Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حقائق………….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

چیف جسٹس آف پاکستان نے قومی ائرلائن انتظامیہ کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیوں نہ اس کو بند کیا جائے۔پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹم والے لوگوں کو سہولیت فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں،پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا،اگر کوئی بھی ادارہ یونین کے ہاتھوں میں دینگے تو وہ ادارہ بند ہی ہوجائیگا،اس سب کاپھر کون ذمہ دار ہوگا،سابق وزیر اعظم لندن گئے تو پی آئی اے کا جہاز وہاں کھڑا رہا،انہیں کس نے ایسا کرنے کی اجازت دی،لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا، جس نے گلگت گھومنا ہووہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوادیتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ 9 سالوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں،پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابق سربراہ کو واش روم میں بند کردیاتھا،اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی لانے میں دیرکردیتا ہے تو اسے نوکری سے نکالاجاتا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کاقومی اداروں کی حالت زارپربرہمی کا اظہاربالکل بجا ہے۔ سرکاری ادارے معاشی طور پر مفلوک الحال ملک کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں لیکن پی آئی اے سمیت کسی بھی سرکاری ادارے میں پروفیشنلزم نام کی چیز نہیں رہی۔ہر حکومت نے سیاسی مفاد کے لئے قومی اداروں میں تھوک کے حساب سے بھرتیاں کیں۔جو لوگ کسی بھی جگہ نہیں کھپ سکتے تھے انہیں سفارش یا رشوت لے کر سرکاری اداروں میں ملازمتیں دی گئیں اور ان نااہل لوگوں کو جب اختیارات مل گئے تو انہوں نے اداروں کا بیڑہ غرق کردیا۔ پھر اداروں میں یونین بازی کی اجازت دیدی گئی،اور رہی سہی کسر یونین والوں نے پوری کردی۔ اب حالت یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا سٹیل کا کارخانہ پانچ سالوں سے بند پڑا ہے اور ملازمین گھر بیٹھے کروڑوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے، پی آئی اے، واپڈا اور دوسرے قومی ادارے مسلسل خسارے میں جارہے ہیں حکومت کو ہرسال ان اداروں کو چالو رکھنے کے لئے اربوں روپے کابیل آوٹ پیکج دینا پڑتا ہے۔ جو لوگ چوکیدار اور چپڑاسی بننے کے اہل بھی نہیں تھے انہیں محکمہ تعلیم میں استاد بھرتی کیاگیا۔ اورپھر وہ لوگ سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی بھی کرتے گئے۔ہر سال قومی خزانے سے ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس غریب ملک کے حکمران اور اعلیٰ افسران دنیا کے متمول ترین لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔وہ بیرون ملک علاج اور سیروتفریح بھی ملکی وسائل پر کرتے ہیں ان کے بچے بھی یورپ کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑتے ہیں۔انہوں نے یورپ اور امریکہ میں جائیدادیں بنارکھی ہیں اور ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بال بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہوجاتے ہیں جب مرجائیں تو دفن کرنے کے لئے انہیں پاکستان لایاجاتا ہے۔ہمارے سیاست دان بھی سیاسی منظر نامے سے کسی وجہ سے غائب ہوجائیں تو آرام، سیرو سیاحت اور کاروبار کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں پھر انتخابات کے موقع پر نمودار ہوتے ہیں ووٹروں میں بریانیاں، حلوے، ریڑھیاں، کدال اور بیلچے تقسیم کرتے ہیں اور غریب عوام ان وقتی فائدوں کے لئے ووٹ دے کر انہیں کامیاب
کرتے ہیں۔جس کا خمیازہ پوری قوم گذشتہ ستر سالوں سے بھگت رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ اور حکومت وقت کی طرف سے قومی اداروں کی کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ عوام جن اداروں سے تنگ آچکے تھے اب حکمرانوں کو بھی ایسے نقصان رساں اداروں کے حوالے سے احساس پیدا ہوگیا ہے۔ اب وقت ہے کہ قومی وسائل پر پلنے والوں کو گھروں کی راہ دکھائی جائے اور قومی اداروں کی تنظیم نو کی جائے۔خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیم، صحت اور دیگر اداروں کے ملازمین کو این ٹی ایس کے ذریعے جانچنے اور ممبران اسمبلی کو رشوت کے طور پر دیا جانیوالا ترقیاتی فنڈ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھاجس پر عوام نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔ تاہم موجودہ حکمران بھی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوگئے۔میرٹ کی بالادستی قائم کرنے، وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے،اصلاحات کے ذریعے قومی اداروں کو فعال بنانے کی جو امیدیں عوام نے تحریک انصاف سے وابستہ کررکھی تھیں وہ امیدیں وقت گذرنے کے ساتھ ایک ایک کرکے دم توڑتی جارہی ہیں۔


شیئر کریں: