Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جشن نوروز کی تاریخی اہمیت……….محمد آمین

Posted on
شیئر کریں:

لفظ نوروز فارسی زبان کے دو الفاظ نو اور روز سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے،،نئے دن،،مجموعی طور پر نوروز کا مطلب سال کا نیا دن ہے ۔یہ تہوار ماہ بہار کے پہلے دن کی نشابدہی کرتی ہے کہ خزان اور سرما کے سخت مہینوں کے بعد موسم بہار کا اغاز ہو ا ہے جس سے نہ صرف بناتات اور جمادات میں رونق اتی ہے بلکہ عالم ا نسانیت بھی خوش و خروم ہوتی ہے ۔چونکہ قدیم زمانے میں نہ صنعتی ترقی تھے اور نہ موجودہ روزگار کی سہولتیں اور زندگی کے تمام پیہے کا درومدار زراعت پر منحصر تھا اس لئے ماہ مارچ میں کیھتی باڑی کا اغاز ہو ا کرتا تھا اور لوگون کے لیے خوشی کا سمان بھی مہیا ہوتا تھا۔نوروز کی تہوار کی تاریخ بہت پرانی ہے اور صدیوں سے مختلف مذاہب،رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے لوگ اس تہوار کو بڑی عقیدت سے مناتے ارہے ہیں موریخیں کے مطابق جشن نوروز کا اغاز قدیم فارس (موجودہ ایران) کے (achaemedians) جن کا زمانہ0 550-33قبل از مسیح تھاکے زمانے سے شروع ہوئی تھی اور بعض روایات کے مطابق یہ جشن زرتشت کے دور سے شروع ہوا تھاجو اج سے پانچ ہزار سال پہلے ایران میں پیدا ہوا تھا۔
.
شیعہ اسلام کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیاء میں سنی اسلام کے پیروکار اور صوفی،بکتاشی اور بہایائی مکتب کے ماننے والے بھی نوروز کو بڑی احترام سے مناتے ہیں۔جب مسلمانوں نے ۲ ہجری میں ایران کو فاتح کیے تو مختلف وقتوں میں اس تہوار کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ برامد نہ ہو سکا۔نوروز کی تہوار بوای (Buwids) اور سمانی (Samanid)حکمرانوں کے دور حکومت میں اپنے عروج کو پہنچ گئی اور انہوں نے جشن نوروز کو منانے میں زاتی دلچسپی لیے۔تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہاتا ہے کہ منگول ایران اور اس کے زیر تسلط علاقوں پر قابض ہونے کے بعد اس جشن کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے اور اس طرح یہ جشن سرکاری سرپرستی کیساتھ منائی جاتی تھی۔جشن نوروز مختلف مسائل اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی وجود کو برقرار رکھا اور اس کی اہمیت کو کم کر نے کے لیے ایران میں 1979کے اسلامی انقلاب کے دوران بھی کوشش کی گئی تاہم وقت کے گزرنے کے ساتھ تحقیق اور مشاہدے کے بنیاد پر ان کو بھی اس عظیم تہوار کی اہمیت کا پتہ چل گیا۔
.
دور حاضر میں نوروز کا تہوار ایران،افغانستان،تاجکستان،البانیہ،عراقی کردستان،ترکامانستان،آزربائجان،جارجیا اور قازکستان وغیرہ میں عام تعطیل کے طور پر منایا جاتاہے جہان دو سے چار دن تک عام تعطیل ہوتے ہیں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ پاکستان،انڈیا کے شعیہ اسلام کے پیروکا ر بھی اس دن کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔اگرچہ نوروز ایک ثقافتی تہوار ہے جن کے ساتھ صدویوں قبل سے ایران اور مشرق وسطی کے لوگ گہرے طور پر منسلک ہیں۔لیکن شیعہ اسلام میں اس تہوار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جن سے ان کی مذہبی اہمیت بھی ظاہر ہوتی ہے بعض مبصریں کے مطابق جو روایات اس حوالے سے ہیں وہ ان کو مستند مانتے ہیں اور ان روایات کے درستگی کے حوالے سے بہت سے کتابیں موجود ہیں مثلا شیخ طوسی اپنی کتاب مصباح ال متا ہیجت میں ملا بن خانیز کا حوالہ دیکر بیا ں کرتا ہے کہ امام جعفر الصادق (شیعہ اسلام کا چھٹاامام) نے فرمایا تھا کہ

نوروز کے دن غسل کریں اور صاف سھترا کپڑا پہن لیں اور خو شبو لگالیں اس دن روزہ رکھیں نوافل،ظہر اور عصر کے نماز کے بعد چار رکعت نماز ادا کریں پہلی رکعت میں سورہ حمدایک دفعہ اور سورہ القدردس دفعہ تلاوت کریں دوسری رکعت میں سورہ حمد کا ایک دفعہ اور سورہ آلکافروں کا دس دفعہ اور بالترتیب تیسری رکعت میں سورہ حمدایک دفعہ اور سورہ توحیددس دفعہ اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد ایک دفعہ اور سورہ الناس اور الفالق دس دس دفعہ تلاوت کرنے کے بعد سجدے میں جائیں اور اللہ کے حضور شکرانہ پیش کریں اور پچاس سال کی زندگی کے لیے اللہ سبحانہ تعالی سے گناہوں کی معافی طلب کریں
علامہ مجلس باقری اپنے مشہور کتاب بحارولانوار میں امام جعفر الصادق سے روایت بیاں کرتا ہے کہ فرزند رسولﷺ زیل اہم واقعات نوروز کے دن واقع ہونے کا کہا تھا
.
اس دن اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کی تخلیق سے پہلے روحوں سے عہد لیا تھا
اس دن کائینات کا پہلا حرکت (motion) وجود میں ایا تھا
ٓآدم علیہ السلام کا تخلیق نوروز کے دن ہوا تھا
ابراہیم علیہ السلام اس دن بت خانے میں بتوں کو توڑا تھا
نوروز کے دن رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وال والسلام نے حضرت علیؑ کو اپنے کندھے مبارک پر بٹھاکر خانہ کعبہ کے اندر 360 بتوں کو توڑا تھا
پیغمبر اسلام ﷺ نے اس دن غدیر خم کے مقام پرامام علی کی امامت کا اعلان کیاتھا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت بھی اسی دن ہو اتھا
نوروز کے دن آنحضرت ﷺنے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمایا تھا
نوروز کے سلمان فارسیؓ نے اسلام قبول کیا تھا اور نوروز کے موقع پر پیغمبر خدا کے حضور تحفے تحائف لاتا تھا
نوروز کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے علاوہ اس کی بین الاقوامی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ جب 2010 ٗ میں آقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21مارچ کو نوروز کا بین الاقوامی دن(International Day of Navroz )کے طور پر منایا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ایران کی موسم بہار کی جشن ہے جس سے ایران کے لوگ تین ہزار سے زیادہ سالوں سے مناتے ہیں اور ساتھ ہی دینا کے ممالک پر زور دیا گیاکہ وہ اس عظیم تہوار کو آمن اور خیر سگالی کی فروغ کے لیے استعمال کریں۔اس کے بعد 2009 میں نوروز کو یونیسکو کے (intangible heritage) کے لسٹ میں شامل کیا گیا۔المختصر اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں اس اہم تہوار کی نہ صرف تحفظ کرنا چاہیے بلکہ اس کی ترقی اور فروغ میں ہر ممکن کوشش کریں تاکہ اس سے امن اور ہم اہنگی کے علامت کے طور پر استعمال کریں اور یہ دور حاضر کی ضرورت بھی ہے جو کہ تشدد ادر عدم استحکام سے بھر ا ہوا ہے اور جشن نوروز ان عالمی رسمات میں سے ہے جو لوگوں کو ایک ساتھ بیھٹنے اور ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے اگر اس دن ریاضت نیازت کیا جائے اور اللہ پاک کے حضور دعا و معفرت کی جائے تو اس سے اسکی اہمیت و فضلیت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔


شیئر کریں: