگئی حفاظتی اقدامات آگئے،احتیاطی تدابیر کی بات چلی تو ہمارے لوگوں نے طوطا رام والا رویہ اختیار کیا اور”کچھ نہیں ہوتا“کہہ کر احتیاطی تدابیر کو ٹالنے کا وطیرہ اپنایا۔لیکن شکر ہے جلدی عوام کی سمجھ میں بات آئی اور احتیاطی تدابیر پر عمل شروع ہواآج ہفتہ عشرہ گذرنے کے بعد سب نے اپنی خواہشات کو حکومتی اقدامات کے آگے سرنڈر کردیا ہے۔حکومت کہتی ہے بازار بند تو لوگ مان لیتے ہیں۔حکومت کہتی ہے پبلک ٹرانسپورٹ بند تو پبلک سرتسلیم خم کرلیتی ہے،حکومت کہتی ہے گھروں سے باہر مت نکلو تو عوام بلاچون چرا تسلیم کرلیتے ہیں۔محیب وبا ہے جس کے سدباب کیلئے احتیاطی تدابیر اتنے آسان ہیں۔مثلاًسماجی رابطے ختم کرو بہت آسان کام ہے مثلاگھر سے باہر نہ نکلو یہ بھی سہل ہے۔مثلاً کسی سے ہاتھ نہ ملاؤ اس میں کوئی مضائقہ نہیں احتیاطی تدابیر کی بنیاد یہ ہے کہ کورونا کا جرثومہ صرف کھانسی اور چھینک سے نہیں پھیلتا۔یہ ایسا جرثومہ ہے جو بیمار کے ہاتھ کے ساتھ بھی چھپکا ہوا ہے۔بیمار نے جس چیز کو ہاتھ لگایا جرثومہ اُس کے ساتھ چپک گیا۔پھر جس نے بھی ہاتھ لگایا بیماری اُس کے ہاتھ میں آگئی اُس نے منہ کو یاچہرے کو ہاتھ لگایا بیماری اندر چلی گئی اور کورونا لگ گیا۔اس طرح کی وبا ہم نے پہلے نہیں دیکھی تاہم عوام باشعور ہیں،حکومت کی بات مان لیتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ مان لیتے ہیں۔طوطا رام کی طرح ہٹ دھرمی نہیں کرتے۔چین کے حکام نے احتیاطی تدابیر کے ذریعے وبائی مرض کو ووہان شہر سے بیجنگ،شنگھائی اور کینٹن تک پھیلنے نہیں دیا۔جہاں بیماری پھیلی تھی وہاں اس کو قابو کیا۔البتہ بین الاقوامی پروازوں پر پابندی نہیں لگی اس وجہ سے بیماری چین سے باہر نکلی اور دنیا میں پھیل گئی۔یہ اکیسویں صدی کی وبا ہے اس کامقابلہ کرنے کے لئے اکیسویں صدی کی سوچ اور فکر اپنانے کی ضرورت ہے۔اس فکر اور سوچ کے دواہم تقاضے ہیں۔پہلا تقاضا یہ ہے کہ سماج اور معاشرے کے قدیم دستور اور رواج کے ساتھ نہ چمٹا جائے،دوستوں،رشتہ داروں کے ہاں جانا قدیم روایت ہے،ہاتھ ملانا اور بغل گیرہونا،مصافحہ کرنا ہماری ثقافت ہے اور ایسی ثقافت ہے کہ سامنے والا شخص چائے پی رہاہو،دوالے رہاہو،کچھ لکھ رہا ہویا ضروری کام کررہا ہو ہم اس کو ہاتھ ملائے بغیرنہیں چھوڑتے اگر وہ ہاتھ نہ ملاسکے تو مغرور اور تکبر کے القاب سے نوازتے ہیں حالانکہ اسلامی تعلیمات میں زبانی سلام کا ذکر ہے ہاتھ ملانے کا کوئی حکم نہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو حکومت اور ماہرین کی رہنمائی کے سامنے سرنگوں کریں۔اگر حکومت کہتی ہے کہ گھر میں رہو توہم قبول کرلیں اگر حکومت کہتی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند کرو تو ہم بند کریں اگر حکومت کہتی ہے کہ بازار،ہوٹل،ریستوران اور پارک بند کرو تو ہم دل وجان سے قبول کریں اس میں ہماری اپنی بھلائی اور سلامتی ہے اب تک ہم نقل اور رشوت عام ہونے کو وبائی صورت کہتے تھے اب ہم نے اصل بیماری کو وبا ئی صورت اختیار کرتے دیکھ لیا ہے اور ہمارے تجربے میں آیا ہے کہ وبائی صورت کیا ہوتی ہے۔فقیر کی صدا ہے اللہ سب کی خیر کرے سب کا بھلا ہو۔۔۔


شیئر کریں: