Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیرصحت اورچیف سیکریٹری کے زیرصدارت اجلاس، کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اہم فیصلے

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌ حکومت خیبر پختونخوا نے کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے اور صوبے میں اس وائرس کے پھیلاوٗ کو روکنے کیلئے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں تمام انتظامی سیکرٹریوں اور اہم سٹیک ہولڈروں نے صوبے میں کورونا وائرس کے خوف اورپھیلنے کو روکنے پر غور کیا اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے طریقہ کار تیار کیا۔ اجلاس میں لیوی سنٹر شاہ کس میں 150بستروں کا علیحدہ سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کوطور خم بارڈر سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے مشتبہ کیسوں کو سنٹر میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام تدریسی اور انتظامی عملہ اداروں میں حاضری نہیں کرے گا سوائے میڈیکل کالجز اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کا عملہ جن کی مریض کی دیکھ بال کیلئے ضرورت ہوتی ہے یعنی کہ تمام انتظامی اور نان کلینیکل سٹاف حاضری نہیں کرے گا۔
.
مزید برآں محکمہ صحت اضافی انسانی وسائل کے سلسلے میں اپنی ضرورت کو حتمی شکل دے کر پیش کریگا اور پیشہ وارانہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز، پیر امیڈیکس، پبلک ہیلتھ سکولوں اور نجی شعبہ کے طلباء کی خدمات کے استعمال پر بھی غور کر یگا۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ محکموں کے سیکرٹریز ڈائریکٹوریٹس اور ملحقہ دفاتر کے غیر ضروری ملازمین کی 15دنوں کیلئے دفاتر نہ آنے کی نشاندہی کریں گے جسکو چیف سیکرٹری کے دفتر میں حکمنامے کیلئے جمع کیا جائے گا۔ مزید برآں سیکرٹریز،محکموں،ڈائریکٹوریٹس،ملحقہ دفاتر، اتھارٹیز، نیم خود مختار اداروں اور ضلعی دفاتر میں غیر ضروری عملے کی نشاندہی کریں گے تا کہ انکو اگلے 15دنوں کیلئے چھٹیاں دی جائیں۔ جبکہ جو دفتر ضروری سمجھا جاتا ہو اس میں ضروری کام کیلئے کم سے کم عملہ رکھا جائے گا۔
.
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 50سال سے زائد عمر کے ملازمین جن کو سنگین نوعیت کی بیماری جیسے دل کی بیماری اور شوگر وغیرہ ہو تو ان کو15دن کی چھٹی دی جائے گی خواتین ملازمین کو بھی 15دن کی چھٹی دی جائے گی۔تما م غیر سرکاری ملاقاتیوں کو استقبالیہ ڈسک پر ہی نمٹانے کو ترجیح دی جائے اور محکمہ اطلاعات عوام النا س کو یہ آگاہی دے گا کہ اگلے پندرہ دن تک دفاتر میں جانے پر پاپندی ہو گی، نجی تقریبات بشمول شادی بیاہ اور دیگر فیسٹولز کے شادی ہالوں اور مساجد وغیرہ میں منا نے پر پہلی ہی پاپندی عائد کر دی گئی ہے یہاں تک کہ ان جیسی تقریبات کے کھلے مقامات اور جگہوں پر منانے پر بھی پاپندی عائد کر دی گئی ہے۔محکمہ آر آر اینڈ ایس (RR&S)این ڈی ایم ایکٹ 2010کے تحت اس سلسلے میں با قاعدہ اعلامیہ جاری کرے گا۔
.
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ڈویژنل کمشنرز اور سیکرٹری اوقاف باہمی روابط سے آئمہ کرام اور خطباء سے کہیں گے کہ وہ اپنے اجتماعات میں عوام الناس کی جانکاری کیلئے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے بتائیں۔ اس جانکاری میں یہ بھی شامل ہو گا کہ نمازوں کو کھلی جگہ پر اور شفٹوں میں ادا کیا جائے، دو صفوں کے درمیان فاصلہ بڑھایا جائے اور بوڑھوں اور بچوں کو گھر پر نماز پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔ اہم اور ضروری بھرتیوں کے علاوہ تمام بھر تیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔سیکرٹری محکمہ خوراک، ضروری اشیاء خوراک کی فراہمی کی کٹری نگرانی کریں گے اور ذخیرہ اندوزی کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات پر عملدرآمد کریں گے۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کے حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
.
سیکر ٹری محکمہ خوراک، ہدف شدہ مخصوص کارروائیوں کیلئے سنگین ذخیرہ اندوزوں کی فہرست بھی تیار کریں گے۔محکمہ انتظامیہ، اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذریعے صوبائی اسمبلی کے تمام ممبران کو ایڈوائزری (مشورہ)جاری کرے گاکہ وہ اپنی رہائش گاہوں اور حجروں میں سماجی اجتماع وغیرہ منعقد کرنے سے پرہیز کریں۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ، تمام صوبائی سرکاری ملازمین کو ہدایات جاری کرے گا کہ وہ سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو اس پر قائل کریں او راپنی نجی زندگیوں میں بھی ایسے اجتماعات سے گریز کریں جہاں پر سماجی فاصلہ یقینی نہ ہونے کا خطرہ ہو۔


شیئر کریں: