Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا وائرس اور نفسیات……….اُم کلثوم سائیکالوجسٹ

شیئر کریں:

‎آج کل جن حالات سے ھمارا واسطہ پڑا ھے وہ یقینًا ایک خطرے کی گھنٹی ھے۔ ہر طرف نفسا نفسی اور افراتفری کا عالم ھے۔ وہ ایک بیماری جس نے ہر چھوٹے بڑے مہلک بیماریوں کو مات دے کر اپنی جگہ بنائی ھے آیے اسکا مختصر تعارف کرتے ھیں۔
.
‎”کرونا”لاطینی زبان کا لفظ ھے جسکے معنی تاج کے ھیں۔ کرونا وائرس کی وہ قسم ھے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ھوئی ھے۔ ماضی میں کرونا کی اور بھی قسمیں انسانی آبادی کو نقصان پہنچا چکی ھے جن میں “سارس” نامی وائرس جو ۲۰۰۳ میں چائنہ میں پھیل چکا تھا اور “مرس” نامی وائرس نے ۲۰۱۲ میں سعودی عرب میں تباہی مچادی تھی۔۳۱ دسمبر ۲۰۱۹ کو چائنہ کے شہر وہان میں اسکا پہلا کیس درج ھوا، جسکی علامات میں نمونیہ نمایاں تھی۔ ڈاکٹرز کو شروع شروع میں اس وائرس کا اندازہ نہ ھوسکا۔ ان افراد کا تعلق وہان کے لوکل مچھلی بازار سے تھا جسکے بعد یہ انکے خاندان، پھر رفتہ رفتہ پوری دنیا تک پھیل گیا۔ کرونا وائرس کی بنیادی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری ھے۔ جسمانی اثرات کے ساتھ ساتھ کرونا نے انسانی زندگی کو ہر طرف سے گھیر رکھا ھے۔حفاظتی اقدامات کے تحت میل جول کو منقطع کرنے کی ہدایات جاری ھوئی ھیں۔ کرونا کے اثرات جتنی انسانی اعضاء پر گہرا اثر چھوڑ رھے ھیں، اس سے کئی ذیادہ انسانی نفسیات دباو کا شکار ھے۔ پریشانی اور گبھراہٹ معمول سے ذیادہ پروان چڑھ رھے ھیں۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر حکومتی سطح پر اس سے بچاو اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے خصوصی اشتہارات چلائے جارہے ھیں، لیکن کہیں نہ کہیں میڈیا اپنے منفی اثرات چھوڑ رہی ھے۔ مرنے والوں اور وائرس ذدہ مریضوں کے اعداد و شمار کی وجہ سے خوف و ہراس کا عالم ھے۔
.
‎ایسے حالات میں کچھ مایوسی اور نا امیدی تو انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن جب یہی مایوسی اور ناامیدی آپکی روزمرہ زندگی کو متاثر کرے تب آپکی ذہنی صحت متاثر ھوتی ھے۔ اس مرض کیوجہ سے کیا کیا نفسیاتی مسائل کا سامنا ھوسکتا ھے ان پر ایک نظر دوڑاتے ھیں.
.
۱‎۔ مسلسل ہاتھ دھونے سے اور بار بار صفائی اور وائرس کے حوالے سے آنے والے خیالات کیوجہ سے آپ وسوسے کا شکار ھوسکتے ھیں جسے سائکالوجی کی زبان میں Obsessive compulsive disorder کہا جاتاھے۔
.
‎۲۔ ایلکٹرانک، ماس، اور سوشل میڈیا کا مسلسل اور منفی استعمال آپکی نیند، روزمرہ کے معاملات، اور آپکے روئیے کو متاثر کرسکتی ھے۔ آپ چڑچڑاپن اور بیزاری محسوس کرسکتے ھیں۔
.
‎۳۔ مسلسل ناامیدی اور مایوسی والی باتیں سننے اور دیکھنے کے بعد آپ باآسانی ڈپریشن کا شکار ھوسکتے ھیں۔
.
‎۴۔ وائرس کے لگنے کے خوف سے یا اردگرد سے کوئی خبر ملنے پر آپ کو panic attacks، پسینہ چھوٹنا، ہاتھ پاوں کا سن ہوجانا شامل ھیں۔آسکتے ھیں جن میں پیٹ میں مڑوڑ اٹھنا.
.
‎۵۔ آمدنی، اور نوکری کے درپیش مسائل،میل جول میں پرہیز کیوجہ سے آپکی سماجی تعلقات خراب ھوسکتے ھیں جس کی وجہ سے آپ ٹینشن کا شکار ھوسکتے ھیں۔
.
‎۶۔ اس وبائی مرض کا پوری دنیا پہ پڑاو ھے۔ صبح سے شام تک آپکا واسطہ جب انہی شہ سرخیوں سے پڑیگا یا آپ اپنے اردگرد ماحول کا معائنہ کریں گے، تو یہ چیزیں آپکے لاشعور میں جمع ھوتی جائیںگی۔ پھر یہی حادثہ آپکے خوابوں، خیالوں میں گردش کرتی رہے گی جسے سائکالوجی کی ذبان میں “post traumatic stress disorder ” کہا جاتا ھے۔ یعنی ایک گزرے ھوئے حادثے کیوجہ سے آپ ذہنی پریشانی سے دو چار ھوتے رہیںگے۔
.
۷۔ خود کے بچاو کے اس عمل میں آپ اتنے محتاط ھونگے کہ آپکو ہر چیز پر شک و شبہ ھونے لگیگا جسکی وجہ سے آپکی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ھونگے۔
.
‎۸۔ جب آپکی تعلیمی کارگردگی، سماجی زندگی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور گھریلیو زندگی متاثر ھو اور آپ مسلسل اسی سوچ و بچار میں وقت گزاریں کہ اب کیسے دوبارہ پہلے جیسا ھوسکتا ہے؟ نوکری ملیگی کہ نہیں، تو یہ ھمارے پاس Generalized anxiety disorder کے زمرے میں آتی ھے۔
.
‎۹۔آپکا وھم آپکو اس بات کو ماننے پر مجبور کریگا کہ آپ میں بھی یہ اثرات موجود ھیں۔ آپ اپنی صحت کے حوالے سے پریشان ہونا شروع ھوجاینگے اور ہر چھوٹے بڑے اثرات آپکو اپنے آپ میں دکھائی دینگی جسکی وجہ سے آپ نفسیاتی مسائل سے دوچار ھوسکتے ھیں۔
.
‎وائراس زدہ مریضوں کو دیکھ کر بھاگنے کی بجائے اپنا رویہ نرم رکھیں۔ ایک دوسرے کو فوائد و نقصانات سے آگاہ کریں۔ جان بوجھ کر ایک دوسرے کو وائرس نہیں لگایا جاتا، البتہ یہ لاپرواہی کا نتیجہ ضرور ھے۔ کوشش کریں کہ ذیادہ سے ذیادہ وقت گھر میں گزاریں، روحانی علاج پہ بھی یقین کریں، فیملی اور اہل و عیال کے ساتھ وقت گزاریں اور کوئی نیا کارآمد ہنر سیکھیں۔ اپنے منفی خیالات کو مثبت سوچ سے تبدیل کریں۔ذیادہ بے چینی اور پریشانی کی صورت میں سائکالوجسٹ سے رجوع کریں۔


شیئر کریں: