Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت میں اب تک 3 کورونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے..وزیراعلیٰ

Posted on
شیئر کریں:

تینوں مریض کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آئے ہیں۔ ملک کے ایئرپورٹس اور ملک کے بارڈرز پر سکریننگ کا نظام تسلی بخش نہیں ہے،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن
.
گلگت(آئی آئی پی) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، پاکستان ویژن کمپئن کی سربراہ تانیہ ادریس اور صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے ویڈیو کالنگ کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اب تک 3 کورونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ تینوں مریض کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آئے ہیں۔ ملک کے ایئرپورٹس اور ملک کے بارڈرز پر سکریننگ کا نظام تسلی بخش نہیں ہے۔ اگر بارڈرز اورایئرپورٹس پر باقاعدہ سکریننگ ہوتی اور تفتان میں قرنطینہ باضابطہ طریقے سے ہوتا تو یہ کیسز وہی پر تشخص ہوچکے ہوتے۔ صوبے اپنے طور پر اقدامات کررہے ہیں لیکن وفاقی حکومت کی وہ سنجیدگی نظر نہیں آرہی جو بین الاقوامی وبا سے نمٹنے کیلئے ہونے چاہئے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ترقیافتہ ممالک بھی کورونا وائرس کی وجہ سے بری طر ح متاثر ہوئے ہیں اور کنٹرول نہیں کرسکے۔ وفاقی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اب تک گلگت بلتستان حکومت کو وفاقی حکومت کی جانب سے کٹس اور ضروری آلات کی فراہمی نہیں ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ سکول بند کردیئے گئے ہیں۔ عوامی اجتماعات سے اجتناب کرنے کے ہدایات جاری کردیئے گئے ہیں۔ صوبے کے تمام اضلاع میں سرولینس ٹیمیں فعال ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والوں کی سکریننگ کی جارہی ہے۔ سکریننگ کی وجہ سے ہی کورونا وائرس کے تین مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت ایئرپورٹس اور بارڈرز پر قرنطینہ صحیح انداز میں کرے تو متاثرہ لوگوں کا داخلہ ممکن نہیں ہوگا۔ تفتان میں تمام زائرین کو ایک ساتھ رکھا جاتا ہے جو قرنطینہ کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ تمام لوگوں کو 14 دنوں کیلئے الگ الگ رکھا جائے تاکہ متاثرہ شخص کی الگ تشخیص ہو اور دیگر افراد متاثر نہ ہو۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ اگر تفتان میں قرنطینہ کا بندوبست نہیں کیا جاسکتا ہے تو زائرین کو حاجی کیمپ میں قرنطینہ میں رکھا جائے جس کے بعد اپنے علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔ محکمہ صحت کی جانب سے 30 مارچ تک سکول بند کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے گلگت بلتستان آنے والے 1500 سے 1441 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ دیگر افراد کی بھی سکریننگ کی جارہی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ ہے۔ وزیر اعظم پاکستان سے متعدد بار کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وزیر اعظم کے پاس اس اہم مسئلے پر بات کرنے کیلئے بھی وقت نہیں ہے۔ صوبہ سندھ اپنے طور پر کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات کررہاہے۔ اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص صوبائی حکومت نے کی ہے۔ ایئرپورٹس اور بارڈرز میں کسی ایک شخص کی بھی تشخیص نہیں کی گئی ہے۔ سندھ میں تین متاثرہ مریض دبئی سے آئے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے بھی بارڈرز کو بند کرنے اور ایئرپورٹس پر سکریننگ کا نظام سخت کرنے سمیت ویزا پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کی تجویز دی۔ وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کیساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں اس بات کا اعتراف کیا کہ تفتان میں قرنطینہ مروجہ اصولوں کے مطابق نہیں ہورہاہے جس کو بہتر بنایا جائے گا۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے آج وزیر اعظم پاکستان کے زیر صدارت ہونے والے نیشنل سیکورٹی اجلاس جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی شریک ہوں گے میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔


شیئر کریں: