Chitral Times

Aug 5, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں مکمل لاک ڈاون، بین الاضلاع ٹرانسپورٹ پرپابندی، تمام کاروباری مراکز بند رہے

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ملک اورصوبے کے دوسرے حصوں‌کی طرح چترال میں بھی لاک ڈاون رہی ، تما م کاروباری مراکز، مارکیٹس بند رہے، صرف میڈیکل سٹورز اورسبزی کی دکانیں کھلی رہیں، ٹرانسپورٹ معطل رہی، ٹرانسپورٹ آڈے ویران اورسنسان رہے . کسی بھی قسم کی بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم پشاورودیگرڈآون ڈسٹرکٹ سے کچھ فلائنگ کوچز میں‌ مسافر چترال پہنچ گئے، چترال پولیس نے گزشتہ دن پکڑے گئے بعض فلائنگ کوجز کو آج چھوڑ دیا گیا اورانھیں متنبہ کیا گیا کہ ٹرانسپورٹ کی پابندی کے دوران اگردوبارہ چترال آنے کی کوشش کی توانکے ساتھ سخت قانونی کاروائی کی جائیگی. فلائنگ کوجز ڈرائیوروں‌کے مطابق انھیں‌ہدایت کی گئی کہ واپسی پرکسی قسم کی بھی سواری نہیں‌ لے جاسکیں‌گے .

یادرہےکہ گذشتہ روز انتظامیہ کی طرف سے سختی سے اس بات کا حکم دیا گیا تھا ۔ کہ بروز اتوار کسی بھی مسافر گاڑی کو ٹنل کے راستے چترال آنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ جبکہ اتوار کے روز ایک درجن سے زیادہ گاڑیاں مسافروں کو لے کر چترال پہنچ گئے۔ انتظامیہ کی مسلسل تبدیل ہوتی اس رویے کی وجہ سے چترال آنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔اور ضلع سے باہر پھنسے ہوئے مسافر چترال انتظامیہ کے طفلانہ فعل کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ ادھر اتوار کے روز پولیس مضافاتی علاقوں میں ٹریفک بزور بند کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔ اور اس دوران کئی گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا ہے ۔ یہ عمل چترال شہر اور اطراف میں ہوتے رہے۔ ایون میں ٹریفک نہ روکنے پر ایک درجن گاڑیوں کے خلاف پولیس تھانہ ایون نے کاروائی کی ۔ اور اپنی تحویل میں لے لیا ۔ چترال بازار میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی ۔جبکہ اطراف میں دکانیں اور بازار کھلے رہے۔ اور لوگ معمول کی خریداری اور کام کرتے رہے۔ جنہیں دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے ۔ کہ فی الحال لوگوں کو کروناوائرس کے نقصانات کا بالکل اندازہ نہیں ہے ۔ لوئر چترال شہر میں لوگ تقریبا گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ تاہم اپر چترال کے کچھ مقامات سمیت ، گرم چشمہ ،کریم آباد وغیرہ علاقوں میں سادگی سے نوروز تہوار منانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جس میں خواتین اور بچوں نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ کرونا وائرس سے بچاو کے حوالے سے کئےگئے اقدامات کی وجہ سے جہاں زندگی کے تمام کام متاثر ہوئے ہیں ۔ وہاں 23مارچ کی تقریبات بھی متاثر ہوئی ہیں ۔ اور چترال بھر میں کسی بھی مقام پر 23مارچ کے حوالے سے کوئی بھی تقریب منعقد نہیں ہوگی ۔ ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے عوام میں حساسیت پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ اور ہزاروں کی تعداد میں چترالی باشندے جو دیگر شہروں سے چترال آنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اپنے مقام پر رہنے کی ہدایت کی ہے ۔ درین اثنا چترال کے مختلف مساجد میں کرونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کیلئے ختم قرآن شریف کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایون میں دو مقامات پر ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین اور معروف عالم حافظ خوشولی خان کی قیادت میں ختم یسن شریف کے بعد کرونا سے محفوظ رہنے کیلئے اللہ کے حضور دعائیں مانگی گیئں۔ ڈپٹی کمشنر چترال کے آفس سے موصول شدہ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے آج رات سے لواری ٹنل کو بند کیا جائے گا۔


شیئر کریں: