Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بیمار ٹیم اور جیت کا خواب …………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دو ٹوک انداز میں اعلان کیا تھا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ابھی وزیراعظم کے خطاب کی صدائے بازگشت تھمی بھی نہ تھی کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ایک مہینے کے دوران بجلی کے نرخوں میں تیسری بار اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی اور نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی والے بھی بیکار بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ درخواست موصول ہوتے ہی ان کی سماعت کی تاخیر مقرر کردی۔ پاکستان کا عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمارا وزیراعظم بے اختیار ہے یا پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتیں مقرر کرنے والے ریاستی اختیار سے باہر ہیں۔پاور پرچیزنگ ایجنسی نے گذشتہ سال ماہ نومبر کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 0.98روپے اضافے کے حوالے سے نیپرامیں درخواست دائر کی ہے ماہ دسمبر کیلئے سی پی پی اے نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2.01 روپے جبکہ جنوری 2020 کیلئے فی یونٹ قیمت میں 1.48 روپے اضافے کی درخواست کی ہے۔ سی پی پی اے کی تینوں درخواستوں پر سماعت 25 مارچ کو نیپرا میں ہو گی۔سی پی پی اے کے مطابق ماہ نومبر میں 7 ارب 20 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہوئی جس پرکل لاگت 25 ارب روپے رہی ہے۔ دسمبر میں 7 ارب 30 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی،کل لاگت تقریبا 47 ارب روپے رہی۔جنوری 2020 میں 7 ارب 33 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، کل لاگت تقریبا 53 ارب روپے رہی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نومبر میں سات ارب بیس کروڑ یونٹ بجلی پر خرچ پچیس ارب روپے آیا۔دسمبر میں سات ارب تیس کروڑ پر سنتالیس ارب کس خوشی میں خرچ کئے گئے اور جنوری میں سات ارب تینتیس کروڑ یونٹ پر ترپن ارب روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے۔عوام کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر ان کی چمڑی ادھیڑنے کا عمل طویل عرصے سے جاری ہے۔ملک میں سب سے زیادہ بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے جس کی قیمت چھ سے سات روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ مان لیتے ہیں کہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی ہماری ضروریات کے لئے ناکافی ہے اس لئے شمسی توانائی، جوہری توانائی، کوئلے اور تیل سے بھی بجلی پیدا کی جاتی ہے۔سب ملاکر بھی فی یونٹ پیداواری لاگت بارہ روپے یونٹ سے زیادہ نہیں بنتی جبکہ عوام سے درجن بھر ٹیکسز، سرچارجز، اضافی سرچارجز، مخصولات، نیلم جہلم بھتہ اور ٹی وی ٹیکس ملاکرتقریبا اٹھارہ روپے فی یونٹ وصول کئے جاتے ہیں۔خرچہ دو سو یونٹ سے بڑھ جائے تو فی یونٹ لاگت بیس روپے اور تیس سویونٹ سے بڑھ جائے تو بائیس روپے یونٹ وصول کئے جاتے ہیں۔لائن لاسز کے نام پر خسارہ بھی بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ اور لائن لاسز میں واپڈا اور مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے بیس ہزار سے زیادہ ملازمین کو مفت ملنے والی بجلی بھی شامل ہے۔ہر ملازم پانچ سو یونٹ ماہوار بجلی خرچ کرنے کا مجاز ہے۔بیس ہزار ملازمین ہر مہینے ایک کروڑ یونٹ بجلی مفت خرچ کرتے ہیں۔میٹر ریڈرز کی کمال مہربانی سے اس ملک میں ہزاروں لوگ کنڈے لگا کر مفت بجلی حاصل کرتے ہیں کچھ لوگ محکمے والوں کی مٹھی گرم کرکے میٹر کی ریڈنگ میں گھپلے کرتے ہیں گھروں میں چار چار ائرکنڈیشنر لگانے کے باوجود ان کا بل ہزار پندرہ سو سے زیادہ نہیں آتا۔خیبر پختونخوا کے بعض بندوبستی اور اکثرضم شدہ قبائلی علاقوں میں بجلی کا بل ادا کرنے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ ان صارفین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جو گھریلو میٹر پر کارخانے چلاتے ہیں۔وفاقی اور صوبائی محکموں کے سینکڑوں ادارے خالہ جی کا گھر سمجھ کر بجلی ضائع کرتے ہیں اور یہ محکمے برسوں سے نادہندہ ہیں ان کے ذمے بقایاجات لاکھوں کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں ہیں لیکن واپڈا والے ان کی بجلی کاٹ سکتے ہیں نہ ہی ریکوری کرسکتے ہیں۔یہ سارا بوجھ طوعاً و کرہاً ہرمہینے باقاعدگی سے بل اداکرنے والوں کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے حال ہی میں پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ اگر ادارہ چلانا ہے تو مفت خوروں کی چھٹی کرنی ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کو قوم کے ساتھ اپنے وعدے کی لاج رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز فوری طور پر رد کرنی چاہئے، واپڈا اور تقسیم کار کمپنیوں کی تطہیر کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔بیماروں کی ٹیم کے ساتھ صحت مند ادارہ چلانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اس غریب قوم کی چمڑی کے ساتھ گوشت پوست بھی نوچ لیا گیا اب ہڈیوں کا یہ ڈھانچہ مزید لوٹ مار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔


شیئر کریں: