Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چین چترال اور قاضی کے چٹخارے……….پروفیسراسرارالدین

Posted on
شیئر کریں:

نپولیٔن ( 1821۔1769)نے کہا تھا “چین ایک سویا ہوا جن ہے،اس کو سوتا رہنے دو کیونکہ جب یہ جاگے گا، تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا”
.
چین (1948)میں جاگ گیا اور ستر سالوں کے اندر اندر دنیا کو ہلا نے لگا ہے۔یار لوگ اس جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو بھی عمل بد دیانتی پر مبنی ہو،وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس جن کو آج کل ہر کویٔ دیکھنا چاہتا ہے، ہر کویٔ وہاں جانے کا شوقین ہے اور ہرایک وہاں کی ترقی کا راز معلوم کرنے میں کوشاں ہے۔
چترال کا ایک مہم جو فرزند، قاضی عنایت جلیل بھی ان بے شمار لوگوں میں سے تھا جن کو بچپن سے چین جانے کا شوق تھا۔ان کا تعلق اپر چترال کے واشچ نامی ایک اہم گاؤں سے ہے۔میں اکثر چترال کے مختلف دیہات کے ناموں کے ماخذ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں، ان میں ایک نام سنسکرت میں ہے تو دوسرا فارسی میں،تیسرا ہندی میں یا کسی بڑے آدمی کے نام پر۔ ان میں سے کچھ نام چینی زبان میں بھی ہیں جیسا کہ مجھے لگتا ہے کہ مصنف کے گاؤں واشچ بھی اندازتاً مجھے چینی لگتا ہے (ممکن ہے کہ میری راۓ غلط ہو)۔
اتفاق سے واشچ کا یہ باسی بچپن سےچین اور چترال کے بارے اپنے بڑوں سے کہانیاں سن کراور اپنے گھر میں چینی برتن استعمال کرکے(توڑ توڑکے) جوان ہو گیا تھا۔ ساتھ ساتھ چین جانے کا شوق دل میں پالتا رہتا تھا۔ آخر کار، قدرت نے کچھ ایسی بندوبست کردی کہ ان کو تین ہفتوں کے لیٔے چین کے دورے کا موقع میسر آگیا۔وہ اس طرح ممکن ہوا کہ پاکستان کے مختلف صوبوں، وفاق، کشمیر اور گلگت بلتستان سے (32) افراد جو ہلال احمر پاکستان،نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ،پنجاب ایمرجنسی سروسس، وفاقی وزارت اطلاعات ،سی ڈی اے، موٹروے پولیس، بلوچستان سیکریٹریٹ جیسے اداروں کی اہم شخصیات کو چین بلایا گیا۔ ان میں چترال کا یہ شیر قاضی عنایت جلیل بھی شامل تھا، جو چترال والوں کے لیے فخر کا مقام ہے۔
.
قاضی عنایت ایک محںتی اور سیلف میڈ نوجوان ہیں۔ اپنی محںت کے بل بوتے پر اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک انسان دوست اہم ادارے میں نہ صرف ملا زمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ بلکہ اس میں بھی اپنے کردار اور اخلاق سے اپنے لیٔے اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔میں ہمیشہ یہ سوچا کرتا ہوں کہ چترال سے تعلق رکھنے والے ہمارے نوجوان جو چترال سے باہر مختلف اداروں میں کام کر رہے ہیں، چترال کے نمایٔندے ہوتے ہیں۔ وہ اچھے کام کریں گے تو نہ صرف ان کو خود فایٔدہ ہوگا بلکہ ان کی وجہ سے چترال کا نام بھی روشن ھوگا۔
قاضی عنایت کو جہاں تک میں جانتا ہوں، وہ ایک ہمہ جہت انسان ہیں۔ ایک اچھے براڈ کاسٹر ہیں اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ ریڈیٔو خیبر پختون خوا سے بھی ہوا کے دوش پر سب کی سماعتوں کو فرحت بخشتا رہتا ہے۔ دو سال تک خیبر ٹی وی سے داد لیتے رہے۔ کیٔ ثقافتی انجمنوں سے تعلق رکھتا ہے اور انجمں ترقی کھوار حلقہ پشاور کا بانی اور 13 سالوں تک صدر رہنے کے بعد، اس وقت سرپرست اعلٰے کے عہدے پر فایٔز ہیں ۔لکھنا لکھانا تو ان کا اُڑھنا بچھونا ہے۔
.
ایسی شخصیت، چین جاۓ اور واپس آکے کچھ لکھے بغیر چیٔن پاۓ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اپنی بے چیٔنی کو جانان چینی کی صورت میں پیش کرکے چاۓ کی پیالی میں طوفان بپا کردی۔ تین ہفتوں کے دوران 114 صفحات کی ایک ایسی کتاب چین پر لکھ ڈالی جس میں 48عنوانات پر خیال آرایٔ کی گیٔ ہے۔چین ایک وسیع و عریض ملک ہے، جس کی تاریخ بھی کیٔ ہزار سالوں پر محیط ہے۔نہ صرف پرانے لوگوں کے لیٔے عجوبہ تھا بلکہ آج بھی اپنی بے پناہ ترقی کی وجہ سے دنیا کی نظروں میں چبتی ہے۔ اس کے بارے میں ہزاروں کتابیں لکھی جاچکی ہیں، جن میں اس کی تاریخ، سیاست،ثقافت،معاشرت، معیشت، جعرافیہ وغیرہ پر بحث کی گیٔ ہے۔اس حوالے سے قاضی صاحب ان تمام موضوعات کا نچوڑ پیش کرتے ہیں۔ انگریزی، فارسی، اردو اور کھوار ادب کے معروف اسکالرپروفیسر ڈاکٹراسماعیل ولی اخگر صاحب نے اس کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوۓ فرماتا ہے”میں قاضی کی کتاب جانان چینی کو جام جمشید سے تعبیر کرتا ہوں جس میں قاری کو ایسی معلومات (شماری اوربیانی انداز میں) پڑھنے کو ملتے ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لیٔے انسایٔکلو پیڈیا کی ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔(صفحہ ۱۱)۔
سفرنامہ لکھنے کے لیٔے چند باتیں ضروری بتایٔ جاتی ہیں۔ایک یہ کہ اس ملک کے بارے میں آپ پہلے سے ہی کافی معلومات رکھتے ہو، اس لیٔے کہ وہاں اجنبی ہوتے ہوۓ بھی اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہ کریں۔ اس طرح وہاں اپنی مشاہدات کی بدولت،آپ جو معلومات حاصل کرسکیں گے ، وہ ان معلومات پر آپ کی طرف سے اضافہ ہوگا اور پڑھنے والوں کے لے مزید دلچسپی کا باعث ہوگا۔ یہ کتاب اس معیار پر بدرجہ اتم پوری اترتی ہے۔
.
لکھاریوں کی مثال آرٹسٹوں کی مانند بتایٔ جاتی ہے۔ وہ اپنی تحریروں کو اس انداز میں پیش کریں،گویا کہ وہ لوگوں کو اس مقام کی تصاویر پیش کر رہا ہو دلچسپ اوردلکش پیراۓ میں واقعات کا تانابانا ایسا بنیں کہ پڑھنے والا، لکھنے والے کی گرفت میں رہے۔اس کتاب کی بڑی خوبی یہ یہی ہے کہ جب قاری ایک بار کتاب پڑھنا شروع کرتا ہے تو کبھی قاضی کے چٹکلے، کبھی چٹخارے، کبھی معلومات سے بھرپور باتیں، کبھی کویٔ منظرکشی ، کبھی کیا کبھی کیا، قاری کو ایسے جگڑ لیتے ہیں کہ جب وہ ہوش میں آتا ہے تو کتاب کا آخری صفحہ اور رات کا پچھلا پہر گزر چکا ہوتا ہے۔
.
قاضی کی کتاب پہ بحث کرنے سے پہلے، میں یہ بتاتا چلوں کہ چین کے حوالے سے یہ چترالی لکھاریوں کی طرف سے تیسرا سفر نامہ ہے۔ اس سے پہلے چترال کے معروف لکھاری ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے چین بہ جبین کے نام سے ایک شاہپارہ تخلیق کرچکا ہے جو اپنی مثل آپ ہے۔ اس کے ایک عشرے بعد چترال سے تعلق رکھنے والے عظیم قاری اور مصنف قاری بزرگ شاہ الازہری نے چ سے چین تک کے نام سے ایک خوبصورت کتاب طبع سے آراستہ کر چکا ہے اور عنایت جلیل قاضی اپنی کتاب کو شایع کرکے اس سلسلے میں ایک اور نایاب باب کا اضافہ کیا ہے جس پراس کالم میں تفصیل سے بحث ہوگی۔
میرا جی چاہتا ہے کہ اس کتاب پر بہت کچھ لکھوں لیکن طوالت کے خوف سے چند باتوں پر اکتفا کروں گا۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ قاضی نے چین اور چترال کے تعلق پر خوبصورت انداز میں خاصا لکھا ہے۔ میں اس پر کچھ اضافے کی اجازت چاہوں گا۔
.
میں Tang Annalsسب سے پہلے چترال کا حوالہ، تاریخ میں ملتا ہے جو ساتویں اورآٹھویں صدی عیسوی سے تعلقق رکھتا ہے اس میں چین کے بادشاہ ہیون سنگ،چترال کے بادشاہ پوٹیمو کو اپنے جنرل کوہین چی کے ذریعے شکست دینے کا واقعہ تفصیل سےبیان کیا ہے اور قاضی نے بھی اس کا مختصرً ذکر کیا ہے۔اس کی تفصیل سر ارل اسٹایٔن نے اپنی کتاب سرِ انڈیا میں اپنے دورہ چترال(1906) میں درج کیا ہےجس کا مکمل ترجمہ میں نے اپنی کتاب”تاریخ چترال کے بکھرے اوراق” میں صفحات36تا56 میں کیا ہے اور اس کتاب میں یہ کہانی تفصیل سے پڑھی جاسکتی ہے۔جب کوہین چی چترال کے بادشاہ پوٹیمو کو شکست دیتا ہے تو اس کے بھایٔ سوچی کو بادشاہ مقرر کرکے یہ فرمان جاری کرتا ہے کہ”تم اور تمہارے اباؤاجداد، نسل در نسل ہمارے پورے وفادار اور مخلص رہے ہیں۔ ایک دور دراز ملک میں قیام پزیر ہونے کے باوجود تم لوگ عرصہ دراز سے عقلمندی کا ثبوت دیتے آرہے ہو۔ آپ لوگ اپنی بہادری،عدل و انصاف کی وجہ سے بہت نامور اور ممتاز رہے ہو۔ حالیہ زمانے میں پوٹیمو (چھوٹے بھای ہونے کے ناتے)فرزندانہ رویہ نہیں اپنایا اور نہ چینی سلطنت سے وفاداری کا دم بھرا اور تمہیں بہت زیادہ نا انصافی کا شکار ہونا پڑا، عرصہ دراز تک تمہیں دباۓ رکھا، تمہیں غیر مقبول بنایا جاتا رہا۔ اب اس گمراہ بادشاہ کو ختم کیا جا چکا ہے اور بدمعاش سازشیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ آپ نے بلا حیل و حجت، چینی سلطنت کو اپنی وفاداری،عقیدت اور خلوص کی پیشکش کی ہے۔ ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کے لے رحم دلی اور خیر اندیشی کی جذبات کا اظہار کیا ہے”
.
آسٹین کے مطابق ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت چترال کا نام قاشقار ہی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حالیہ زمانے میں جو تاویلات (کاشغر خورو یا کاشغر کی بگڑی ہوی صورت پیش کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ آج کل ہمارے اپنے زمانے میں جو بشقار یا تاشقار جیسے نام کا ہونا کویٔ اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ہمارے چترال کی تاریخ لکھنے والے بعض حضرات دور کی کوڑی لانے کے بہت ماہر ہیں۔ ان کو دیکھا دیکھی میں بھی ایک دورکی کوڑی لانے کی کوشش میں یہ “سوچنے کی خوراک” پیش کرتا ہوں کہ یہ سوچیہہ کہیں سومالک تو نہیں؟ اگر نہیں بھی تھا تو ٹھیک ہے ناراض نہ ہو۔پوری کتاب میں، صرف ایک جگہ پر میں نے اپنے آپ کو قاضی عنایت سے متفق نہیں پایا۔اپنی کتاب کے صفحہ 16 پر لکھتا ہے “یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کھؤ قبیلہ بنیادی طور پر چینی النسل ہے اور 230قبل مسیح میں چین سے آکر بالایٔ چترال کی وادیوں(تورکھو، موڑکھو) میں آباد ہوا۔ یہ لوگ زیادہ ترغاروں میں رہتے تھے تو دیگر اقوام نے ان کو کھؤ (غاروں مین رہنے والے لوگ) کہا تب سے ان کو یہ نام پڑگیا۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ شایٔد کچھ کھؤ چینی النسل ہو سکتے ہیں لیکن تمام کھؤ قبیلوں کو چینی النسل قرار دینا حقیقت کے خلاف لگتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قبل مسیح 230 کے حوالے سے اگر کسی نے تاریخ دی ہے تو اس کے پاس مصدقہ حوالہ بھی ہونا چاہیٔے اور براہ مہربانی وہ حوالہ بتایا جاۓ۔تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ کھؤ قوم کے حوالے سے اتنا پرانا تاریخی حوالہ موجود دہے۔ تیسری بات کھوہ والی تھیوری ہے۔ نہ معلوم یہ تھیوری کس نے بنایٔ؟ اور ہمارے اچھے بھلے لکھنے والوں نے اس تھیوری کو استعمال کر نا شروع کرنے لگے ہیں۔ کھوہ ایک ہندی لفظ ہے جو غار کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے۔اگر واقعی یہ تھیوری صحی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نام کس نے دیا؟ کیا چینی زبان میں بھی کھوہ غار کو کہتے ہیں؟تاکہ ہم اندازہ لگا سکے کہ یہ نام چینیوں نےانہیں دیا ہوگا اور اس کو اتنا مشہور کیا ھوگا کہ یہ نام ہمیشہ کے لیۓ ان کا حصہ بن گیا ہوگا۔تورکھو یا موڑ کھو میں کیا ایسے بڑے غار موجود ہیں کہ جس میں سینگڑوں یا ہزاروں لوگوں رہتے ہوں گے۔کیایہ لفظ کھوہ ہے یا کھوو ہے۔مغربی لھکنے والے کھوو کھو لکھتے ہیں۔اس پر میری مارگنٹین سے بات ہویٔ تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ یہ کھو نہں کھوو ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوۓ۔ایک دفعہ میں نے یہ بات مرحوم مولا نگاہ سے کی کہ کیا یہ لفظ کھوہ ہے یا کھوو تو انہوں نے کہا کہ یہ کھوو ہے تو اگر یہ لفظ کھوو ہے تو کھو کہاں سے آیا۔ چترالی زبان میں کہیں بھی لفظ کھو نہیں ہے۔(برسبیل تزکرہ اسلام آباد کے ساتھ ایک جگہ بارہ کھو ہے لیکن وہاں کے مکین اپنے آپ کو کھوہ نہیں کہتے۔ البتہ اب چترال کے باشندے بہت زیادہ تعداد میں وہاں آباد ہورہے ہیں اور کسی دن یہ دعوی کریں کہ یہ ہم سے منسوب ہونے کی وجہ سے بارہ کھوو کہلاتا ہے)
.
اسی طرح کھوار زبان کے حوالے سے کچھ لکھاری لکھتے ہیں کہ موڑکھو میں ایک پتھر کا نام کھو بوخت ہے جس پر بیٹھ کر ہمارے آباواجداد نے یہ زبان ایجاد کی تھی گویا یہ زبان نہیں حلوہ ہے۔ ایسے لکھنے والوں کو علم ہی نہیں کہ یہ زبانیں کیسے وجود میں آتی ہیں اور بین الاقوامی زبانوں میں کھوار کہاں پر فٹ ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے بیٹھ کر زبان ایجاد کی ہوگی، ان کی اپنی بھی تو کویٔ زبان ہوگی، اور نت نیٔ زبان ایجاد کرنے کی کیا ضرورت پیش آیٔ تھی۔ فطرتی زبانوں کی جھرمٹ میں ایک غیر فطرتی زبان بنانے کی کوشش پولینڈ کے ایک سکالر اسپرانتو نے۱۸۸۷میں کی تھی جس نے ایک نیٔ زبان بناکر اس کو دنیا میں رایج کرنے کی کوشش کی ، اس کی گرامر تک بناڈالا،لٹریچر تخلیق کیا مگر ایک صدی کے بعد، اِس وقت اُس کا کویٔ نام ونشان تک نہیں۔زبان کویٔ ایسی چیز نہیں جس کو غیر فطری طور پر وجود میں لایٔ جاسکے۔
.
قاضی کی کتاب پر بات کرتے کرتے بات بہت سنجیدہ سی ہوگیٔ ہے تو کیوں نہ ان کی کتاب سے کچھ چٹخارے پیش کروں، لو جی ان کی کتاب سے کچھ چٹخارے پیش خدمت ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب قاری کو بور ہونے نہیں دیتی،
بیجنگ کے ہوایٔ اڈے پر چینی میزبان ان کے سامنے آتے ہی ان سے نہاؤ کہتا ہے تو قاضی پریشان ہوجاتا ہے۔ قاضی لکھتا ہے”میں بڑا پریشان ہوا، یہ اچانک نہانے کی بات کہاں سے آگیٔ۔ اسی دوران اس نے ایک بار پھر کہا نہاؤ،میں نے اپنے آپ کو سونگھنا شروع کیا کہیں مجھ سے بو تو نہیں آرہی۔ آخر کار ساتھ کھڑے سیانے سے پوچھا کہ یار یہ کیا با بار نہاؤ نہاؤ کہہ رہاہے، آتے ہوۓ میں نہاکے آیا ہوں۔ سیانے نے کہا کہ ارے بھولے یہ نہاو نہیں بلکہ نی ہاو کہہ رہاہے جو چینی زبان میں سلام یا کیسے ہوہے؟
چین پہنچ کر گھر سے رابطہ کرنا قاضی صاحب کے لیٔے ایک مسلہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہاں باہر کی دنیا کا ہرنیٹ ورک ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اس کا ذکر ایک چینی میزبان خاتون سے کرتا ہے جو خوبصورت بھی ہے اور خوب سیرت بھی۔یہ خاتون اپنے دفتر کے لینڈ لایٔن سے فون پہ بات کرانے کی پیشکش کرتی ہے۔چنانچہ قاضی صاحب گھر میں بیگم اور دفتر میں باس سے مختصر بات کرتا ہے اور ان کی پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔ بقول قاضی”میری بیگم اور میرا باس دونوں میرے لاڈلے ہیں، گھر پہ بیگم کو سسنا پڑتا ہے اور دفتر میں باس کو۔ ان دونوں میں ایک بات قدر مشترک ہے کہ دونوں بہت اچھے اور میرے ساتھ مخلص ہیں”
قاضی کی کتاب میں چترال کے مشہور پرندہ کیشیپی کا بھی ذکرخیر موجود ہے جو وہاں بھی پایا جاتا ہے۔ اس پرندے پر زندگی میں پہلی بار پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی اخگر نے ایک تعریفی نظم لکھی،
.
بو وفادار مہ کیشیپی۔ لیل النہار مہ کیشیپی
چین مین شاپنگ اور بارگینگ کے حوالے سے قاضی کی تحریر دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ ۸۶۰ یوان کی چیز ۸۰ یو ان میں خریدنا بھی ایک انوکھی بات ہے۔ اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آرہا ہے کہ دو پاکستانی لڑکیاں ایک دوکان، جہاں سیل لگی ہویٔ تھی، گھس گیٔں۔ کسی پسندیدہ چیز کی قیمت پوچھی تو دوکاندار نے ایک ہزار بتایا، لڑکی نے 500 روپے کا کہا، تو دوکاندار نے کہا چلو ٹھیک ہے، لڑکی نے کہا بھایٔ 100کا دیدیں گے، دوکاندار نے کہا، چلو ٹھیک ہے،بھایٔ مفت میں یہ چیز نہیں مل سکتی کیا؟ دوکاندار نے کہا چلو لے لو تو لڑکی ذرا ہنستی ہویٔ بولی، بھایٔ پھر دو دیجیے گا پلیز۔
.
قاضی نے ایک ریسٹورانٹ دیکھا جس کے دروازے پر کلمہ طیبٔہ لکھا ہوا تھا، خوشی خوشی اندر چلا گیا تو پتہ چلا کہ کھانے سے پہلے رقص کرنا ضروری ہے، قاضی کے ساتھی اور دوسرے مردو خواتین رقص میں شامل ہوگۓ اور کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ قاضی صاحب کے ساتھ تین اور بوڑھے اور بے ہنر لوگ اس موقع پر کف افسوس ملتے رہے۔
.
ایک رات کو یہ ایک پٹھان دوست کے ساتھ بیجنگ کی سیر پر نکلے۔ راستے میں دو چھوٹی بچیاں ایک اشتہار ہاتھ میں اٹھاۓنمدودار ہویٔیں اور نی ہاؤ کہکر وہ کاغز خان صاحب کو تھما دیں۔ خان صاحب نے کاغز لیکر بڑے مشفقانہ انداز میں بچیوں کے سر پر ہاتھ پھیرکرآگے چلا۔ خان صاحب کی تجسس بڑھتی رہی کی آخر اس پوسٹر پر چینی زبان میں کیا بات لکھی ہویٔ ہے۔ سامنے آنے والے ایک آدمی کو روک کر پوچھا کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ “میری ماں زبردست مالش کرتی ہے، آپ بھی اس سہولت سے فایٔدہ اٹھا سکتے ہیں” اس کے بعد پوری رات خان صاحب پر جگت بازی جاری رہیں۔
.
قاضی کی کتاب میں پڑھنے اور یاد رکھنے کی کافی باتیں موجود ہیں۔ مثلاً جنگلات کی حفاظت کیسے کی جاۓ؟آفات کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے؟ وقت کو کس طرح قیمتی بنایٔ جاسکتی ہے؟چین کی ترقی کا راز کیا ہے؟ چین اور پاکستان کا تقابلی جایٔزہ، دیوار چین کے حوالے سے معلومات اور دیگر مواد پاکستانیوں کے لیٔے قاضی کے پیغامات اور ترقی کر نے کے حوالے سے نصیحت آموز باتیں ہیں۔
اس سفر کے دوران خالد بن ولی کی موت کی خبر جو اس کا پرانا وفادار دوست تھا ان تک پہنچ کر، اس سیر کی مٹھاس کو بے مزہ کر دیتی ہے ۔عین جوانی میں ان کا دنیا سے اچانک رخصت ہونے پر جو قاضی کی حالت ہویٔ، اس کو بہت ہی غمگین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔خالد کی موت پر پورا چترال سوگوار ہو گیا تھا، اسی طرح وہ سوگ چین تک پھیل گیٔ تھی۔ میں نے قاضی سے پوچھا کہ آپکی تصاویر میں آپ کو خلاف طبع غمگین پایا، تو قاضی نےبتایا کہ اس کی دو وجوہات تھیں۔ بیجنگ میں حلال و حرام کی وجہ سے کھانے کا مسلہ درپیش رہا اور جی بھر کر کھا نہ سکے جو مجھ جیسے پیٹو انسان کے لے کسی آزمایش سے کم نہ تھا۔ فوجیان صوبے میں خالد کی اچانک وفات سے دل بہت اداس رہا جو میری تصاویر سے بھی عیاں ہے۔
.
کہنے اور لکھنے کو تو باتیں بہت ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ آپ لوگ خود کتاب پڑھ کر اس کا لطف اٹھایٔں۔ میں آخر میں اس کتاب کی ٹایٹل “جانان چینی” پر بات کرکے آپ لوگوں سے رخصت چاہوں گا۔ جس طرح قاضی جی نے کتاب میں ایک ایک لفط خوب جانج پڑتال کے ساتھ استعمال کیا ہے، اسی طرح اس کتاب کا ٹایٹل بھی بہت خوبصورت ہے۔
.
چین کے ظروف جو تمام دنیا میں چینی ظروف کے نام سے مشہور ہیں، کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ چین میں بادشاہت قایٔم ہونے سے ہزاروں سال پہلے یہ ظروف بناۓ جاتے رہے ہیں۔ جہاں تک جانان چینی کی بات ہے،یہ ہان خاندان قبل مسیح206 تا 220کی بادشاہت کے زمانے میں ایجاد ہوۓ اور شاہراہ ریشم کے زریعے سے ایشیا اور یورپ تک پھیل گۓ۔ جس طرح چترال میں کراکری کو چینی چاینک کہتے ہیں، انگریزی اور دوسری زبانوں میں بھی ان کو چاینیز کا نام دیا جاتاہے۔چترال میں مختلف شہزادوں اور اور امرا کے گھروں میں اب تک اصلی چینی برتن اور روسی پیالے گردنار موجود تھے لیکن گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق، بے جا استعمال یا سرکاری افسروں کو بطور تحفہ دینے سے اب معلوم نہیں کہ کہیں یہ موجود بھی ہیں یا نہیں۔ لیکن قاضی کے جانان چینی کی وجہ سے جانان چینی کا تذکرہ پھر سے ہونے لگا ہے۔
.
بہر حال میں قاضی صاحب کو اس طرح دلچسپ کتاب لکھنے پر دلی مبارک پیش کرتا ہوں۔ خدا کریں کہ مزید ملکوں میں جانا اس کو نصیب ہو اور ہمیں اور بہت سارے خٍوبصورت سفر نامے پڑھنے کو ملتے رہیں۔
.
(پروفیسر اسرارالدین، سابق چیرمین شعبہ جعرافیہ یونیورسٹی آف پشاور)


شیئر کریں: