Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مشیربرائے اطلاعات وتعلقات عامہ کی صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ‌) وزیراعلٰی کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبے کے تعلیمی ادارے، ہاسٹلز اکیڈمیز پندرہ دن کیلئے بند کردئیے گئے ہیں، سرکاری طور پر ہونے والے اجتماعات و ثقافتی فیسٹیولز بھی معطل ہیں جبکہ کے پی پی آر اے ایکٹ2012 اور رولز2014 کی دفعات سے استثنیٰ اور ڈائریکٹ سورسنگ کے ذریعے خریداری کی منظوری بھی کابینہ نے دی۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں واقع اطلاع سیل میں وزیر خزانہ و صحت تیمور جھگڑا کے ہمراہ میڈیا کو بریف کررہے تھے۔ کورونا وائرس سے لاحق خطرات بارے بلائے گئے کابینہ اجلاس کی تفصٰلات بتاتے ہوئے مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے ڈبلیو ایچ او یایونیسف کے ذریعے کیڑے مار اور لارو ایسڈ دوائی کی خریداری کیلئے کے پی پی آر اے ایکٹ2012 اور رولز2014 کی دفعات سے استثنیٰ اور ڈائریکٹ سورسنگ کے ذریعے خریداری کی منظوری دیدی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کے دائرہ کے بارے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ صوبائی کابینہ نے ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی جس کا کام پرائیویٹ کالجزاور یونیورسٹیز کی رجسٹریشن کی حد تک محدود تھا کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے خیبرپختونخوارجسٹریشن آف پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنزآرڈیننس2001 میں ترامیم کی منظوری دیدی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے اتھارٹی پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیز کی ریگولیٹری کے فرائض بھی سر انجام دے سکے گی۔اتھارٹی کسی پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ پالیسی guideline بھی وضع کرے گی اور کم سے کم معیار یقینی بنائے گی تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے معیاری تعلیم کو فروغ حاصل ہو اور یہ صرف پیسے کمانے کا ذریعہ نہ بنے۔کابینہ میں لئے گئے فیصلوں بارے بتاتے ہوئے اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے لوکل کونسل کی فیس جمع کرنے کی ذمہ داری بورڈ آف ریونیو سے دوبارہ لوکل گورنمنٹ کو تفویض کرنے کی منظوری دیدی ہے تاکہ TMA خسارے میں نہ رہے اور میونسل سروسز بطریق احسن سر انجام دئیے جا سکیں۔صوبائی کابینہ نے یو ایس ایڈ کی بعض سروسز کیلئے خریداری پر سیلز ٹیکس سے استثناء کی منظوری دیدی ہے۔یونیورسٹیوں کے حالیہ مالی مشکلات کے حل بارے کابینہ کاموقف بیان کرتے ہوئے مشیراطلاعات نے بتایاکہ زرعی یونیورسٹی پشاور کی مالی مشکلات حل کرنے کیلئے صوبائی کابینہ نے یونیورسٹی کو 490 ملین روپے کا قرضہ فراہم کرنے کی منظوری دیدی ہے اور اسکے ساتھ ہی صوبائی کابینہ نے کانجو ٹاؤن شپ میں چڑیا گھر کی تعمیر کیلئے 48 کنال اراضی لوکل گورنمنٹ سے وائلڈ لائف کو منتقل کرنے، لوکل گورنمنٹ کو288ملین بطورسپلیمنٹری گرانٹ اراضی کی مد میں ادائیگی کرنے اور چڑیا گھر کیلئے قابل عمل فیزیبلٹی سٹڈی کرنے کی منظوری دیدی ہے۔معاشرے کے غریب اور نادار طبقوں کو عدالتی معاملات میں قانونی مدد کی فراہمی بارے اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت کے access to justice development fund کے تحت ضلع باجوڑ، مہمند، اورکزئی، کولائی پالس، خیبر، شمالی وزیرستان اور چترال، تورغر، کرم، جنوبی وزیرستان اور اپر کوہستان میں ڈسٹرکٹ لیگل امپاورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل کی منظوری دیدی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں یہ کمیٹیاں پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہیں۔عدالتی کارروائی کو مزید سہل بنانے کیلئے کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کیلئے پانچ عدد گاڑیوں کی خریداری کیلئے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی میں نرمی کی منظوری دیدی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابینہ نے کے پی epidamicٰٰ ایکٹ کی روشنی میں ڈپٹی کمشنرز کو موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری اختیارات تفویض کر دیئے ہیں۔


شیئر کریں: