Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ……….. ہرا سا نی ہی ہرا سانی؟…….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

ہرا سا نی یعنی انگریزی ہراسمنٹ (Harassment) کی روک تھا م کے لئے وفا قی محتسب بننے کے بعد خا تون سیا ستدان کشما لہ طارق کا پہلا بیان منظر عام پر آیا ہے آپ فر ما تی ہیں کہ میرے محتسب بنتے وقت ہراسانی کے صرف 5مقدمے آئے تھے اب ان مقد مات میں 13گنا اضا فہ ہوا ہے یہ بیان پڑھ کر مجھے ایک واقعہ یا د آیا کراچی میں آبادی کی نقل مکا نی سے پیدا ہونے والے سما جی مسائل پر سیمینار تھا سیمینار کی ایک بھر پور نشست میں ایک خا تون کودعوت خطاب دیا گیا محترمہ پا کستان میں ایچ۔آئی۔ وی ایڈز کے انسداد سے متعلق پرو گرام کی سر براہ تھیں محترمہ نے پاور پوائنٹ کی مدد سے زبردست لیکچر دیا اس میں انہوں نے کہا کہ جب میں اس پرو گرام کی سر براہ بنی تو ملک میں صرف 12بیمار تھے مجھے اس پر وگرام میں 5سال ہو گئے اب خدا کے فضل و کرم سے ملک کے اندر 4ہزار لو گHIV AIDمیں مبتلا ہیں لیکچر کے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا میرے پہلو میں پلا ننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین ندیم الحق بیٹھے تھے مو صوف نے ما ئیک لیکر سوال کیا محترمہ بیما روں کی تعداد کا 12سے بڑھ کر 4000ہو نا آپ کی کامیا بی میں شمار ہوگا یا اس کو نا کامی کا نام دیا جائے گا؟ مو صوفہ کے پا س اس کا ٹکنیکل جواب تھا مگروہ جواب نہ دے سکیں بات کو ویسے ہی گول مول کر دیا کشما لہ طارق کے دیئے ہوئے اعداد شمار کو پڑھنے کے بعد بہت سارے قارئین کے ذہنوں میں سوال مچل مچل کر انگڑائیاں لینے لگیگا کہ محترمہ آپ کا کام ہرا سانی کو روکنا ہے یا اس کو ترقی دینا ہے؟ مو صوفہ نے اپنے بیان میں چند ایسے اشارے دیئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہراسانی کو ترقی دینے کے نت نئے طور طریقے منظر عام پر لائے جارہے ہیں مثلاً محترمہ فر ما تی ہیں کہ مدعیہ اگر کہے کہ فلان نے مجھے مس کا ل دیا تو یہ بھی ہراسان کرنے کے زمرے میں آتا ہے اگر وہ دعویٰ کرے کہ فلان نے مجھے فرینڈریکویسٹ بھیجا تو یہ بھی ہرا سان کرنے کی کو شش تصور کی جائیگی مس کال اصل میں مسڈ کال (Missed Call) یعنی فون کی گھنٹی بجی لیکن فون نے جواب نہیں دیا اس کو مختصر کر کے یا بگاڑ کر مس کال کہا جا تا ہے یہ عام سی بات ہے اس طرح کی دو چار اور چیزوں کو ہرا سانی کے زمرے میں ڈال دیا گیا تو ما شا ء اللہ محترمہ کے دفتر میں شکا یا ت کا انبار لگ جائے گا اور مو صوفہ نہا یت فخر کے ساتھ قوم کو بتا سکینگی کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہرا سانی کے 50لاکھ واقعات رپورٹ کئے گئے انسداد ہراسانی کی محتسبہ نے ہرا سانی کی مزید صورتوں کا ذکر کر کے یہ بھی کہا ہے کہ اگر مدعیہ دعویٰ کرے کہ فلاں نے مجھے تر چھی نظروں سے دیکھا تھا تو یہ بھی ہراسانی کے ضمن میں شمار ہو گا جہاں تک اس جرم کو ثا بت کرنے کا تعلق ہے تو یہ فیس بک اور سیل فون یا ٹوئیٹر کی طرح آسان نہیں مد عا علیہ کی نظروں کو کسی بھی زاویے سے ثا بت نہیں کیا جا سکتا حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کے لفظ ہراسمنٹ (Harssment) میں جسما نی چھیڑ چھا ڑ اور جنسی چھیڑ چھاڑ کے معا نی شا مل تھے فیسبکی یا ٹیلفو نی چھیڑ چھاڑ جدید زمانے کی باتیں ہیں ان کو شامل کرنے کے بعد اس کا دائرہ کا فی حد تک وسیع ہو اہے مگر مد عیہ کو شک کا فائدہ دیکر دوسرے فریق پر الزام ثا بت کرنا جوئے شیر لانے کے مترا دف ہے ایک قا ضی کا واقعہ تاریخ کی مستند کتا بوں میں آتاہے اُس کی عدا لت میں جب ہراسانی کا مقدمہ آیا تو انہوں نے دونوں طرف سے دلا ئل سننے اور گوا ہوں پر جرح کرنے کے مرا حل طے کرنے کے بعد سوئی اور دھا گہ منگوایا سوئی اپنے ہاتھ میں رکھا دھا گہ مد عیہ کے ہاتھ تھمانے کے بعد کہا اب سوئی کے نا کے میں دھا گہ ڈا لو دو چار بار کو شش کے بعد وہ کامیاب نہیں ہوئی تو اُس نے قا ضی سے کہا تم سوئی کو ادھر ادھر گھما تے ہو قاضی نے کہا کہ مد عا علیہ کے ہاتھ میں دھا گہ تھا سوئی تو ان کے ہاتھ میں نہیں تھی سوئی والا ہاتھ احتیاط سے کا م لیتاتو دھا گے کی مجا ل نہیں تھی کہ سوئی کا نا کہ دیکھ پائے اس بات کوانگریزی قانون میں یوں پڑھا جا تا ہے کہ فریقین کی با ہمی رضا مندی شا مل ہو تو جسما نی یا جنسی ہرا سا نی کا مقدمہ نہیں بنتا اس جرم کا مقدمہ اُس وقت بنتا ہے جب فریق دوم کی رضا مندی اس ہرا سانی میں شامل نہ ہو گویا 50فیصد گنجا ئش مو جود ہے یہی حال فیس بکی اور ٹیلیفونی ہرا سانی کا بھی ہے کشما لہ طارق نے اپنے دفتر کی کارکر دگی کا ذکر کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ 15دنوں کے اندر مقدمہ نمٹا دیا جا تاہے گو یا ہر طرف ہرا سانی ہی ہراسانی ہو کہیں آنکھوں کے ذریعے کہیں فیس بک اور ٹیلیفو ن کی مدد سے اور کہیں روا یتی چھیڑ چھاڑ کی صورت میں تب بھی ان کا دفتر شکا یت سننے کے لئے ہر وقت کھلا رہے گا اور شکا یت کنندہ کو انصاف ملے گا۔


شیئر کریں: